نفرت، محبت اور تعصب سے بالاتر ہو کر عمران حکومت کے پہلے سودنوں کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بہت سی کامیابیاں اور بہت سی کمزوریاں نظر آتی ہیں۔ عمران خان نے ان 100دنوں میں دبنگ سیاست کی ہے۔ اپنے سیاسی مخالفوں کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ کرپشن کرپشن کا راگ اتنا اونچا ہو گیا ہے کہ شہباز شریف جو، ن لیگ والوں کے رول ماڈل تھے ، گرفتار ہو گئے ۔آصف زرداری صاحب جو،صدارت کے بعد سے بہت بڑے سیاسی مقام پر فائز ہو گئے تھے، ایف آئی اے اور دوسرے اداروں کی انکوائریاں بھگت رہے ہیں بلاول بھٹو کو بھی نوٹس جا ری ہورہے ہیں اور انکوائری کیلئے بلایا جا رہا ہے۔ نواز شریف اور مریم ضمانت پر رہا ہوئے ہیں لیکن آئے دن عدالتوں میں حاضر ہو رہے ہیں۔ عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے اپنے مخالفوں کو ناک آئوٹ کر کے رکھ دیا ہے حالانکہ اگر سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو 2008ء سے لیکر 2017ء تک پورے 9سال سیاستدانوں کی پکڑ دھکڑ بند رہی اور اس طویل عرصے میں کوئی ایک بھی سیاسی مخالف جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ مگر اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ اکیلا عمران ٹائیگر ہی میدان سیاست میں دھاڑ رہا ہے اور اس کے سیاسی مخالف اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔

گزشتہ 16سال سےمیڈیا اور حکومتوں کے تعلقات میں بہت سےاتار چڑھائو آتے رہے ان جنگوں کا آخری نتیجہ ہمیشہ میڈیا کے حق میں نکلتا رہا لیکن عمران حکومت اس کش مکش میںفتح یاب دکھائی دے رہی ہے، چاہے وقتی طور پر ہی سہی عمران حکومت نے میڈیا کو بے دست و پا کر کے رکھ دیا ہے۔

تیسری بڑی کامیابی سفارت کاری کے محاذ پر ہوئی ہے گو اس میں منصوبہ بندی یا فیصلہ سازی سے زیادہ عمران خان کی خوش قسمتی کا ہاتھ ہے جو کام بے نظیر بھٹو اور نواز شریف اپنی شدید خواہش کے باوجود نہ کر سکے وہ بآسانی کرتار پور کوریڈور سے ہو گیا اور یوں بغیر بہت زیادہ کوشش کئے عمران خان کو اس کا کریڈٹ مل گیا ہے ۔ اس راہداری کے کھولنے کی ٹائمنگ ایسی ہے کہ عمران حکومت کے پہلے سو دن کو خواہ مخواہ بڑھاوا مل گیا ہے۔

عمران حکومت کے پہلے سو دن کی کمزوریوں میں سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی خرابی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کی کاوشوں اور کئی دوست ممالک کے دوروں کے باوجود معیشت کا کامیابی کی طرف سفر شروع نہیں ہوا۔ سودن پورے ہونے والے روز بھی اسٹاک مارکیٹ کریش ہو گئی ،بینک خالی پڑے ہیں ،کاروبار تنزلی کا شکار ہے ،رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں گر رہی ہیں ،ایکسپورٹ نہیں بڑھی ،درآمدات کم نہیں ہو پا رہیں۔ملک کا اصل مسئلہ معیشت ہے اور اگر یہ چھ ماہ تک نہ سنبھلی تو عمران حکومت کا تاثر خراب ہوتا جائے گا۔

عمران حکومت کی دوسری کمزوری ناتجربہ کاری ہے وفاقی کابینہ اور پنجاب کی صوبائی کابینہ میں صرف دو چار ہی ایسے چہرے ہیں جو اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں اکثر تو ابھی ٹامک ٹوئیاں ماررہے ہیں یا ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں ۔ حکومت کے اونچے ترین طبقے کا پسندیدہ فیشن شکایتیںکرنا بن گیا ہے۔ ہر ایک کے خلاف شکایات کے دفتر میں کچی پکی اطلاعات اور سنی سنائی باتیں وزیر اعظم کے کچے کانوں تک پہنچائی جاتی ہیں اور وہ اکثر انہیں سچا جان کر اپنا ذہن بنا لیتے ہیں جس سے اس وزیر مشیر یا سیکرٹری کی جان عذاب میں آ جاتی ۔ عمران حکومت کی تیسری کمزوری سوچ اور عمل کے حوالے سے کابینہ میں رابطے کی کمی ہے پوری حکومت مربوط انداز میں ایک سمت میں نہیں چل رہی بلکہ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں حکومت چلانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے توانائیاں بکھر کر رہ جاتی ہیں۔

کامیابیوں اور کمزوریوں سے ہٹ کر عمران خان کو اوورسیز پاکستانیوں کے علاوہ ملک کے اہم ترین اداروں کا بھرپور تعاون بھی حاصل ہے۔وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں سیاست میں اپنے حصے سے زیادہ ملا ہے اس وقت صدر مملکت کے عہدے کے علاوہ تین صوبوں میں ان کی حکومت ہے فوری طور پر کسی سیاسی احتجاج کا امکان نظرنہیں آتا، قومی اداروں کی طرف سے حکومت پر کوئی سوال کرنے کےبجائے ان کی امداد کی جا رہی ہے۔ مذہبی حوالے سے احتجاجی گروپس کو روکنے کیلئے سب ادارے اکٹھے ہو گئے اور عمران حکومت کی رٹ کو مضبوط تر کر دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کو کتنی معاونت حاصل ہے، ایسے میں اگر وہ کوئی کارنامہ نہ دکھا سکے تو ان کی مستقبل کی سیاست کو دھچکا پہنچے گا۔

سو دن پورے ہونے پر وزیر اعظم اور ان کی ٹیم سے مخلصانہ اپیل ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اور تول کر بولا کریں ابھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 26ممالک سے کرپشن کا کھوج لگانے کیلئے معاہدے ہو چکے ہیں اور جلد ہی اربوں روپے واپس لائے جائیں گے بین الاقوامی قوانین کو سمجھنے والے اس تاثر کو یکسر رد کر تے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس ناجائز کمائی کے پیسے واپس لانے کیلئے کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس لئے ایسی امیدیں نہ لگائی جائیں جن کے بر آنے کی کوئی امید نہیں۔ اپوزیشن کی اور بات ہوتی ہے حکومت میں آ جائیں تو ہر دعویٰ سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔آنے والے دنوں میں عمران خان کا حساب ان کے اپنے دعوئوں ہی کو سامنے رکھ کر ہو گا۔

عمران خان کی جارحانہ پالیسی بظاہر انہیں فائدہ دے رہی ہے ۔ فوادچوہدری اور عمران خان جب اپوزیشن کے لتے لیتے ہیں تو تحریک انصاف کے نوجوان تالیاں پیٹتے ہیں لیکن آنے والے دنوں میں انہیں یوٹرن لیکر مصالحتی پالیسی اپنانی ہو گی۔ مصالحتی پالیسی اپنائیں گے تو جنوبی پنجاب کیلئے قانون سازی ہو سکے گی وگرنہ نیا صوبہ بنانے کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔ اگر مصالحت نہ ہوئی اور نئے ٹیکس لگائے گئے (جو لگائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہو گا) تو اپوزیشن اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی اور بازار بند کرا دے گی۔ ظاہر ہے کہ ایسی نوبت آئی تو یہ ملک کیلئے اچھا شگون نہیں ہوگا۔

توقع کرنی چاہئے کہ تحریک انصاف کی قیادت سوچ سمجھ کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کر کے معیشت کو پہلی ترجیح بنائے گی اورسارے معاملات وزیر خزانہ پر نہ چھوڑےگی، خسرو بختیار اور شاہ محمود قریشی کو بھی اس صلاح مشورے میں شامل کیا جائے۔