کرسمس فادر/سینٹا کلاز

کیا حقیقت کیاا فسانہ

بچپن میں سُرخ چوغہ پہنے چہرے پر سفید داڑھی سجائے اور کاندھے پر لال تھلا اُٹھائے کرسمس فادر یا عرفِ عام میں سینٹا کلاز کس کو پسند نہیں ؟ یقینا سینٹا کلاز کرسمس کے سیزن میں بچوں کا من پسند کردار ہے۔ بچپن میں سینٹا کلاز کے بارے میں کچھ خاص علم نہیں ہوتا ماسوائے اس کے کہ اسکا تعلق کرسمس سے اور کرسمس کے تہوار پر یہ چرچز میں گلیوں میں نظر آتا ہے۔

لیکن اب عمر کے اس حصہ میں پہنچ کر یہ سوال ذہن میں اُٹھتا ہے کہ جناب ان موصوف کا کرسمس کے تہوار میں کیا کام ہے ؟ یہ ہیں کون اور کہاں سے کرسمس کے تہوار سے منسلک ہوگے ؟ انکی مذہبی حیثیت کیا ہے اور یہ کیوں ہر سال ماہِ دسمبر اور کرسمس کے سیزن میں نظر آنے لگتے ہیں اور انکا تذکرہ ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر کیوں ہوتا ہے۔ زیر نظر تحریر میں راقم نے نہایت غیرجانب داری کے ساتھ بنا کسی مسلکی تعصب کے مغربی ادب میں سینٹا کلاز یا کرسمس فادر کے متعلق موجود روایات کو مختلف ذرائع سے جمع کیا ہے جس کی تصدیق از خود بذریعہ تحقیق کی جاسکتی ہے۔

راقم الحروف نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ اس مقالہ میں محض ان مستند اور ٹھوس روایات کو شامل کیا جائے جو مغربی ادب اور معاشرے میں عام ہیں۔

ذیل میں ہم ان مضامین کے تحت سینٹا کلاس پر غور و خوض کرنے کی کوشش کریں گے ۔

• سینٹا کلاز کون ہیں ؟
• سینٹا کلاز اور کرمپس و دیگر
• سینٹا کلاز کی خصوصیات
• سینٹا کلاز یا سینٹ نکولس
• سینٹا کلاز قدیم مذاہب میں
• کرسمس اور سینٹا کا تعلق

• سینٹا کلاز کون ہیں؟

سینٹا کلاز یا سینٹ نیک ،سینٹ نیکولس ، کرس کرینگل اور فادر کرسمس مغربی معاشرے کا ایک افسانوی کردار ہیں، جن کے حوالہ سے مشہور ہے کہ وہ کرسمس کے موقعہ پر اچھے بچوں کیلئے مختلف تحائف لیکر آتے ہیں ۔ روایتاً موجودہ سینٹا کلاز قطب شمالی (North Pole) میں رہتے ہیں جہاں کا پتا دنیا میں کسی شخص کو نہیں۔ سینٹا کلاز کے پاس ایلفز(Elfs) یعنی بونوں کی فوج ہے، جو تمام سال نارتھ پول میں موجود سینٹا کے گاوں میں کھلونے تیار کرتے ہیں۔ سینٹا کلاز کے پاس اُڑنے والےآٹھ ہرن ہیں جو انکی بگی کو کرسمس کی رات ( ۲۴ کی رات ) کو اُڑاتے ہیں۔ سینٹا کلاز سارا سال نارتھ پول میں موجود اپنے گاوں میں اچھے اور برے بچوں کی فہرست تیار کرتے ہیں جن میں انکی مدد بونے کرتے ہیں اس فہرست کی مدد سے سینٹا کلاز اچھے بچوں میں تحائف بانٹتے ہیں نیز بُرے بچوں کو سزا دینے کیلئے سینٹا کلاز کا ایک ساتھی بھی روایت کیا جاتا ہے جسکا نام کرمپس ہے۔

موجودہ سینٹا کلازسرخ رنگ کا چوغہ پہنتے ہیں اور انکی دودھ سی سفید داڑھی بھی ہے۔ انکا پیٹ بڑھا ہوا ہے اور وہ شکل و صورت سے قریباً ساٹھ یا ستر برس کے معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم سینٹا کلاز ہمیشہ سے ایسے نہیں دیکھتے تھے سینٹا کلاز کا موجودہ سُرخ لباس مشہورِ زمانہ مشروب ’’کوکا کولا ‘‘ کے ایک اشتہار کا دیا ہوا ہے تاہم سینٹا کی ظاہری شکل صورت اس سے کہیں پہلے ۱۸ویں صدی میں تھامس نسٹ نے پیش کی تھی۔ موجودہ لباس سے قبل سینٹا کلاز عموما بشپ کے روایتی لباس میں پیش کئے جاتے تھے یا پھر بچوں کے ادب میں انہیں سبز رنگ کے ملبوسات اور سر پر پتوں سے بنے تاج پہنے دیکھا جاتا تھا۔ تھامس نسٹ نے ایک ایسے سینٹا کلاز کا تصور پیش کیا جو ا ٓج کے سینٹا کلاز جو ہمیں مختلف مغربی تضانیف و تصاویر ، فلموں اور کرسمس کارڈز وغیرہ پر دیکھائی دیتا ہے قدر مختلف تھا۔ تھامس نسٹ کا سینٹا کلاز در اصل ایک بڑھی ہوئی توند والا بوڑھا بونا تھا، کارٹونسٹ تھامس نسٹ نے قریباً تیس سال تک مختلف اخبارات میں اس طرح کے سینٹا کلاز کو بنا کر پیش کیا۔ تاہم بعد ازاں ۱۹ویں صدی کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں سینٹا کلاز نے اپنی موجودہ شکل تب اختیار کرنی شروع کی جب مشہورِ زمانہ مشروب کوکا کولا نے سینٹا کو اپنے مشروب کے اشتہارات میں لینا شروع کیا۔

بہر کیف بونا سینٹا ہو یا طویل قدمت کا سینٹا کلاز ان کےمتعلق زیادہ تر موجودہ دیومالائی روایات کا ماخذمشہورِ زمانہ نظم ’’ آ نائٹ بیفور کرسمس ‘‘ ہے، جو ۱۸۲۳ میں لکھی گئی۔ اسکا اصل نام ’’ آ وزٹ فرام سینٹ نیکولس ‘‘ہے۔ ہم ذیل میں سینٹا کلاز کے ساتھیوں کا مختصر تعارف بھی پیش کررہے ہیں جو موجودہ سینٹا کلاز کی روایات کا ایک لازم حصہ اور جز ہیں۔

کرسمس کے بونے ( Christmas Elf)

انکی شکل و صورت کے حوالہ سے مغربی ادب میں تضاد موجود ہے ، کچھ مصور انکو چھوٹے بچوں کی صورت کا دیکھاتے ہیں اور کچھ انکو باریش بوڑھے مگر چھوٹے قد کا بنا کر پیش کرتے ہیں تاہم عموما ان لمبے کانوں والے چھوٹے قد کے افراد کو ہرے رنگ کے لباس اور سرخ موزے اور دستانے پہنے دیکھایا جاتا ہے ۔ یہ نارتھ پول میں سینٹا کلاز کے ساتھ رہتے ہیں اور انکی مدد کرتے ہیں انکے کاموں میں سینٹا کے ہرن کی دیکھ بھال کرنا ، انکی کھلونوں کی فکٹری میں کام کرنا اور دیگر گھریلو امور کی ادائیگی شامل ہے.

اُڑھنے والے ہرن ( Flying Reindeer)

سینٹا کے پاس آٹھ عدد اُڑھنے والے خاص ہرن ہیں جنکو رینڈیر کہا جاتا ہے۔ یہ تنڈرا شمالی امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہرن کے خاندان کی واحد قسم ہے جس کے نر اور مادہ دونوں کے سر پر سنگھ ہوتے ہیں۔برفانی علاقوں میں انکو برف پر پھسلنے والی گاڑیوں میں جوتا جاتا ہے۔ سینٹا کلاز کے رینڈیرز کی خاصیت یہ ہے کہ یہ اُڑھ سکتے ہیں۔ یہ تعداد میں آٹھ ہیں اور انکے نام کچھ یوں ہیں:-

1) ڈیشر
2) کومیٹ
3) ڈونڈر
4) پرانسر
5)ڈانسر
6)کیوپیڈ
7)بلیٹزن
8)ویکزن یا ویچسن

کرمپس(Krampus)

دیو مالا کہانیوں میں کرمپس کا تذکرہ سینتا کلاز یا کرسمس فادر سے بھی پرانا ہے تاہم مغربی ادب میں کئی ایک مقامات پر کرمپس کو سینٹا کا معاون دیکھا جاتا رہا ہے۔ مشہورِ زمانہ ’’ سینٹ نیکولس وزٹ ٹو ویاناز ہوم ‘‘۱۸۹۶ میں سینٹ نیکولس اور کرمپس کو ایک ساتھ دیکھایا گیا ہے۔ کرمپس کے حوالہ سے مختلف حلیے بیان یا روایت کئے جاتے ہیں ہم یہاں ’’ سینٹ نیکولس اور کرمپس ویانا کے گھروں میں‘‘ کے روایت کردہ کرمپس کا حلیہ لکھ رہے ہیں۔

کرمپس آدھا بکرا اور آدھا شیطان ہے۔ چہرے کے اعتبار سے یہ نہایت بھیانک ہے اور اسکے سر پر دو بڑے سنگھ ہیں۔ یہ بکرے کی شکل والا حیوان بُرے بچوں کو اپنی کمر پر بندھے تھلے میں بھر کر لے جاتا ہے۔ جبکہ گھر کے اچھے بچوں میں سینٹ نیکولس یا سینٹا کلاز انعام و اکرام بانٹتے ہیں۔

• سینٹا کلاز کی خصوصیات

روایتی سینٹاکلاز یعنی کرسمس فادر ظاہری طور پر ساٹھ، ستر یا پھر اَسی سال کے ہیں تاہم انکی عمر کا درست اندازہ کسی کو نہیں وہ صدیوں سے ایسے ہی ہیں وہ امر ہیں کبھی مرتے نہیں ہیں، انکے پاس جادوئی ہرنوں سمیت بونوں کی پوری فوج ہے جو انکے ہر حکم پر دنیا کے ایک انجان کونے میں سر تسلیم خم کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہے ۔علاوہ ازیں مغربی ادب کے مطابق سینٹا سے ہر سال بچے مختلف قیمتی تحائف کی فرمائش کرتے ہیں ماہِ دسمبر کے شروع ہوتے ہی روایتی مغربی بچے اپنے گھر کی چمنیوں پر ( جہاں سے سینٹا کلاز اپنی بڑی توند کے باجودہ اپنی جادوئی طاقت کے سبب گھر میں داخل ہوتے ہیں) اپنی فرمائشیں لکھ کر کرسمس سوکس( موزوں) میں ڈال کرلٹکاتے ہیں ۔سینٹا کلاز سال بھر اچھے اور برے بچوں پر نظر رکھتے ہیں تاکہ سال کے آخر میں کرسمس کے موقعہ پر انکو انعام و اکرام یا پھر کرمپس کے حوالہ کرسکیں ۔

• سینٹا کلاز یا سینٹ نکولس

روایت ہے کہ موجودہ سینٹا کلاز در اصل ترکی کے شہر مائرہ کے ایک بشپ بنام سینٹ نکولس کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ یہ ۱۵ مارچ ۲۷۰ کو پاٹرا میں پیدا ہوئے۔ یوں تو سینٹ نکولس کی کوئی تصویر نہیں تاہم ترکی کے گرجا گھروں میں لگائی جانے والی روایتی تصویروں کی مماثلت اگر موجودہ سینٹا سے کی جائے تو دونوں کا کوئی دور دور تک تقابل نہیں۔ سینٹ نکولس کے حوالہ سے بہت سی روایات مشہور ہیں تاہم جو ہمارے مضمون سے علاقہ رکھتی ہیں انکے مطابق آپ غریب غربا میں کرسمس کے سیزن میں تحائف بانٹا کرتے تھے اس حوالے سے سب سے مشہور روایت یہ ہے کہ آپ غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے مالی مدد کیا کرتے تھے ۔ آپ کا انتقال ترکی کے شہر مائرہ میں ۶ دسمبر ۳۴۳ کو ہوا۔ اس خطے میں آپ سے منسوب کئی تاریخی مقامات اور گرجا گھر آج بھی موجود ہیں۔ ہر سال اس خطے کے کئی علاقوں میں آپکے انتقال کے دن یعنی ۶ دسمبر کو آپکی عید بھی منائی جاتی ہے۔

• سینٹا کلاز اور سینٹ نکولس کا تقابلی جائزہ

سینٹ نکولس ۱۵ مارچ ۲۷۰ عیسوی میں پیدا ہوئے جبکہ سینٹا کلاز کی پیدائش کے حوالہ سے کوئی دستاویزی شہادت موجود نہیں۔

سینٹ نکولس کی پیدائش پاٹرا میں ہوئی اور آپ نے اپنی خدمت ایشائے کوچک میں مرتے دم تک سرانجام دی جبکہ سینٹا کلاز کا تعلق نارتھ پول کے علاقہ سے ہے۔

سینٹ نکولس کا انتقال مائرہ میں ۶ دسمبر ۳۴۳ میں ہوئی جبکہ سینٹا کلاز کی موت کے حوالے سے بھی کسی دستاویز میں کوئی شہادت موجود نہیں۔

سینٹ نکولس غریب غربا بلخصوص غریب لڑکیوں کی مالی مدد کیا کرتے تھے ، جبکہ سینٹا کلاز اچھے اور برے کے معیار پر بچوں میں تحائف بانٹتے ہیں۔

سینٹ نکولس ایک عام سے انسان تھے جبکہ سینٹا کلاز جادوئی طاقتوں کے مالک ہیں ۔
سینٹ نکولس کے پاس کسی قسم کے ہرن نہیں تھے جبکہ سینٹا کلاز کے پاس آٹھ عدد اُڑھنے والے ہرن موجود ہیں۔

سینٹ نکولس کے پاس کسی قسم کی تائب فوج نہ تھی جبکہ سینٹا کلاز کے پاس بونوں کی ایک بڑی فوج ہے جو انکی خدمت پر معمور ہیں۔

یہ چند بنیادی اور واضح فرق ہیں جو ان دو شخصیت کے ایک دوسرے سے قدر مختلف ہونے کی قوی دلیل ہیں ۔ اب ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر سینٹا کلاز سینٹ نکولس نہیں تو پھر یہ حضرت کون ہیں ؟ اس حوالے سے کئی مختلف روایات موجود ہیں جنکا ہم ذیل میں ذکر کررہے ہیں قارئین سے التماس ہے کہ وہ سینٹ نکولس اور سینٹا کا تقابلی جائزہ ان روایات کے زمرہ میں ضرور کریں۔

• سینٹا کلاز دیگر تہذیب اور معاشروں میں

جرمانی تہذیب میں کرسمس کی ایک شکل Yuleکے نام سے موجود ہے۔ یاد رہے کہ کرسمس یعنی ۲۵ دسمبر کا تہوار در اصل بت پرستانہ تہوار کا چربہ ہے جسکو ۳۳۵ میں مسیحی بناکر پیش کیا گیا، یہ پہلے پہل رومی اور یونانی دیوتاوں کی پیدائش کے دن کے طور پر منایا جاتا تھا۔ یُول کا تعلق جرمانی دیوتا اوڈین سے ہے۔ اوڈین طویل قامت اور دارز ریش والا ایک بوڑھا ہے جو یُول کے تہوار پر اچھے بچوں کو جزا جبکہ بُرے بچوں کو سزا دیتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اوڈین سے منسلک روایات میں اسکے پاس سلیپنر (Sleipnir) نامی ایک عدد آٹھ ٹانگوں والا گھوڑا ہے جس پر وہ سواری کرتا ہے۔

روسی روایات میں ڈیڈ موروز (Ded Moroz) نامی شخص کی روایت ہے اسکے نام کے معنی ’’جنگل کے دادا یا پھر جنگل کے بوڑھے‘‘ کے ہیں۔ یہ بھی ایک دیومالائی کرادر ہے جسکی لمبی سفید داڑھی ہے اور یہ جنگل میں رہتا ہے اور نئی سال ( ۳۱ دسمبر) کی رات گھروں میں آکر انعام و اکرام بانٹتا ہے۔

یورپی تہذیبوں میں ایک اور دیومالائی کرادر کرسمس فادر مشہور ہے جو ہرے رنگ کے کپڑے پہنتا ہے اور سر پر پتوں سے بنا تاج رکھتا ہے اور یہ بھی کرسمس پر اچھے اور برے بچوں میں انعام بانٹنے کے ساتھ ساتھ سزا بھی دیتا ہے۔

کئی ایک مغربی روایات کے تحت سینٹا اور کرمپس ایک ہیں کرمپس سینٹا کا سخت روپ ہے جو برے بچوں جبکہ سینٹا کلاز والا روپ اچھے بچوں کو نظر آتا ہے اور دونوں اپنی دیوٹی ایک ہی رات کو ادا کرتے ہیں۔

• کرسمس اور سینٹا کا تعلق

عام تاثر یہ ہے کہ کرسمس مسیح خداوند کی پیدائش کا دن ہے، جو کہ ہرگز نہیں ! یہ ایک ایسا مقدس جھوٹ ہے جو اہلِ کلسیا صدیوں سے عبادت خانہ کے مقدس گردانے جانے والے منبر پر سے صدیوں سے سنتے اور روایت کرتے چلے آئے ہیں۔ مسیح خداوند کی اصل تاریخ پیدائش کا ۲۵ دسمبر کی تاریخ سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ ۲۵ دسمبر در اصل جشن زحل کے تہوار کا چربہ ہے جسکو نقایہ کی کونسل میں مسیح خداوند کے تناظر میں منانے کی پیشکش رکھی گئی۔

مورخین بیان کرتے ہیں کہ نقایہ کی کونسل کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی کہ چونکہ اس دن پوری رومی سلطنت میں بڑے پیمانے پر چھٹی اور عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے لہذا مناسب ہے کہ مسیحیوں کیلئے بھی اس دن میں دلچسپی پیدا کی جائے۔ اس تجویز کے رکھے جانے اور قبولیت کی سند حاصل کرنے کے ۱۶ سال بعد پہلی بار ۳۳۶ میں دستاویزی اعتبار سے ۲۵ دسمبر کا دن مسیح خداوند کے جنم دن کے طور پر منایا گیا اور اہلِ کلیسیا کے ذہنوں میں یہ مقدس جھوٹ پلانٹ کردیا گیا ہے کہ یہ مسیح خداوند کا جنم دن ہے اور اس دن ہم اپنے خداوند کیلئے خوشی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ

بادی النظر میں دیکھا جائے تو ہمارے سامنے سینٹا کلاز جیسے روایتی اور دیومالائی کرادر ہیں جن کا ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ’’ کرسمس کے تہوار کے پیچھے ایک ایسے روح کارفرما ہے جو ہمیں مسیح کے پاس نہیں بلکہ ان سے دور کررہی ہے۔‘‘

سینٹا کلاز کا کرسمس کے تہوار میں کیا کام ہے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جسکو ’’ کھلے ذہن ‘‘ یعنی برواوڈ مائنڈڈ لوگ سن کر ناگواری کا اظہار کرتے ہیں انکے نزدیک سینٹا کلاز کی موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے یہ محض ایک شو پیش ہے وغیرہ وغیرہ ۔

اس نامعقول سی دلیل کو اگر ہم لیکر چلیں تو ہندوں کے ۳۳ کروڑ دیوی دیوتاوں کے مجسمے محض شوپیش ہیں ان سے فرق نہیں پڑتا، بعل پرستی، بعل کے مجسمے یہاں تک کے مسیح اور مقدسہ مریم کے بت نما مجسموں سے کسی کو فرق نہیں پڑنا چاہے کیونکہ یہ بھی تو محض شو پیش ہوسکتے ہیں۔ اس پر تاویل یہ فرمائی جاتی ہے کہ دیکھیں ان بتوں یا مجسموں سے تو دعائیں کی جاتی ہیں منتیں مانگی جاتی ہیں انکی عبادت کی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

دیکھا جائے تو یہ تمام امور تو سینٹا کی ذات سے بھی منسلک ہیں یعنی بچے سینٹا کو خط لکھ کر اپنا سینٹا کلاز پر یقین ظاہر کرتے ہیں اپنی اچھائیوں کا واسطہ دیکر سینٹا کلاز سے تحفے تحائف کی مانگتے ہیں، سینٹا کلاز کے بارے میں یقین رکھا جاتا ہے کہ وہ جادوئی طاقتوں سے لیس ایک امر ہستی ہیں ”جسکی عمر کا نہ شروع ہے نہ آخر ہے۔”

ایسے میں بہت سے دیسی احباب کی یہ تاویل سامنے آتی ہے کہ جناب یہ سب ویسٹ کے چونچلے ہیں پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے

ان حضرات کو اپنی کہی بات کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ایک زمانہ تھا جب پاک و ہند کے مسیحی سینٹا کلاز کے نام سے بھی بے بہرہ تھے تاہم مغربی دنیا سے سینٹا کلاز نامی یہ دیومالائی کرادر برصغیر پاک و ہند بلآخر پہنچ ہی گیا اور اس ہی طرح کی مقبولیت یہاں بھی حاصل کرچکا ہے جو اسکو مغربی دنیا میں حاصل تھی۔ تو اب اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ہمارے یہاں سینٹا کلاز سے منسوب عقیدت مندانہ دستور و رسم و رواج موجودہ ترقی یافتہ دور میں رواج نہ پائیں گے ؟
اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ کے اس زمانے میں بچے سینٹا کلاز سے متاثر ہوکر اسکے بارے میں کھوج لگانے کے بعد کیا ان روایات اور رسوم تک نہیں پہنچ سکتے جن سے مغربی دنیا کے بچے آشنا ہیں ؟

کیا یہ کوئی مشکل امر ہے موجودہ دور میں ؟ ہرگز نہیں !

وقت ہے کہ اس افسانوی کرادر کو اس تہوار سمیت اپنی زندگیوں سے نکالا جائے جسکی نیو ایک جھوٹ اور سیاسی اور ثقافتی ہیرا پھیری پر رکھی گئی اور خداوند خدائے قدوس کے کلام اور انجام کی جانب لوٹا جائے۔

حاصل تحریر: سینٹا کلاس مغربی دنیا کا ایک جادوئی دیومالائی کرافٹ ہے جسکاکہ بائبل اور مسیح خداوند سے کوئی لینا دینا نہیں یہ ایک فرضی تہوار کی بدولت ہماری زندگیوں میں داخل ہوچکا ہے اور جلد یا دیر سے یہ خود سے منسوب مغربی اور دیومالائی وضاحتیں لیکر مسیحی قوم کے بچوں پر حملہ آور ہونے کو ہے۔

دعا ہے کہ خداوند آپکو اپنے کلام میں ترقی اور اپنی زندگیوں سے غیر ضروری چیزیں ترک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

دعا گو

وقار آرئین خان
لسبیلہ بلوچستان