ایبٹ آباد : کرائسٹ چرچ حملے میں نمازیوں کو بچاتے ہوئے جان قربان کرنے والے پاکستانی ہیرو نعیم راشد کی والدہ نے عمران خان اور حکومت سے اپیل ہے نیوزی لینڈ کا ارجنٹ ویزا دلوائے تاکہ میں بچے کا آخری دیدار کر سکوں۔

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ مسجد پر فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے نعیم راشد کی والدہ نے عمران خان اور حکومت سے اپیل ہے کہ مجھے میرے بچے کا دیدار کروایا جائے، مجھے حکومت نیوزی لینڈ کا ارجنٹ ویزا دلوائے تاکہ میں بچے کا آخری دیدار کر سکوں۔

یاد رہے گذشتہ روز نیوزی لینڈ میں دہشت گرد فائرنگ کرتا ہوا النور مسجد میں داخل ہوا تو ڈاکٹر نعیم نے اس کو روکنے کی کوشش کی، جس پر دہشت گرد نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔

نعیم راشد نے جان پر کھیل کر نمازیوں کو بچانے کی کوشش کی اور اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑگئے تھے جبکہ ان کے بیٹے طلحہ بھی فائرنگ میں جان‌ بحق ہوگئے تھے۔

بعد ازاں کرائسٹ چرچ کی مساجد میں فائرنگ سے شہید ہونے والے نعیم اور طلحہ کے اہل خانہ نے بھی تصدیق کردی تھی، شہید نعیم راشد کے بھائی ڈاکٹر خورشید نے بتایا تھا کہ نعیم راشد میرے بھائی اور طلحہ میرا بھتیجا ہے، نعیم راشد ٹیچر تھے ، جو تدریس کے سلسلے میں وہاں موجود تھے جبکہ میرے بھتیجے طلحہ کی بھی دہشت گرد کی فائرنگ سے شہادت ہوئی۔

ڈاکٹر نعیم کی کزن آمنہ سجاد کا کہنا ہے کرائسٹ چرچ اسپتال نے ڈاکٹر نعیم کی شہادت کی تصدیق کی ہے جبکہ شہید کے ماموں ڈاکٹر سلیم افضل نےکہا نعیم نے شہید ہوکر ہمیں عزت دی۔

سوگوار خاندان نے کہا شہید باپ بیٹے کے جسد خاکی کو وطن واپس لانے یا نہ لانے کا فیصلہ شہید کی بیوہ کریں گی۔

واضح رہے نیوزی لینڈ کے علاقے کرائسٹ چرچ میں سفید فام شخص نے دو مساجد پر اُس وقت فائرنگ کی تھی کہ جب وہاں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کا اجتماع شروع ہونا تھا۔

فائرنگ کے واقعے میں 49 مسلمان شہید جبکہ متعدد نمازی شدید زخمی ہوئے، ملزم نے اپنے گھناؤنے عمل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کی تھی۔