اسلام نوع انسانی کے لیے عالم گیر، دائمی، حتمی اورمکمل کامیابی کا ضامن لائحہ عمل مہیا کرتا ہے اور اپنی وسعت ہمہ گیری اور اکملیت کے باوصف اس نے حیات انسانی کے تمام پہلوؤں کیلئے جو جامع و مانع پروگرام مرحمت فرمایا ہے اس میں معاشی زندگی کے مسائل اور ان کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے معیشت کا دار ومدار کسی نا کسی شکل کی کرنسی یا قیمت پر ہے اس لیے درج ذیل سطور میں زر کاغذی کا تعارف تاریخ اور ارتقاء کا اجمالی تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی تعارف
زر کوعربی میں نَقْدکہتے ہیں اور مشہور لغت المعجم الوسیط میں نقد کا معنی یوں لکھا ہے:
( النقد ) ( في البيع ) خلاف النسيئة ويقال درهم نقد جيد لا زيف فيه ( ج ) نقود والعملة من الذهب أو الفضة أوغيرهما مما يتعامل به (المعجم الوسيط (2/ 944)
خرید و فروخت میں ’’نقد‘‘ کا معنی ہوتا ہے: وہ شے جو اُدھار نہ ہو ، نیز عمدہ قسم کا درہم جس میں کھوٹ نہ ہو، اس کو’درہم نقد’ کہا جاتا ہے۔اس کی جمع نقود آتی ہے۔ اور نقد اس کرنسی کو کہتے ہیں جس کے ذریعے لین دین ہوتا ہو، خواہ سونے کی بنی ہو یا چاندی کی یاان دونوں کے علاوہ کسی دوسری چیز سے۔
فقہی لٹریچر میں “نقد” کا لفظ تین معانی کے لئے آتا ہے:
1۔چاندی کی دھاتیں خواہ وہ ڈلی کی شکل میں ہوں یا ڈھلے ہوئے سکوں کی صورت میں ۔ چنانچہ فقہاء کی عبارات میں سونے چاندی کے لئے ’’النقدان‘‘ کا لفظ بکثرت استعمال ہوا ہے ۔
2۔ سونے چاندی کے سکے چاہے وہ عمدہ ہوں یا غیر عمدہ۔
3۔ہر وہ چیز جو بطورِ آلۂ تبادلہ استعمال ہو، چاہے وہ سونے کی ہو یا چاندی، چمڑے،پیتل اورکاغذ وغیرہ کی شکل میں، بشرطیکہ اس کوقبولیت ِعامہ حاصل ہو ۔عصر حاضر میں نقد کا لفظ اس تیسرے معنی کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے ۔ (الموسوعة الفقهیة:41؍173)
جبکہ اقتصادی ماہرین نقد(زَر)کی حقیقت یوں بیان کرتے ہیں :
إن للنقد ثلاث خصائص متی توفرت في مادة مَّا، اعتبرت هذہ المادة نقدًا الأولیٰ: أن یکون وسیطا للتبادل، الثانیة: أن یکون مقیاسا للقیم، الثالثة: أن یکون مستودعًا للثروة۔ (مجلة البحوث الإسلامیة: عدد1؍ ص200)
زرکی تین خصوصیات ہیں جس مادہ میں بھی وہ پائی جائیں ، وہ زر شمار ہو گا :
۱۔ ذریعۂ مبادلہ ہو
۲۔قیمتوں کا پیمانہ ہو
۳۔دولت محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہو
جبکہ عرف عام میں کرنسی یا سکّہ یا زر سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہواور حکومت وقت کی اجازت سے جاری کردہ ہو تو یہ کاغذی کرنسی، کاغذی سکّہ یا زر کاغذ کہلاتی ہے۔ یارہے کہ زر کی دو قسمیں ہیں :
۱۔حقیقی ۲۔اعتباری
حقیقی زر کاصرف اطلاق سونے،چاندی پر ہوتا ہے۔ سونے چاندی کے علاوہ زر کی باقی تمام اقسام خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہوں ’اعتباری زر‘ کہلاتی ہیں ۔سونے چاندی کو حقیقی زر اس لئے کہاجاتا ہے کہ ان کی قوتِ خریدفطری ہے، اگر بحیثیت ِ زر ان کا رواج ختم بھی ہوجائے تب بھی باعتبارِ جنس ان کی ذاتی مالیت برقرار رہتی ہے ۔جبکہ اگر اعتباری زر کی زری حیثیت ختم ہو جائے تو سونے چاندی کی طرح اس کی افادیت باقی نہیں رہتی۔(مجلہ البیان ص 257 سلسلہ نمبر6۔7مطبوعہ کراتشی)
بلاشبہ اسلام کے ابتدائی ادوارمیںمالیاتی لین دین سونے،چاندی کے سکوں کے ذریعے ہی ہوتا تھا اور سونے،چاندی کی زری صلاحیت بھی مسلمہ ہے،لیکن شریعت نے زر کے لئے سونے ،چاندی کے سکوں کی شرط نہیں لگائی بلکہ اس معاملے میں بڑی وسعت رکھی ہے۔ سونے ،چاندی کے بحیثیت ِزر استعمال ہونے سے قبل دنیامیں ’زرِبضاعتی’یا ’اجناسی زر’ (النقود السلعیة)کا نظام رائج تھاجسے انگلش میں بارٹر سسٹم کہتے ہیں ۔ اس سسٹم کے تحت ہرخطے کے لوگوں نے اپنے علاقے میں مقبول اور قیمتی شمار ہونے وا لی اشیا کو زر کا درجہ دیا۔ مشہور مؤرخ احمد بن یحییٰ بلاذری کے بقول سیدناعمررضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں اونٹوں کی کھال سے درہم بنانے کا ارادہ کر لیا تھا مگر اس خدشے سے اِرادہ ترک کر دیا کہ اس طرح تو اونٹ ہی ختم ہو جائیں گے۔ جیسا کہ بلاذری نے ان کا یہ قول نقل کیاہے:
ھممتُ أن أجعل الدراہم من جلود الإبل فقیل لہ إذا لابعیر فأمسک (فتوح البلدان: ج3؍ص578)
’’میں نے اونٹوں کے چمڑوں سے درہم بنانے کا ارادہ کیا۔ ان سے کہا گیا: تب تو اونٹ ختم ہو جائیں گے تو اس پراُنہوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا ۔‘‘
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لو أن الناس أجازوا بینہم الجلود حتّٰی تکون لہا سکة وعین لکرھتہا أن تُباع بالذھب والورق (المدونة الکبرٰی۔ التأخیر في صرف الفلوس)
’’اگر لوگ اپنے درمیان چمڑوں کے ذریعے خرید وفروخت کورائج کر دیں یہاں تک کہ وہ چمڑے ثمن اور سکہ کی حیثیت اختیار کر جائیں تو میں سونے چاندی کے بدلے ان چمڑوں کو اُدھار فروخت کرنا پسند نہیں کروں گا۔‘‘
یعنی اگر چمڑا بحیثیت زر رائج ہو جائے تو اس پر بھی وہی احکام جاری ہو ں گے جو درہم ودینار پر ہوتے ہیں ۔ اس سے یہ امر پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے کہ شرعی لحاظ سے زر کے انتخاب میں سونے چاندی کی پابندی نہیں ہے، قیمتوں کو چانچنے کے لئے کسی بھی چیز کو معیار بنایا جا سکتا ہے بشرطے کہ اسے معاشرہ میں قبولیت حاصل ہوں بارٹر سسٹم کی افادیت کے باوجود، اس کی عملی صورت حال میں بہت سی دشواریاں اور مشکلات موجود تھیں۔ لوگوں کو آسانی کے ساتھ اپنی مطلوبہ اشیاء نہیں ملتی تھیں نیز دو مختلف اَجناس کی قدر کے تعین اور شرحِ تبادلہ میں بھی مشکلات درپیش تھیں۔ فریقین میں سے کسی ایک کی ضرورت کی شدت بھی شرحِ تبادلہ میں تغیرات پیدا کرتی تھی۔ قدر کا تعین اور شرح تبادلہ کی قبولیت، اس پورے نظام میں ایک مشکل ترین مسئلہ رہا ہے۔ بعض اوقات معمولی درجے کی ضروریات کے لئے فریق ثانی کے پاس موجود کوئی بڑی اور ناقابل تقسیم چیز موجود ہوتی تھی جس سے باہمی تبادلے کا سلسلہ متاثرہوتاتھا۔
تبادلہ کے اس نظام میں اسی قسم کی مشکلات نے افراد کو کسی دوسرے بہتر متبادل کی طرف متوجہ کیااس نظام کے تحت مختلف علاقوں میں استعمال ہونے والی بعض مقبول اور سہل الحصول اشیاء کو ’ثمن’ کا درجہ دیا گیا اور یوں بیسیوں اشیاء ’’اَثمان’’ کے طور پر قبول کی جانے لگیں۔
بعض علاقوں میں چاول بعض میں چمڑااوربعض میں چائے زر کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ چنانچہ معروف سعودی عالم جسٹس ڈاکٹر عبداللہ بن سلیمان منیع لکھتے ہیں:
’’اس نظام میں یہ طے پایا کہ ایسی اشیا کوزرِ بضاعتی قرار دیا جائے جن میں حسابی وحدت، قیمتوں کی یکسانیت، بحیثیت ِمال جمع کئے جانے کی استعداد اور قوتِ خرید موجود ہو۔ یہ اشیا نوعیت کے اعتبار سے مختلف تھیں مثلاً ساحلی علاقہ جات میں موتیوں کو بطورِ ثمن (زر)استعمال کیا گیا۔ سرد علاقوں میں پشم کو ثمن ٹھہرایا گیا۔جبکہ معتدل موسم کے حامل ممالک میں آباد لوگوں کی خوشحال زندگی اور آسودہ حالی کی بنا پر خوبصورت اشیا (مثلاً قیمتی پتھروں کے نگینے ،عمدہ لباس، ہاتھی کے دانت اورمچھلیوں وغیرہ)کو کرنسی قرار دیا گیا۔ جاپان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں چاول کو بطورِ کرنسی استعمال کیا گیا جبکہ وسط ِایشیا میں چائے، وسطی افریقہ میں نمک کے ڈلوں اور شمالی یورپ میں پوستین کو کرنسی قرار دیاگیا۔’’ (کاغذی کرنسی تاریخ ،ارتقاء شرعی حکم مترجم نور محمد شاہتاز، ص:10)
رومی بادشاہ جولیس سیزر (دورِ حکومت 60تا 44ق م)کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی فوج کو تنخواہ نمک کی شکل میں ملتی تھی۔ نمک کو لاطینی میں ’سیل’کہتے ہیں ، اسی سے لفظ Salary نکلا ہے جس کامعنی ’تنخواہ’ ہوتا ہے۔
معاشی تاریخ کا یہ دور دلچسپ اور مفید ہونے کے باوجود تمدن کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا مقابلہ نہ کرسکا اور یوں یہ نظام بھی ادھورا، ناپختہ اور غیر تشفی بخش ثابت ہوا۔ اس نظام کے تحت ثمن کے طور پر استعمال ہونے والی اشیاء کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنا مشکل تھا اور آمدورفت اور نقل و حمل کی دشواریوں نے بھی اس کی افادیت کو نہ صرف کم کردیا تھابلکہ بہت سے ل ینحل مسائل بھی پیدا ہوگئے تھے۔
سکوں کا رواج
سکہ ایسا زر دھات ہے جو مبادلہ کے لئے استعمال ہو سکے سکہ اکثر چھوٹی مالیت کا ہوتا ہے ۔
انسانی ضروریات کے ان بڑھتے ہوئے دائروں نے انہیں کسی نئے ثمن کی تلاش پر مجبور کیا اور وہ ایک ایسی کرنسی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، جس پر زیادہ سے زیادہ اعتماد کیا جاسکے اور وہ اشیاء نقل و حمل کے اعتبار سے بھی آسان ہوں اور ان کی قدر اور شرح تبادلہ پر بھی اعتماد کیا جاسکے۔ اس نوعیت کی ضرورتوں نے افراد کو دھاتوں کی طرف متوجہ کیا اور دھاتوں کے مختلف سائز کے ٹکڑوں کو زریا کرنسی کے طور پر استعمال کیا جانے لگا سونے چاندی کے سکوں کا بطو ثمن استعمال زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے سکے کب وجود میں آئے ؟اس کے متعلق وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ البتہ قرآنِ مجید سے یہ پتہ چلتاہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کے دور میں دراہم موجود تھے، کیونکہ ان کے بھائیوں نے اُنہیں دراہم کے عوض بیچاتھا :
﴿وَشَرَ‌وْہُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَ‌ٰ‌ہِمَ مَعْدُودَةٍ وَکَانُوافِيہِ مِنَ ٱلزَّاہِدِينَ ﴾(سورة یوسف ٢٠)
’’اُنہوں نے اس کو انتہائی کم قیمت، جو گنتی کے چند درہم تھے، کے عوض فروخت کر دیا۔‘‘
یہ نظام بھی کئی نوعیت کی مشکلات کا شکار رہا کیونکہ مختلف دھاتوں کے استعمال ہونے والے یہ ٹکڑے ابھی کسی ٹکسالی نظام سے متعارف نہ ہوئے تھے۔ ان کے وزن، حجم اور شکل میں نہ تو یکسانیت پائی جاتی تھی اور نہ ہی ان دھاتوں کی پہچان کا کوئی واضح نظام موجود تھا۔ دھاتوں سے بنی ہوئی کرنسی کے یہ ٹکڑے زیادہ تر سونے اور چاندی سے تعلق رکھتے تھے مگر ان میں اصلی او رنقلی دھات کی پہچان ایک مشکل مرحلہ تھا، نیز ان کی شرح تبادلہ میں کوئی یکسانیت نہ ہونے کی بنا پر تبادلے میں بہت سی مشکلات کا سامنا تھاپھر آہستہ آہستہ دھاتوں سے بننے والی کرنسی کا وزن، سائز او ر شکل متعین ہونے لگی نیز اس کرنسی پر ریاستی مہر (Official Stamp) بھی لگائی جانے لگی جو اس بات کی ضمانت تھی کہ یہ کرنسی اس ریاست کی حدود میں یکساں شرح تبادلہ کے ساتھ نافذالعمل رہےگی۔ کرنسی کے اس دور میں سب سے نمایاں فرق یہ واقع ہواکہ قیمتی دھاتوں کے ٹکڑے وزن کی بجائے عدد میں شمار ہونے لگے اورنتیجتاً دھات کے یہ مہر شدہ ٹکڑے دوسری اشیاء اور خدمات کی خریدوفروخت میں معاوِن بن گئیـ
قدیم روم میں استعمال ہونے والا چاندی کا سکہ دیناریس کہلاتا تھا تحقیق کی روشنی میں ہندوستان میں سکہ کی ایجاد شیر شاہ سوری کے دور (۴۵۔۱۵۴۰ )میں ہوئی تھی۔ شیر شاہ سوری نے چاندی کا سکہ رائج کیا تھا اور اسے روپیہ کا نام دیا ۔ سنسکرت زبان میں روپیہ چاندی (Silver) کو کہتے ہیں۔ سولہویں صدی عیسوی میں اکبر اعظم نے اپنے دور میں زیادہ مالیت کے سکے سونے (Gold) میں تیار اور رائج کروائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ کم قیمت کے سکے کانسہ (Bronze) اور تانبے پیتل((Brass) کے سکے ہوا کرتے تھے ۔ چاندی کے چمکدار سکہ کا وزن۱۷۸ گرین ہوا کرتا تھا جبکہ اس دور میں تجارتی مقاصد کے لئے روپیہ ہی مسلمہ سکہ تصور کیا جاتا تھا۔ مغلوں نے سونے کا سکہ رائج کیا ‘ جس پر شاہی مہر (Royal Seal) ہوا کرتی تھی۔ تاریخ دان اس کو اشرفی کہتے تھے ۔ لیکن اشرفیوں کا استعمال زیادہ عام نہیں ہوا ۔ متمول افراد ہی دولت جمع کرتے پس اندازی یا بچت (Savings) کے مقصد سے اشرفیاں جمع کرتے تھے۔ اس لئے کہ یہ خالص سونے کی ہوا کرتی تھیں۔ ۱۵۹۵ میں چودہ منٹ (Mint) یعنی ٹکسال یا سکّے ڈھالنے کا دارالضرب کا م کرتے تھے ۔ جہاں چاندی کے سکے ڈھالے جاتے تھے اور چارٹکسال ایسے تھے ‘ جہاں سرکاری مہر(Govt.Seal) کے ساتھ سونے کی اشرفیاں تیار ہوتی تھیں۔ بعدازاں اورنگ زیب عالمگیر کے زمانہ میں روپیہ کے سکے ڈھالنے کے لئے۴۰ ٹکسال قائم کئے گئے تھے ۔اسے مغلیہ دورکا شاندار کارنامہ کہا جاتا ہے ۔ ملک میں مختلف علاقوں میں تیار کئے جانے والے سکوں کی ساخت اور وزن یکساں ہوتا تھا ۔ ان میں کوئی تمیز کرنا مشکل ہوتا۔ اسی لحاظ سے سارے ملک میں کرنسی کا یکساں نظام رائج کیا گیا ۔ ماہرین تاریخ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ سولہویں صدی عیسوی میں جو کہ افراط وفراوانی کا دور تھا ‘ ہر چیزارزاں وسستی دستیاب تھی ۔ ۱۶۷۱میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان میں داخل ہونے کے بعد ہندوستانی سکوں کی قیمت میں فرق پیدا ہوگیا ۔ روپیہ کی قدر وقیمت ہر علاقے میں مختلف ہوگئی ۔ ۱۸۳۵ میں باقاعدہ قانونی منظوری کے بعدبرطانیہ کے زیرانتظام سارے علاقے (ہندوستان )میں روپیہ معیاری سکہ قرار پایا ۔ اس وقت سکہ چاندی ہی کا ہوتا تھا ‘ جس کا مجموعی وزن۱۰۸ گرام ہوتا تھا جس میں چاندی کی مقدار۱۶۵ گرین ہوتی تھی۔
فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی نے محمد شاہ رنگیلے (1719-1748) کے نام پر چاندی کا روپیہ جاری کیا تا کہ شمالی ہندوستان میں تجارت کر سکیں۔۔یکم اپریل 1948ءکو حکومت پاکستان نے ایک پائی، آدھا آنہ، دو آنہ، پاؤ روپیہ، نصف روپیہ اور ایک روپیہ کے سات سکوں کا ایک سیٹ جاری کیا اور اس وقت کے وزیر خزانہ غلام محمد نے ایک تقریب میں یہ سیٹ محمد علی جناح کو دیا ۔
قدیم چین کے سکے گول ہوتے تھے جن میں چوکور سراخ ہوتا تھا جس کی مدد سے یہ ڈوری میں پروئے جا سکتے تھے۔ڈالر بھی کسی زمانے میں چاندی کا سکہ ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح برطانوی پائونڈ سے مراد ایک پاونڈ وزن کی چاندی ہوا کرتی تھی۔اٹھارویں صدی میں اسپینی ڈالر یورپ امریکہ اور مشرق بعید میں تجارت کے لیئے بہت استعمال ہوتا تھا۔ یہ چاندی کا سکہ تھا جس میں 25.56 گرام خالص چاندی ہوتی تھی۔ اسی کی طرز پر بعد میں امریکی ڈالر بنایا گیا تھا۔پہلا امریکی ڈالر 1794 میں بنایا گیا جس میں% 89.25 چاندی اور 10%.75 تانبہ ہوتا تھا ۔ بعض ازاں یونانی ریاست میں بھی سکے رائج ہونے لگے او ران مخصوص سکوں کا نام ’’دراخمہ’’ رکھا گیا۔ عربوں نے اسے معر ّب کرکے اس کا نام ’’دراہم‘‘رکھ لیا۔ اس کے بعد مختلف ممالک اور سلطنتوں نے اپنے اپنے علاقے میں دھاتی کرنسی کو رواج دیا جسے ریاستی سرپرستی کی وجہ سے اعتماد اور قبول کا درجہ بھی حاصل ہوتا تھا۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ سکوں کے اس ابتدائی دور میں دھات کا وزن اس حقیقی قدر کو بھی ظاہر کرتا تھا، جسے ان کی حقیقی قیمت یا ثمن قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر انسانوں، معاشرو ں اور حکومتوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات ان سکوں کے ذریعے بھی پوری نہ ہوسکیں۔
سکّوں کے نظام سے دنیا کا روزمرہ کا کاروبار چل رہا تھا مگر اس میں یہ خرابی تھی کہ بہت زیادہ مقدار میں سکّوں کی نقل و حمل مشکل ہو جاتی تھی۔ وزنی اور ضخیم ہونے کی وجہ سے بڑی رقوم چور ڈاکؤوں کی نظروں میں آ جاتی تھیں اور سرمایہ داروں کی مشکلات کا سبب بنتی تھیں۔ اسکا قابل قبول حل یہ نکالا گیا کہ سکّوں کی شکل میں یہ رقم کسی ایسے قابل اعتماد شخص کی تحویل میں دے دی جائے جو قابل بھروسہ بھی ہو اور اس رقم کی حفاظت بھی کر سکے۔ ایسا شخص عام طور پر ایک امیر سونار ہوتا تھا جو ایک بہت بڑی اور بھاری بھرکم تجوری کا مالک بھی ہوتا تھا اور اسکی حفاظت کے لئے مناسب تعداد میں محافظ بھی رکھتا تھا۔ اس شخص سے اس جمع شدہ سکّوں کی حاصل کردہ رسید کی نقل و حمل آسان بھی ہوتی تھی اور مخفی بھی۔ سونار کی ان رسیدوں پر بھی ادائیگی کا ایسا ہی وعدہ لکھا ہوتا تھا جیسے اب بھی بہت سے بینک نوٹوں پر لکھا ہوتا ہے۔ ایسےشخص جاری کردہ رسید کو علاقے کے بہت سے لوگ سکّوں کے عوض قبول کر لیتے تھے اور ضرورت پڑنے پر وہی رسید دکھا کر اس سونار سے اپنے سکّے وصول کر لیتے تھے۔
عہد ِنبویﷺ کی کرنسی
بعثت ِ نبوی ﷺ کے وقت عرب میں لین دین کا ذریعہ درہم و دینار تھے، لیکن گنتی کی بجائے وزن کا اعتبار کیا جاتا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ درہم و دینار عرب کے مقامی سکے نہ تھے بلکہ ہمسایہ اقوام سے یہاں آتے تھے۔جس کا اجمالی تعارف درج ذیل ہے:
٭درہم ساسانی سکہ تھا جو عراق کے راستے عرب پہنچتا اور لوگ اس کی بنیاد پر باہم لین دین کرتے۔نبی کریم ﷺ نے بھی اس کوبرقرار رکھا۔ یہ دراہم چونکہ مختلف وزن کے ہوتے تھے، اس لئے جب نصابِ زکو ۃکے لئے درہم کا وزن مقررکرنے کی نوبت آئی تومسلمانوں نے ان میں سے متوسط کو معیار بنایا، چنانچہ اسی کو شرعی درہم سمجھا گیا۔ ایک قول کے مطابق یہ کام سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے دور میں جبکہ دوسرے قول کے مطابق بنو اُمیہ کے دور میں ہوا۔جو صورت بھی ہو، تاہم آخر کارجس شرعی درہم پراجماع ہوا وہ وہی ہے جو عبد الملک بن مروان رحمہ اللہ کے دور میں بنایاگیا۔لیکن فقہاء اور مؤرخین نے ثابت کیا ہے کہ یہ درہم اپنی اصلی حالت پر نہیں رہا تھا بلکہ مختلف شہروں میں اس کے وزن اور معیار میں کافی تبدیلی آتی رہی ہے۔جدید تحقیق کی روشنی میں اس درہم کا وزن975ء2 گرام چاندی ہے۔ (الموسوعة الفقہية 20/249)
٭ اسی طرح دینار رومیوں کی کرنسی تھی جو براستہ شام یہاں آتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باقی رکھا حتی کہ خلفاے راشدین اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی رومی دینار کو ہی کرنسی کی حیثیت حاصل رہی۔ جب مسند ِخلافت عبدالملک بن مروان کے پاس آئی تو اُنہوں نے زمانۂ جاہلیت کے دینار کے مطابق ایک دینار جاری کیا جس کو ’شرعی دینار’کہاجاتا ہے، کیونکہ اس کا وزن اس دینار کے برابر تھا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا تھا۔ (الموسوعة الفقہية 20/249)
٭ معمولی اشیا کے لین دین میں سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں یعنی تانبے وغیرہ سے بنے سکے جنہیں فُلُوْس کہاجاتا ہے، بھی استعمال ہوتے ۔فلوس “فلس”کی جمع ہے .اس لفظ کی اصل کے بارے میں مختلف آراء ہیں .بعض حضرات کی راءے میں یہ یونانی لفظ ہے ،جسے عربوں نے معرّب بنا لیا ہے .یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے سوا کوئی اور اصل ہو .الموسوعة العربية الميسرة کے مصنفين اس بارے میں لکھتے ہیں:
یہ تانبے یا پیتل کا سکہ ہے،جسے عربوں نے بازنطنیوں سے مستعار لیا ہے ،با زنطینیوں کے ہاں فلس کے لیے کوئی خاص وزن مقرر نہیں تھا ،لیکن عربوں نے اس کا وزن کانچ کے ایسے با ٹوں” الصنج کے ساتھ متعین کر دیا ،جنہیں خاص پیمانوں کے تحت مقرر کیا گیا تھا .یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فلس ایک درہم کے اڑتالیسویں حصے کے برابر ہوتا تھا (خرید و فروخت کی مروجہ صورتیں اور ان کی شرعی حیثیت۔ الشریعہ اکیڈمی اسلام آباد)
لسان العرب،کے مطابق ،فلوس “فلس “کی جمع ہے،فلس پیسہ کے معنیٰ میں ہے،اسی سے “افلاس “اور “تفلیس “مشتق ہے،افلاس کے معنی غربت کے ہیں ،اور تلفیس کے معنی ہیں : حاکم کا کسی کو مفلس قرار دینا (زر کا تحقیقی مطالعہ از ڈاکٹر مولانا عصمت اللہ صاحب جیسا کہ حدیث میں دیوالیہ شخص کے متعلق اَلْمُفْلِس کالفظ آتا ہے۔ شارحِ بخاری حافظ ابن حجر اپنی مایہ ناز تالیف ’فتح الباری’ میں فرماتے ہیں :
’’شرعی معنوں میں ’مفلس’ وہ شخص ہے جس کے قرضے اس کے پاس موجود مال سے زیادہ ہو جائیں ۔ اسے مفلس اس لئے کہا جاتا ہے کہ پہلے درہم و دینار کا مالک تھا لیکن اب فلوس پر آگیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ شخص صرف معمولی مال (فلوس) کا مالک رہ گیا ہے یا ایسے شخص کو مفلس اس بنا پر کہا جاتا ہے کہ اس کو فلوس جیسی معمولی چیز میں ہی تصرف کا حق ہوتاہے، کیونکہ وہ فلوس کے ذریعے معمولی اشیا کا لین دین ہی کرتے تھے۔‘‘ (فتح الباری)
سیدناابو ذر غفاری ؓ کی اس روایت میں بھی فُلُوس کا تذکرہ موجود ہے :
فَأَمَرَھَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِہِ فُلُوسًا (مسند احمد بن حنبل:5؍151)
’’اُنہوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ اس کے بدلے ’فلوس ’ خرید لو۔’’
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 480 درہم مہر کے عوض کیا۔ آپ علیہ السلام کے دور میں اورسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بازنطینی اور چاندی کے ساسانی سکے جاری رہے، جن کا تناسب اس طرح تھا کہ دینار وزن میں 10 درہموں کے مساوی ہوتے تھے اور ایک درہم3.06 گرام کا جبکہ ایک دینار4.374گرام کا ہوتا تھا۔ (فتوح البلدان لبلاذري ص:467)
خلافت راشدہ کے دور میں دار الضرب (ٹیکسال) موجود تھا اس میں سکے ڈھالے جاتے تھے، سونے چاندی کے مختلف قسم کے سکے موجود تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فارس حکومت کے طرز پر دارالضرب قائم کیا، بعض سکوں پر ’’الحمد للہ‘‘ اور بعض پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے نقش کا اضافہ کیا۔ اسی طرح ان کے زمانہ میں 10 درہم کا مجموعی وزن 6 مثقال کے برابر ہوا کرتا تھا۔ (اسلام کا اقتصادی نظام،ص:473شیح الہند اکیڈمی کراچی)
کاغذی کرنسی کاآغاز وارتقاء
کاغذی کرنسی کے ارتقائی مراحل کا تذکرہ معاشیات کی کتابوں میں موجود ہے۔ جن کے مطابق اس کرنسی کا پہلا مرحلہ تاجروں کے ہاں باقاعدہ نوٹوں کی بجائے ہنڈی، سند اور حوالے کی حیثیت سے ملتا ہے۔ مختلف ملکوں اور علاقوں کے تاجر کسی شخصی حوالے سے کاغذی کرنسی کے ذریعے اپنا کاروبار چلاتے تھے۔ مختلف علاقوں کے تاجروں کی تحریری ضمانتیں قابل قبول ہوتی تھیں او ریہ سلسلہ آج تک دنیا میں موجود ہے جس کی ترقی یافتہ شکل آج کی دنیا میں اوپن چیک اور ٹریولر چیک کی صورت میں معروف ہے۔
کاغذی کرنسی کا دوسرا مرحلہ صرافوں (Money Exchangers) کے ذریعے جاری ہونے والی وہ تحریری ضمانتیں ہیں جو کسی شخص کے نام پر جاری کی جاتی تھیں جن کی بنیاد پر وہ دوسرے تاجروں سے درہم یا دینار حاصل کرسکتا تھا۔ اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لئے ہم موجودہ زمانے کے بینکوں سے جاری ہونے والے ڈرافٹ کو سامنے رکھ سکتے ہیں۔ یہ صراف دھاتی کرنسی کے عوض یہ ضمانت نامے جاری کرتے تھے جس کے باعث کچھ وقت کے لئے یہ تجارتی لین دین جاری رہا یوں یہ تحریری ضمانت نامے ایک مستقل کاغذی کرنسی کے نظام کی بنیاد ثابت ہوئے۔ معاشرے کے اندر صرافوں کی ان دستاویزات یا ضمانتی تحریروں کی مقبولیت نے ریاستوں اور حکمرانوں کو بھی اس کی طرف متوجہ کیا کہ وہ یکساں سائز، شکل اور معیار کے کاغذی نوٹ جاری کریں جن پر یہ عبارت درج ہو کہ وہ حامل ہذا کو عندالطلب مطلوبہ دھاتی یا معدنی کرنسی کے سکے ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ ان کاغذوں پر لکھی ہوئی یہ عبارت ریاستی ساکھ کو واضح کرتی تھی مگر ان کرنسی نوٹوں پر لکھی ہوئی یہ عبارت آگے چل کر محض ایک ضمانت کا درجہ اختیار کرگئی او رعملاً اس کاغذی کرنسی کے عوض میں کوئی ریاست بھی کسی معدنی ادائیگی کی پابند نہ رہی۔ کاغذی نوٹوں پر لکھی ہوئی یہ عبارت اب محض ایک اعتباری عبارت ہے جس سے حکومتوں کی مالی ساکھ کا بھرم قائم ہے سترہویں صدی میں انگلستان صنعتی انقلاب کی زَد میں تھا۔ یہاں سے ان رسیدوں کا رواج پورے یورپ میں اور پھر بالآخر ساری دنیا میں مقبول ہوتا چلا گیا۔ یہی رسیدیں آہستہ آہستہ حکومتی انتظام میں بینک نوٹ کا درجہ اختیار کرگئیں۔ یہ پیش نظر رہے کہ ابتداء میں ان بینک نوٹوں کے بدلے میں سو فیصد سونا یا چاندی ضمانت کے طور پر محفوظ رکھے جاتے تھے ،لیکن بعد میں مختلف معاشی وجوہات کی بنا پر سونے کی مقدار سے زائد نوٹ جاری کئے جانے لگے اورمختلف اَدوار میں یہ تناسب بتدریج کم ہوتا رہا یہاں تک کہ1971ء سے نوٹ کا سونے سے تعلق بالکل ختم ہو چکا ہے اب صورت حال یہ ہے کہ پوری دنیامیں کرنسی نوٹوں کا ہی دور دورہ ہے ۔
یادرہے کہ اہلِ چین نے 650ء سے 800ء کے درمیان کاغذ کے ڈرافٹ بنانے شروع کئے تھے، انہی ڈرافٹس نے آگے چل کرکرنسی نوٹوں کی اشاعت کا تصور دیا۔ اسی لئے کاغذکی طرح کرنسی نوٹ بھی اہل چین کی ایجاد شمار ہوتے ہیں ۔ (الأوراق النقدیة في الاقتصاد الإسلامي:ص 115)
جیسا کہ مارکو پولو کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ ساڑھے تین سال کی مدت میں 5600 میل کا سفر طے کر کے جب مئی 1275 میںوہ پہلی دفعہ چین پہنچا تو چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ یہ چیزیں تھیں: جلنے والا پتھر (کوئلہ) نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس) کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔(Marco Polo and His Travels)
مشہور سیاح ابن بطوطہ جو 1324ء سے1355ء کے درمیان چین کی سیاحت پر گیاتھا، چین کے نوٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتاہے :
’’اہل چین درہم یادینار کے ذریعہ سے خرید وفروخت نہیں کرتے بلکہ سونے اور چاندی کو پگھلا کر ان کے ڈلے بنا کر رکھ چھوڑتے ہیں اور کاغذ کے ٹکڑوں کے ذریعہ سے خرید وفروخت کرتے ہیں ۔ یہ کاغذ کاٹکڑاکفدست(ایک بالشت)کے برابر ہوتاہے اور بادشاہ کے مطبع میں اس پر مہر لگاتے ہیں ۔ ایسے پچیس کاغذوں کو بالشت کہتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں یہ لفظ دینار کے معنی میں مستعمل ہوتاہے ۔ جب یہ کاغذ کثرت استعمال سے یا کسی اور طرح پھٹ جاتاہے تو وہ دارالضرب میں لے جاتے ہیں اور اس کے عوض نیا لے آتے ہیں ۔ یہ دارالضرب ایک بڑے درجہ کے امیر کی تحویل میں ہے۔ جب کوئی شخص بازار میں درہم یا دینار لے کر خرید وفروخت کرنے جاتاہے تو وہ درہم یا دینار نہیں چلتے، لیکن وہ درہم یا دینار کے عو ض یہ کاغذ لے سکتاہے اور ان کے عوض جو چیز چاہے خرید سکتا ہے۔
(البیان ص:260۔261)
چین کے بعد جاپان دوسرا ملک ہے جہاں چودھویں صدی عیسوی میں کرنسی نوٹ جاری ہوئے ۔یورپ میں پہلا ملک جس نے ان رسیدوں کی بجائے بنک نوٹوں کا باقاعدہ قانونی اجرا کیا وہ سویڈن تھا جس کے ’اسٹاک ہوم بنک’ نے انہیں باقاعدہ کاغذی نوٹوں کی شکل دی۔ ان نوٹوں کے عوض سونے کی سلاخیں دینے کی ضمانت بھی موجود تھی، اس لئے اسے سونے کی سلاخوں کا معیار (Gold Bullion Standard) کہا جانے لگا۔
انگلینڈ نے 1695ء میں کرنسی نوٹ جاری کئے۔ہندوستان میں پہلا نوٹ 5؍جنوری1825ء کو ’بنک آف کلکتہ’ نے جاری کیاجس کی مالیت دس روپے تھی۔ آزادی کے بعد پاکستان میں کرنسی نوٹ یکم اکتوبر 1948ء کو جاری کئے گئے ۔1450 سے 1530 تک عالمی تجارت پہ پرتگال کا سکّہ چھایا رہا۔
1530 سے 1640 تک عالمی تجارت پہ ہسپانیہ کا سکّہ حاوی رہا۔
1640 سے 1720 تک عالمی تجارت ولندیزی سکّے کے زیر اثر رہی۔
1720 سے 1815 تک فرانس کے سکّے کی حکومت رہی۔ 1815 میں فرانس کے بادشاہ نپولین کو شکست ہوئی۔
1815 سے 1920 تک برطانوی پاونڈ حکمرانی کرتا رہا۔
1920 سے اب تک امریکی ڈالر کی حکمرانی ہے ۔ 1971ء کے بعد سے امریکا نے ڈالر کے بدلے سونا دینے سے صاف انکار کردیا ۔
اُنیسویں صدی کے رُبع اول کے بعد بینک نوٹوں کا رواج پوری دنیا میں عام ہوگیا تو اس اِقدام کو ممالک میں زرِ قانونی (Legal Tender) کا درجہ حاصل ہوگیا۔ اب نوٹ تجارتی بینکوں کی بجائے حکومتوں کا محکمہ مالیات جاری کرتاہےاور یوں کاغذی کرنسی کا کاروبار براہِ راست سرکاری سرپرستی میں آگیا۔
پاکستانی کرنسی کے مختلف مراحل:
پاکستان میں مالیاتی نظام کا باقاعدہ آغاز جولائی 1948ءمیں کراچی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح سے ہوا۔ اس افتتاح کے بعد پاکستان میں نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری اور پاکستان کے اپنے سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے قیام کے لئے کوششیں تیز کردی گئیں، ان کوششوں کے نتیجے میں درج ترتیب سے سکوں اور نوٹوں کا اب تک ا جراءہوتا رہا ہے۔
bیکم اکتوبر 1948ءکو حکومت پاکستان نے پانچ روپے، دس روپے اور سو روپے کے کرنسی نوٹ جاری کئے۔یہ نوٹ برطانیہ کی فرم میسرز ڈی لاروا اینڈ کمپنی میں طبع کئے گئے تھے۔
bیکم مارچ 1949ءکو حکومت پاکستان نے ایک اور دو روپے مالیت کے دو کرنسی نوٹ جاری کئے۔ دو روپے پر ”پہلی مرتبہ“ اسٹیٹ بینک کے گورنر زاہد حسین کے دستخط شائع ہوئے۔ اس سے قبل نوٹوں پر وزیر خزانہ کے دستخط شائع ہوتے تھے۔
bاسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے یکم ستمبر 1957ءکو پانچ روپے اور دس روپے کے نوٹ جاری کئے گئے۔
bسٹیٹ بنک نے 24 دسمبر 1957ءکو سو روپے مالیت کا نوٹ جاری کیا جس پر بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کی تصویرتھی۔
bپاکستان میں پہلی بار یکم جنوری 1961ءکو اعشاری سکے جاری کئے گئے جن کی وجہ سے ایک پائی، پیسہ، اکنی، دونی، چونی اور اٹھنی کی قانونی حیثیت ختم کرکے رفتہ رفتہ ایک، دو، پانچ، پچیس، پچاس پیسے کے سکے اور ایک روپیہ کا سکہ رائج ہوا۔
12bجون 1964ءکو اسٹیٹ بنک نے پچاس روپے مالیت کا کرنسی نوٹ جاری کیا۔
bپاکستان کی تاریخ میں غالباً پہلی مرتبہ 25 دسمبر 1966ءکو حکومت نے چاندی اور سونے کے 100 اور 500 روپے کے دو یادگاری سکے جاری کئے، جو کہ وینزیلا میں تیار کئے گئے تھے۔
20bجنوری 1982ءکو حکومت پاکستان نے ایک روپیہ مالیت کا اور بعد ازاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پانچ، دس، پچاس اور ایک سو روپے مالیت کے چار نئے کرنسی نوٹ جاری کئے۔ جن کی ایک خاص بات تو یہ تھی کہ اس پر بنگالی زبان کی عبارتیں حذف کردی گئی تھیں اور دوسری یہ کہ ان کی پشت پر اردو میں ”رزق حلال عین عبادت ہے“ کی عبارت طبع تھی۔
bیکم اپریل 1986ءکو اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے پانچ سو روپے مالیت کا نیا کرنسی نوٹ جاری کردیا۔
18bجولائی 1987ءکو اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے ایک ہزار روپے کا کرنسی نوٹ جاری کیا جو مالیت کے اعتبار سے اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا کرنسی نوٹ تھا۔
22bمارچ 1997ءکو حکومت نے پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے پچاس روپے مالیت کا ایک خصوصی سکہ جاری کیا۔
bپچاس سالہ جشن آزادی پاکستان 1947ءتا 1997ءکے حوالے ہی سے اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے پانچ روپے کا ایک خصوصی نوٹ جاری کیا جس کی پشت پر ملتان میں واقع شاہ رکن عالم کے مزار کی تصویر شائع کی گئی تھی۔
26bمئی 2006ءکو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے کرنسی نوٹ جو کہ پانچ ہزار مالیت کا تھا کے اجراءکا اعلان کیا۔
26bمئی 2006ءکو اسٹیٹ بنک کی طرف سے دس روپے مالیت کا یادگاری سکہ جاری کیا گیا اس کا رنگ سفید اور وزن 8.25 گرام تھا۔
bیکم اکتوبر2009ءکو عوامی جمہوریہ چین کے ساٹھویں جشن آزادی کے موقع پر دس روپے مالیت کا ایک یادگاری سکہ جاری کیا گیا۔ اس کی پشت پر پاکستان اور چین کے پرچموں کی تصویروں کے ساتھ ”ساٹھ سالہ جشن آزادی عوامی جمہوریہ چین“ اور ”پاک چین دوستی زندہ باد“ کی عبارت درج تھی۔(روزنامہ پاکستان لاھور بتصرف یسیر)
کاغذی کرنسی کی تباہ کار یوں کی ایک جھلک
دورِ حاضر میں کاغذی کرنسی صرف ایک زرِ مبادلہ ہے جو زرِ اعتبارکے طور پر کارآمد دکھائی دیتی ہے۔ خالص معدنی سکے بھی دنیا بھرسے غائب ہوچکے ہیں اور اب کاروباری ضروریات کے لئے یا قوموں کے باہمی لین دین میں مختلف دھاتوں کے یا تو علامتی معدنی سکے ہیں یا پھر وہ کرنسی نوٹ ہیں جن کی اَساس حکومت کی ساکھ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اب کرنسی کے پیچھے کوئی حقیقی مال نہیں۔ یہ پیپر کرنسی ہے جو حکومت کی ضمانت سے قیمتی ہے وگرنہ کچھ نہیں۔ آج کسی ملک پر دوسرا ملک قابض ہوکر کرنسی بدل دے تو اس ملک کے ارب پتی ایک دن میں غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے کاغذی کرنسی کے پس پشت کوئی معدنی ضمانت نہ ہونے کے باعث تاریخ معیشت میں مسلسل کئی بحران پیدا ہوچکے ہیں۔ انگلستان، فرانس، کولمبیا، اٹلی، جرمنی، پرتگال او ر ارجنٹائن کے بحران اسی شاخسانے کا نتیجہ ہیں۔ آج عالمی سطح پر کوئی بین ُالاقوامی قانون موجود نہیں ہے جو کاغذی کرنسی کی پشت پر کسی معدنی ضمانت کی ضرورت اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہو۔ غرض کہ کاغذی کرنسی محض ایک زر اعتبار ہے جو اپنے اندر تبادلے کی صلاحیت کے باعث قوموں کے درمیان استعمال ہو رہا ہے اور یہی استعمال اور پبلک کی تائید اسے مقبولِ عام بنائے ہوئے ہے۔
کاغذی کرنسی کے مقبولِ عام ہونے ، سرکاری ساکھ کی موجودگی اور عوامی تائید کے باوجود یہ خود ثمن یا قیمت نہیں ہے۔ کاغذی کرنسی کی یہ عالمی صو رتحال مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ حالات کے باعث کئی قسم کے خطرات کو جنم دے سکتی ہے ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہزر کاغذی کی پشت پر مؤثر ضمانتیں نہ ہونے کے باعث اَقوام اور ممالک کی اِقتصادی صورتِ حال بہت دگر گو ں ہوچکی ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان کرنسیوں کی شرح تبادلہ بھی ایک مستقل مسئلہ ہے جسے اِقتصادی صورت حال نے پریشان بنا رکھا ہے۔ غیر ترقی یافتہ ممالک کی کرنسی ترقی یافتہ ممالک کی کرنسی کے مقابلے میں ادائیگیوں کا ایک کمزور رجحان رکھتی ہے۔
دورِ حاضر اور مستقبل کی اَقوام کی باہمی آویزش او رجنگیں جن اَسباب کی بنا پر جاری ہوں گی، ا ن میں اہم ترین سبب اور عامل مختلف کاغذی کرنسیوں کے درمیان شرحِ تبادلۂ کا فرق بھی ہوگا۔ اس بات کی پیش گوئی کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ یہ کاغذی کرنسی مستقبل میں اقوامِ عالم کے لئے ایک مستقل آزمائش اور فتنے کا باعث بن جائے گی جس سے بچنے کے لئے اقوامِ عالم کو عدل پر مبنی کسی نظامِ زر کے اصول و ضوابط کو مرتب کرنا ہوگا ۔ عالمی سطح پر کرنسیوں کے باہمی تبادلے سے چھوٹی قوموں کے احساس محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے جو بالآخر نفرت کی اس سرد جنگ کو تعصب کی ایک خوفناک جنگ میں تبدیل کرسکتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہے۔ یہ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں ۔ بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ بیک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔۔۔اہل حل وعقد کوسونے چاندی کی صورت میں ایک فطری کرنسی کو رواج دینے اور اس کے فروغ میں کردار اداکرنا چاہیے تاکہ اسلامی نظام معیشت کا ایک کامیاب مظہر اور ڈالر کے مقابلے میں مسلسل افراط زر اور گرتی ہوئی پاکستانی کرنسی کا ایک موثر حل سامنے آ سکے۔
حرف تشکر
مذکورہ بالا گزارشات کے لیے مجلہ البیان (طبع کراچی) کی خصوصی اشاعت برائے جدید معیشت وتجارت اور کاغذی کرنسی تاریخ ارتقاء اور شرعی حکم(طبع کراچی) مترجم نور محمد شاہتاز سے استفادہ کیاگیاہے باری تعالیٰ ان کے مصنفین ناشرین کو اپنی رحمت سے نوازے۔آمین

source