تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ تصوراتی کہانی آپ نے بھی ضرور اپنے بچپن میں پڑھ رکھی ہو گی کہ کسی شہر میں ایک مخبوط الحواس بوڑھا سائنس دان تھا جو اپنے گھر کے تہہ خانے کی تنہائی میں موجود لیبارٹری میں کوئی خفیہ تجربہ کرنے میں دن رات مصروف رہتا پھر ایک روز اس مخبوط الحواس سائنس دان سے مختلف کیمیائی عناصر کے ملاپ میں سنگین غلطی ہو جاتی ہے اور اس کی لیبارٹری میں ان کیمیائی عناصر کے ملاپ سے ایک عجیب غریب مخلوق پیدا ہوتی ہے اب وہ سائنس دان اس نئی عفریت کو پھیلنے سے روکنے میں ناکام رہتا ہے وہ عفریت بڑھتے بڑھتے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔آپ شاید حیران ہو جائیں لیکن یہ سچ ہے کہ اس کہانی سے ملتا جلتا ایک واقعہ چائنا کے شہر بیجنگ میں 2003ء میں پیش آ چکا ہے۔ جب بیجنگ شہر میں چائنیز سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پروٹیکشن کے پانچ سائنس دانوں کی سنگین غلطی کی وجہ سے SARSوائرس چائنا سے نکل کر دنیا بھر کے 26ملکوں تک پھیل گیا کم و بیش آٹھ ہزار افراد اس کی لپیٹ میں آ گئے اور سینکڑوں لوگ اس وائرس کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے گئے۔ تجرباتی عمل کے دوران سنگین غلطی کرنے والے پانچ سائنس دانوں کو بعدازاں سخت سزائیں دی گئیں۔ یہ اور بات کہ پہلے پہل چین نے اپنے سائنسدانوں کی اس بھیانک غلطی پر پردہ ڈالنے اور اسے خفیہ رکھنے کی بھر پور کوشش کی تھی یہاں تک کہ ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں کو بھی سچ تک رسائی دینے سے گریز کیا تھا مگر پھر بالآخر یہ معاملہ دنیا پر آشکار ہو ہی گیا۔ اُس وقت صورت حال یہ تھی کہ چین کے ٹی وی چینلز SARSبیماری سے بچائو کے حفاظتی اقدامات والے اشتہارات بھی نشر کرنے میں آزاد نہ تھے۔ عام چینی اگر اس بیماری کا تذکرہ ٹی وی پر آ کرتے تو ان کے خلاف قومی راز افشا کرنے جیسے سنگین الزامات لگائے جاتے اس وقت سوشل میڈیا کا استعمال یوں بھی محدود تھا اور چین میں تو اس پر مکمل پابندی تھی۔اب 2020ء کے آغاز میں جبکہ چین میں نئے سال کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔ ایک بار پھر کرونا وائرس کے خوفناک پھیلائو نے دنیا کو ایک خوف میں مبتلا کر دیا ہے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ وائرس کیسے اور کہاں سے پھیلا؟ چونکہ اس وائرس کے پھیلائو کا مرکز‘ چین کا وسطی شہر وہان ہے۔ تو آغاز میں کہا گیا کہ وہان کی مچھلی مارکیٹ جہاں سی فوڈ بیچا جاتا ہے۔ وہاں سے یہ وائرس پھیلا۔ لیکن پھر جلد ہی اس کی نفی کر دی گئی۔ کیونکہ اس وائرس کے ابتدائی 41کیسوں میں سے 13کیس ایسے تھے جن کا مچھلی مارکیٹ سے کوئی ربط ثابت نہیں ہوا۔کچھ سائنس دان SARSکی مزید پیچیدہ شکل کرونا وائرس کو قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ اسی وائرس ہی کا ایک تسلسل ہے۔ جسے اس صدی کی پہلی دہائی میں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔اور دوسری دہائی کے آغاز پر یہ مزید بگڑی ہوئی شکل میں حملہ آور ہوا ہے۔ابھی حتمی طور پر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا کہ آخر یہ بھیانک وائرس کس ذریعے سے پھیلا۔ مختلف رائے دی جا رہی ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس وائرس کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد وہ ہیں جن کی غذا میں سانپ اور چمگادڑیں شامل ہیں۔اس سے پہلے SARSوائرس کے حوالے سے بھی یہ ثابت ہو چکا کہ یہ وائرس چمگادڑ سے پھیلا تھا۔ ان دونوں وائرسوں سے ہونے والی بیماری کی علامات بھی تقریباً ایک جیسی ہیں۔اللہ رحم کرے ہمارے چینی بھائی بھی تو روئے زمین پر اڑنے اور چلنے والی کوئی مخلوق چھوڑتے نہیں۔سب ہڑپ کر جاتے ہیں۔ حلال و حرام ‘ گندگی اور صفائی ‘ پاکیزگی و کراہت کا کوئی تصور ان کے ہاں موجود نہیں ہے۔ ان کی فوڈ مارکیٹس کے ایسے ایسے کریہہ ‘ مناظر ہیں کہ لکھتے ہوئے قلم کو بھی جھرجھری آ جائے۔جب سے کرونا وائرس کو چمگادڑ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے چمگادڑ کا سوپ پیتے اور اس کا باربی کیو کھاتے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کرنے والی ایک سوشل میڈیا فن کارہ نے باقاعدہ سوشل میڈیا صارفین سے معافی مانگتے ہوئے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے اور کہا ہے کہ مجھے اندازہ نہ تھا کہ میں اپنے ولاگ میں انتہائی خوفناک چیز کی ترویج کر رہی ہوں۔بہرحال کرونا وائرس سے جڑے ہوئے حقائق اور مناظر ایسے ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس دنیا کے خالق نے ہمارے کھانے پینے‘ رہن سہن اور زندگی کے طور ‘ اطوار میں جو حلال و حرام‘ جائز و ناجائز پاکی اور ناپاکی کی حدیں قائم کر رکھی ہیں اسی میں انسان کی بقا اور نجات کا سامان ہے۔ فطرت کی ان حدود کو توڑنے والا انسان خود اپنے اوپر عذاب الٰہی کو دعوت دیتا ہے۔کرونا وائرس کو اللہ کا عذاب تو امریکہ کا ایک پادری بھی برملا کہہ رہا ہے۔ کسی مسلمان کی بات کو تو دنیا بنیاد پرستی کہہ کر جھٹلا دے گی۔ لیکن ایک غیر مسلم پادری وہی بات کر رہا ہے کہ فطرت کی قائم کردہ حدود کو توڑنا ہی انسان کی بربادی کا باعث ہے۔ وہان‘ چین کا وہ شہر ہے جہاں کرونا وائرس نے تباہی پھیلا رکھی ہے۔ گنجان آباد شہر کی گلیوں‘ شاہراہوں اور بازاروں میں موت کی ویرانی رقص کر رہی ہے۔ مگر ہسپتالوں کے باہر بلا خوف ابتدائی ٹیسٹوں کے لئے قطار میں کھڑے خوف زدہ لوگوں کا ہجوم ہے۔ ہزاروں افراد لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔ وائرس کے پھیلائو سے محفوظ رکھنے والے ماسک کی شارٹیج ہو چکی ہے۔ بیجنگ میں دو بڑے ہسپتال 15دنوں میں تعمیر کرنے کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔وہان شہر میں بیسیوں پاکستانی طلبہ حکومت پاکستان کی طرف سے تعاون اور امداد کے منتظر ہیں کہ انہیں موت اور خوف کے اس شہر سے نکالا جائے۔امریکہ ‘ بھارت‘ جاپان‘ برطانیہ اپنے شہریوں کو وہان سے نکال چکے ہیں جبکہ پاکستان کی اپنے شہریوں کے لئے یہ بے حسی اور پراسرار خاموشی سمجھ سے باہر ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس صرف چین تک محدود نہیں‘ دوسرے کئی ملکوں تک بھی پھیل رہا ہے۔ حکومت پاکستان کو اس کی مکمل روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہیے۔انفرادی طور پر ہم سب کو یہ حفاظتی اقدامات کرنے چاہئیں کہ صدقہ و خیرات کریں‘ استغفار کا ورد کریں اور رسول کریمؐ کی سنت مبارکہ میں بتائی گئی وبائی امراض سے بچائو کی دعائیں صبح و شام پڑھنے کا اہتمام کریں۔ اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے۔

روزنامہ 92 نیوز