پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ چھ ہفتے بعد اللہ اور راستے بنائے گا ،شیر کو پنجرے میں بند نہیں رکھا جا سکتا ،نادر شاہی کا حکم تھاکہ نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں ڈالنا ہے ،نواز شریف کو کسی کرپشن پر نہیں بلکہ سی پیک لانے اور عوام کے آنسوپوچھنے پر سزا دی گئی ،کیا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف کو سزا دیتے ہوئے قانون کو مد نظر رکھا تھا، سابق چیف جسٹس پی ٹی آئی کے کارکن بنے ہوئے ہیں جن کا لندن پہنچنے پر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے بھرپور استقبال کیا ۔ کوٹ لکھپت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ یہ رہائی اس طرح کی رہائی نہیں ہے، چھ ہفتے کی رہائی ہے لیکن چھ ہفتے بعد اللہ اور راستے پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے پہلے ایٹمی دھماکے کئے تو سزا پائی ، اب سی پیک لانے ، ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے اور عوام کے آنسو پوچھنے پرسزا دی گئی ۔نواز شریف کو جب جیل میں ڈالا جا رہا تھا اس وقت قانون موم کی ناک بنا ہوا تھا کیونکہ حکم نادر شاہی یہی تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں ڈالنا ہے ،بیگم کلثوم نواز ایڑیاں رگڑ رہی تھیں لیکن کوئی ان کی تیمار داری نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ فیصلہ تھا۔کیا چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار نے قانون کو مد نظر رکھا ۔ نواز شریف نے حزیمت کا راستہ اپنا یا لیکن سر نہیں اٹھایا ،نواز شریف نے کہا کہ عوام اور سویلین بالا دستی کے لئے ہر تکلیف برداشت کروں گا لیکن سر نہیں جھکاؤں گا اور انہو ں نے تکلیفیں اٹھائیں ۔انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس (ر)ثاقب نثار پی ٹی آئی کے کارکن بنا ہوئے ہیں،لندن پہنچنے پر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے استقبال کیا اور اکٹھے پریس کانفرنس کی ۔ عمران خان کہہ کر عوام کی چیخیں نکلوا رہا ہے ، عمران خان کل تک نواز شریف سے پلاٹ گھر اور پیسے لیتا رہا ،نواز شریف دینے والا ہے لینے والا کرپٹ ہوتا ہے ۔ آج وہی عدالت ہے لیکن جسٹس (ر) ثاقب نثار نہیں تو بہتر فیصلے ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ علاج مریض کی مرضی سے ہوتا ہے حکومت کی مرضی سے نہیں، نواز شریف کی مرضی ہے لاہور میں پتوکی میں علاج کرائیں یہ انکی مرضی ہے۔ قابو ن میں کہاں لکھا ہے کہ علاج باہر سے کرانا ہے یا اندر سے ۔ علیمہ باجی کے پاس دو لاکھ نہیں ہونے چاہیے تھے لیکن انکے پاس اربوں کہاں سے آئے ، زکوۃ خیرات کا پیسہ علیمہ کو دے دیا گیا ہے ، عمران خان سمیت عنقریب یہ سب جیل میں ہوں گے ،تاریخ کا پہیہ گھومتا ہے آج نواز شریف جیل میں ہے تو کل کوئی اور ہو گا ۔