جہاد اور تصور جہاد مسلم امہ میں کبھی بھی سرد خانے کی زینت نہیں بنا۔ انتہائی ادبار، کسمپرسی اور نوآبادیاتی یورپی طاقتوں کے قبضوں اور حکمرانی کے باوجود بھی دنیا میں ایک خطہ یا ایک جماعت ایسی ضرور رہی ہے جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے تلوار اٹھاتی رہی، ہتھیار چلاتی رہی اور قتال کے راستے پر گامزن رہی۔ جس وقت برطانیہ کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اسی دور میں سوڈان میں 1881ء میں مہدی سوڈانی کی جہادی تحریک نے جنم لیا۔ تلواروں اور نیزوں سے آراستہ انہوں نے برطانوی کالونی مصر کی فوج کے چار ہزار سپاہیوں پر العبید کے شہر میں قبضہ حاصل کرلیا جو جدید رائفلوں اور گولہ بارود سے لیس تھے۔ اس کے بعد فتح و نصرت کی کئی داستانیں ہیں، یہاں تک کہ انگریزوں نے مہدی کے بارے میں نفرت انگیز پروپیگنڈا شروع کروایا، اپنے غلام علماء سے فتوے دلوائے، جنہوں نے جہاد کو فساد سے تعبیر کیا اور ایک بہت بڑی فوج سے لارڈ کچنر (Lord Kitchener) کی سرکردگی میں حملہ کیا۔ مہدی سوڈانی انتقال کرچکے تھے۔ ان کے مقبرے کو مسمار کیا گیا، لاش نکال کر کھوپڑی علیحدہ کی گئی اور اس میں سیاہی ڈال کر میز پر دوات کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا۔لیکن یہی کچنر تھا کہ جب فتح سے واپس جا رہا تھا تو اس کا جہاز سمندر میں ڈوب گیا۔ برصغیر کے عام مسلمان جب انگریزی قانون کے سامنے سرنگوں ہو چکے تھے تو 1857ء کا جہاد شروع ہوا جس کو سیکولر لبرل مورخین نے جنگ آزادی کا نام دے کر اس کی اصل روح کوتاریخ سے مٹانے کی کوشش کی، مگر آج کا جدید مورخ ولیم ڈارلپل جس نے آرکائیوز کی تمام دستاویز کا مطالعہ کیا تو حیرت میں ڈوب گیا ، اس نے اپنی کتاب “The last Mughal” (آخری مغل) میں تحریر کیا ہے کہ یہ جنگ آزادی نہیں جہاد تھا اور صرف جہاد تھا جس کا فتوی جامعہ مسجد دلی سے جاری ہوا تھا۔ فتح کے نشے میں چور انگریز کو افغانستان میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جہاد کا یہ قافلہ چودہ سو سال میں کبھی رکا نہیں۔ اس لئے کہ میرے آقا سید الانبیاء ﷺنے فرمایا “میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر جہاد کرتا رہے گا اور وہ اپنے مدمقابل دشمن پر غالب آئیں گے۔ یہاں تک کہ ان کا آخری دستہ دجال کو قتل کرے گا” (سنن ابی داؤد۔ کتاب الجہاد)۔ گیارہ ستمبر سے کچھ پہلے اور گیارہ ستمبر کے بعد بھی قافلہ جہاد میں کبھی خاموشی اور ٹھہراؤ نہیں آیا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد کے پچھتر سال اس بات پر گواہ ہیں کہ فلسطین کی سرزمین ہو یا کشمیر کا خطہ، موزمبیق ہو یا مندناؤ، افغانستان ہو یا بوسنیا، چیچنیا ہو یا عراق مسلمانوں کی شمشیرِ خاراشگاف ان لوگوں نے بلند کیے رکھی جو میرے آقا کی ان بشارتوں کے امین تھے۔ اس جہاد کو کئی رنگ دئیے گئے، دشنام کے سو تیر چلائے گئے، بدنامی کے لیے تخریب کاری سے دہشت گردی تک کیا کچھ نہیں کہا گیا مگر یہ مجاہد ہر رنگ اور ہر روپ میں استعمار کے خلاف لڑتے رہے اور حق کی گواہی دیتے رہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد پوری دنیا ان لوگوں کے خلاف متحد ہو گئی۔ عالمی سطح پر ایک مشترکہ جنگ کا اعلان ہوا جسے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کہا جانے لگا۔ جارج بش کا وہ اعلان کہ “ہم تم پر زمین تنگ کر دیں گے”، اس بات کا اشارہ تھا کہ جس کونے کھدرے میں بھی کوئی شخص جہاد پر یقین رکھتا ہے اسے نشان عبرت بنا دو۔ اسی اعلان کے بعد ملا محمد عمر مجاہد نے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک اعلان اللہ نے بھی کیا ہے کہ “میری زمین بہت وسیع ہے ہم جہاں بھی جائیں گے اللہ ہمیں نصرت دے گا”۔ اس کے بعد سترہ سال یہ جنگ جاری رہی۔ اس عالمی جہاد کے تین بنیادی ستون تھے 1) قومی حدود سے بالا تر (Trans-National)جنگ، یعنی ایک ملک کا رہنے والا دوسرے ملک میں جا کر جہاد کر سکتا ہے۔ (2) خودکش حملوں کو ہتھیار بنانا اور 3) تکفیریت یعنی باقی دنیا کو عالم کفر کہہ کر ان سے مشترکہ جنگ کا اعلان کرنا۔ اسے عیسائیت میں “Ex communication” کہتے ہیں۔ یعنی تمام غیر عیسائی واجب القتل ہیں۔ یہ لفظ پہلی دفعہ صلیبی جنگوں میں استعمال ہوا تھا۔ یہ تینوں تصورات، دنیا کے ہر ملک میں جہاں جہاں القاعدہ اور اس سے منسلک جہادی گروہ موجود تھے وہاں اس حکمت عملی پر عمل ہوتا تھا۔ لیکن گزشتہ سترہ سالوں میں افغانستان کے طالبان نے اس سے بالکل مختلف راستہ اپنایا۔ انہوں نے جہاد کو افغانستان کی آزادی اور قابض امریکی فوج سے لڑنے تک محدود رکھا۔ خودکش حملوں کی بجائے براہ راست امریکی اور افغان فوج سے جنگ کی اور اس جنگ میں اگر خودکشی والی حکمت عملی اپنائی بھی تو محدود اور صرف فوج کے خلاف اور تیسری بات یہ کہ عالمی تکفیریت کو ترک کر دیا اور کہا کہ اپنے ملک میں کوئی جو کچھ بھی کرتا ہے کرے، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ یہی وہ حکمت عملی تھی جس نے طالبان کے جہاد کو فتح و نصرت اور کامیابی سے ہمکنار کیا۔ یوں تو امریکہ نے اپنی شکست اب تسلیم کی ہے، لیکن اس شکست کا تاثر آج سے پانچ سال قبل ہی شروع ہو گیا تھا۔اس کامیابی سے متاثر ہو کر 2016 ء میں شام میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم جبتہ النصرہ نے دو سو صفحات پر مشتمل اپنا بھرتی (Recruitment) کا مینول جاری کیا۔ پوری کتاب میں اپنے خطے اور اپنے ملک کو بنیاد بنا کر جہاد کرنے کی اہمیت پر دلائل دیے گئے اور عالمی جہاد کو فی الحال ترک کر دیا گیا۔کہا گیا کہ امریکہ اور یورپ دور دراز دشمن ہیں، ان تک اس وقت پہنچا جائے گا جب مقامی سطح پر جہاد کامیاب ہو جائے۔ ابو محمد جولانی جو جبتہ النصرہ کا راہنما ہے اس نے مئی 2015 ء میں الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم شام کو یورپ اور دیگر ممالک پر حملہ کرنے کا ایک مرکز (launchpad) کبھی نہیں بننے دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گروہ نے اپنا ایک سیاسی دفتر قائم کیا اور پڑوسی ملک ترکی کو بھی قائل کر لیا کہ وہ اپنی سرزمین ترکی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ خودکش حملوں کو صرف اور صرف ضرورت اور وہ بھی قابض فوج سے لڑنے تک محدود کردیا گیا۔ تکفیریت اور عالم کفر کی اصطلاحات کی بجائے اپنے علاقوں میں اسلام کے غلبے اور غیر ملکی قابض افواج کے خلاف جدوجہد کو مقدم قرار دیا گیا۔ آج کی اس نئی جہادی حکمت عملی کا بنیادی نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ قومی ریاستوں کی لائنیں عالمی طاقتوں نے اس لیے کھینچی تھیں اور انہیں اس لئے مقدس بنایا گیا تھا تاکہ عالم اسلام کبھی متحد نہ ہوسکے۔ہم متحد تو ہیں لیکن اس وقت ان ریاستوں کے خلاف جنگ ناممکن بنادی گئی ہے۔ اس لیے طالبان کی طرح ان کے اندر رہ کر جنگ کی جائے اور عالمی سطح پر صرف ہمدردی یا سیاسی مدد فراہم کی جائے اور امت مسلمہ کے تصور کو زندہ رکھا جائے۔ اس حکمت عملی کے بعد کشمیر میں اکہتر سالہ جدوجہد نے ایک نیا رنگ پکڑا ہے۔ وہاں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ ہم 71 سال سے بھارت کے خلاف لڑ رہے ہیں اور فتح ہمارے نصیب میں نہیں جب کہ طالبان 17 سال میں دنیا کی تمام عالمی طاقتوں کو شکست دے دیتے ہیں۔اس لئے کہ ہم صرف کشمیر کے خطے کی بات کرتے ہیں ،بھارت میں بسنے والے تیس کروڑ اور مظلوم مسلمانوں کو ہندو کی غلامی سے آزادی کی بات نہیں کرتے۔یہیں سے “مقبوضہ کشمیر “کی بجائے “مقبوضہ ہندوستان” کا نعرہ بلند ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ پلوامہ میں بھارتی فوج پر حملہ کرنے سے پہلے عادل احمد ڈار نے دو ویڈیو پیغام، ایک کشمیری میں سات منٹ اور دوسرا اردو میں دس منٹ کے جاری کیے تھے۔ اس نے کہا ہے کہ “دنیا بھر کے مسلمانوں کو بیرونی قبضے سے آزادی صرف شہادت کے ذریعے حاصل ہوگی۔ یہ راستہ جہاد کا وہی ہے جو طالبان نے اختیار کیا اور امریکہ کو افغانستان میں شکست دی”۔اللہ نے نصرت کا وعدہ افغانوں ، کشمیریوں ، شامیوں اور فلسطینیوں سے نہیں کیا ، مسلمانوں سے کیا ہے۔ جو افغانوں کی طرح مسلمان بن کر اٹھے گا فتح پائے گا۔