جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے اور کسی کو اسے کاٹنے نہیں دیں گے۔

کراچی کے باغ جناح میں اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ عزم کرنا ہوگا کہ ترقی کے لیے کراچی میں امن اور سکون لانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی طور پر کراچی کو فتح کرنا ہے، سندھ کو قابضین سے آزاد کرانا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ملک میں ہم آہنگی کی بات کی ہے، علاقائی نفرتوں کو ختم کرنے کی بات ہمارے علماء نے کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کراچی میں رہنے والے تمام زبانیں بولنے والوں کو ایک برادری سمجھتے ہیں۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کو امریکی جنگ کا حصہ بناکر دلدل کی طرف دھکیلا گیا، وقت کے آمر نے پاکستان کے وقار کو غیروں کے ہاتھ بیچا، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں غلام نہیں بناسکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ہی تحریک پر تمام مکتبہ فکر لاہور میں اکٹھے ہوئے اور بیانیہ جاری کیا، بیانیے میں آئین اور ریاست کے ساتھ وفاداری کا حلف تھا، ہم نے مسلح جدوجہد کا انکار کرکے آئین اور قانونی طور پر پرامن جدوجہد کا راستہ اپنایا۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق 1973کے آئین کے مطابق جدوجہد کے لیے جمہوری راستوں کا قائل ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی تہذیب اور ترقی سے مرغوب قوتیں اسلام کی ایسی تشریح کا تقاضا کرتی ہیں جس سے مغرب راضی ہو، کہا جاتا ہے کہ سود پر بات مت کرو ہماری تجارت پر اثر پڑتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں بانی پاکستان نے کہا کہ ملک کی معاشی بنیاد اسلام پر ہوگی، نظریہ پاکستان کے دعوے داروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ رکاوٹ کیا ہے۔

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ نے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعصبات سے باہر نکلیں اسلام کے تقاضوں اور دنیا کی ضرورتوں کو سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستی اور مسلک پرستی کے نعروں نے اسلام کو نقصان پہنچایا، تمام فرقہ پرستوں کو کہتے ہیں تم گھر میں بیٹھے رہو ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا برادر ملک تھا، آج وہاں امریکا اور بھارت ہے پاکستان نہیں، ایران کا صدر دو مرتبہ بھارت کا دورہ کرچکا ہے آج ایران آپ کے ساتھ نہیں۔