میانوالی: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جو سرمایہ کار 2012 میں کرپشن کی وجہ سے ملک چھوڑ کر گئے تھے وہ آج واپس آگئے ہیں۔

نمل یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک سے اربوں روپے چوری کیے گئے، بڑی بڑی کمپنیاں کرپشن کے باعث ملک چھوڑ کر چلی گئی تھیں لیکن اب ہمارا ملک اٹھ رہا ہے اور سرمایہ کار آرہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین میں 400 وزیروں کو جیلوں میں ڈالا گیا، حکمرانوں سے ان کے مال کے بارے میں پوچھنے سے جمہوریت خطرے میں نہیں پڑتی، جب ان سے جواب مانگو کہ پیسے کہاں سے بنائے تو یہ شور مچاتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا جو بھی لیڈر ہوگا وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوگا، جمہوریت میں میرٹ ہوتی ہے بادشاہت میں نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ لائیو اسٹاک میں دنیا میں ہم ساتویں نمبر پر ہیں لیکن خشک دودھ درآمد کرتے ہیں، ہمارے کسان گائے سے 6 لیٹر دودھ لیتے ہیں اور ہالینڈ میں 40 لیٹر لیتے ہیں، ہمارے کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی کا پتا نہیں، ہم جدید ٹیکنالوجی لے آئیں تو پوری دنیا کو اناج دے سکتے ہیں، ہم اپنی غلطیوں اور سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر پر تنقید اور وزیراعلیٰ پنجاب کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے عثمان بزدار کے لیے گھٹیا زبان استعمال کی، عثمان بزدار پنجاب کے سب سے بہترین وزیراعلیٰ ہوں گے کیونکہ ان کا مفاد پاکستان سے وابستہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار اپنی فیکٹریاں نہیں بنائیں گے، ان میں عاجزی ہے، چالیس گاڑیاں لے کر نہیں جاتے، ان کا علاج بھی پاکستان میں ہوگا اور وہ ایسے اسپتال بنائیں گے کہ لوگوں کو علاج کے لیے باہر نہ جانا پڑے اور وہ بہترین وزیراعلیٰ پنجاب بنیں گے۔

وزیراعظم نے طلبہ کو پیغام دیا کہ پیسہ بنانا زندگی کا مقصد نہ رکھیں، جن لوگوں نے پیسے کو زندگی کا مقصد بنایا ان کو آپ خوش نہیں دیکھیں گے، دوسرے انسانوں کی بہتری کے لیے کام کرنا اللہ کو پسند ہے، اپنی غلطیوں کاجائزہ لیں، محنت کریں اور اوپر آئیں۔