لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ لوگ کہتے ہیں بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے لیکن مجھے کسی کی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں جو مرضی لگا رہے۔

سپری کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میڈیکل کالجز کی فیسوں میں اضافے اور سہولیات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ میڈیکل کالجز میں کیا سہولتیں دی جاتی ہیں، دیکھنا چاہتے ہیں کہ میڈیکل کالجز میں کیا سہولتیں ہیں۔

چیف جسٹس کے ریمارکس

چیف جسٹس نے سماعت کے موقع پر ریمارکس دیئے کہ لوگ کہتے ہیں بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے، بابارحمت کیا کررہا ہے، اس حوالے سے مجھے کس کی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں جو مرضی لگا رہے، عوام کی بھلائی کے لیے کام کرتا رہوں گا۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ بابے کا تصور کہاں سے لیا، آج بتاتا ہوں، بابا وہ ہے جو لوگوں کے لیے سہولتیں پیدا کرتا ہے، یہ لوگوں کے مسائل حل کرنا چاہتا ہے، بابار رحمت کا تصور اشفاق احمد کی کتابوں سے لیا۔

سروسز اسپتال کا دورہ

دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان نے سروسز اسپتال لاہور اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ کیا۔

چیف جسٹس سروسز اسپتال کا دورہ کررہے ہیں: اسکرین گریب جیونیوز

جسٹس ثاقب نثار نے سروسز اسپتال کی ایمرجنسی اور دیگر شعبوں کا بھی جائزہ لیا، انہوں نے مریضوں کی شکایات سنیں اور ڈاکٹروں کو ہدایات دیں۔

چیف جسٹس کے دورے کے دوران ایک خاتون نے انہیں آگھیرا اور علاج کے لیے پیسے نہ ہونے کا بتایا جس پر جسٹس ثاقب نثار اسپتال انتظامیہ کو خاتون کے علاج کے لیے اخراجات پورے کرنے کی ہدایت دی