امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمے دار ٹھہرانے کے حوالے سے اپنے بیانات کا لہجہ مزید سخت کر دیا ہے۔ چین پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے عالمی ادارہ صحت (ڈؑبلیو ایچ او) کے ساتھ سازش کرتے ہوئے اس وبا کو کئی ہفتوں تک چھپائے رکھا۔ اس کے نتیجے میں وائرس نے وبا کی صورت اختیار کر لی اور ہزاروں افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اہم مشیر پیٹر نیوارو نے چین پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اس پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی ذمے داری سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر نیوارو نے امریکی چینل “فوكس نيوز” کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ چین نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران ذاتی تحفظ کے طبی ساز و سامان کی مارکیٹ کا محاصرہ کر لیا اور اسے دنیا کے دیگر ممالک کے لیے ان کی برآمد روک دی۔

نیوارو کا یہ بیان فوکس نیوز کی اس رپورٹ کے جواب میں آیا ہے جس میں متعدد ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا تھا کہ اس بات کا یقین بڑھتا جا رہا ہے کہ کرونا کا پھیلاؤ چین کے شہر ووہان کی ایک تجربہ گاہ میں پروان چڑھا۔ اگرچہ یہ حیاتیاتی ہتھیار نہیں ہے مگر یہ عمل چین کی جانب سے اس بات کو ثابت کرنے کا حصہ ہے کہ وائرسز کے تعین اور ان کے انسداد کے حوالے سے چین کی کوششیں امریکا کے مساوی یا اس سے برتر ہیں۔

نیوارو کا کہنا تھا کہ “سب سے پہلے تو یہ کہ وائرس نے چین میں جنم لیا۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے عالمی ادارہ صحت کی آڑ میں اس پر پردہ ڈالے رکھا۔ تیسرا یہ کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ بنیادی طور پر طبی نوعیت کے ذاتی تحفظ کے ساز و سامان کا خزانہ ہے اور اب وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں”۔

ٹرمپ کے مشیر نے باور کرایا کہ “ہم یہ جانتے ہیں کہ اس وائرس کا زیرو پوائنٹ مذکورہ تجربہ گاہ سے چند میلوں کی دوری پر تھا ،،، میں سمجھتا ہوں کہ چین کا فرض ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ ایسا اُس تجربہ گاہ سے نہیں ہوا”۔

نیوارو کے مطابق اس سلسلے میں تشویش ناک نوعیت کے 6 ہفتوں کے دوران چین نے دنیا سے اس وائرس کو مخفی رکھنے کے لیے عالمی ادارہ صحت پر اپنے نفوذ کا استعمال کیا۔ یہ ایسا وقت تھا جب ووہان میں کرونا وائرس کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ اس کے بجائے 50 لاکھ چینی نکل کھڑے ہوئے اور ساری دنیا میں اس وائرس کو پھیلا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ ہوا وہ ہر امریکی کے لیے نہایت پریشان کن ہے۔

نیوارو نے کہا کہ چین شخصی طبی تحفظ کے سامان اور لوازمات فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے وائرس پھیلنے کے آغاز پر ساری دنیا سے اس سامان کو اکٹھا کر لیا۔ اس دوران امریکا سے بھی بہت کچھ لیا گیا۔ ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے ساتھ تعاون کیا۔ اس کے بعد جب نیویارک اور میلان میں اس سامان کی ضرورت پڑی تو وہ بے یار و مدد گار چھوڑ دیے گئے۔

نیوارو کے مطابق اس وقت صورت حال یہ ہے کہ چین مذکورہ ساز و سامان پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے ،،، اس نے مارکیٹ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور منافع کما رہا ہے۔ مجھے ایسی رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں کہ چین میں تیار ہونے والا آدھے ڈالر کی قیمت کا ماسک امریکا کے ہسپتالوں میں 8 ڈالر میں فروخت ہو رہا ہے۔ چین اس وقت بحران سے فائدہ اٹھا کر پوری دنیا میں اپنے خصوصی ایجنڈے کو مضبوط کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ ابتدا میں چین کے شہر ووہان میں جانوروں اور پرندوں کی ایک مارکیٹ میں چمگادڑوں کو کرونا وائرس کا ممکنہ نقطہ آغاز قرار دیا گیا۔ تاہم مذکورہ مارکیٹ میں کبھی چمگادڑوں کی فروخت ہوئی ہی نہیں۔ فوکس نیوز کے ذرائع کے مطابق چین کی جانب سے ووہان کی مارکیٹ کو وائرس کا ذمے دار قرار دینے کا مقصد تجربہ گاہ کے حوالے سے توجہ کو ہٹانا تھا۔

جمعرات کے روز چین کی وزارت خارجہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے بیانات اس بات کے گواہ ہیں کہ وائرس کے چینی تجربہ گاہ سے نمودار ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔

گذشتہ روز (اتوار) تک دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 23 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ان میں 1.62 لاکھ افراد فوت ہو چکے ہیں۔ امریکا میں کرونا کے 759000 تصدیق شدہ کیس سامنے آ چکے ہیں جب کہ وہاں موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔