عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ چین میں پائے جانے والے مہلک وائرس کرونا کے عالمی سطح پر پھیلنے کا ’’انتہائی‘‘ خدشہ ہے۔عالمی ادارے نے اپنی گذشتہ رپورٹس میں غلطی کا اعتراف کیا ہے، جن میں اس مہلک وائرس کے پھیلنے سے متعلق ’’ معتدل‘‘ اندیشے کا اظہار کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارہ صحت نے اتوار کی شب وبائی امراض کی صورت حال کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’’کرونا وائرس کے چین میں پھیلنے کا انتہائی خدشہ ہے، علاقائی سطح پر انتہائی خدشہ ہے اور عالمی سطح پر بھی پھیلنے کا انتہائی خدشہ ہے۔‘‘

ڈبلیو ایچ او نے اس رپورٹ کے حاشیے (فٹ نوٹ) میں کہا ہے کہ جمعرات ، جمعہ اور ہفتہ کو شائع کردہ سابقہ رپورٹس میں ایک غلطی تھی۔ان میں غلط طور پر کہا گیا تھا کہ اس وائرس کے عالمی سطح پر پھیلنے کا ’’معتدل’’ خطرہ ہے۔

جب ڈبلیو ایچ او کی خاتون ترجمان فضیلہ شیب سے اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے کہا گیا توانھوں نے کہا کہ’’ یہ محض الفاظ کے چناؤ کی غلطی تھی۔‘‘

ڈبلیو ایچ او نے گذشتہ جمعہ کو کرونا وائرس کو بین الاقوامی صحت عامہ کے لیے ایمرجنسی بھی قرار نہیں دیا تھا۔اس ہنگامی حالت کا ایسے کسی خطرناک مہلک مرض کے پھیلنے کی صورت میں اعلان کیا جاتا ہے جس پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر مربوط اقدامات درکار ہوں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اضانم غیبریسس اسی ہفتے چین کا دورہ کررہے ہیں۔وہ چینی حکام سے اس مہلک وائرس پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔انھوں نے گذشتہ جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’یہ چین میں ایک ایمرجنسی ہے لیکن یہ ابھی عالمی سطح پر صحت کے لیے ایمرجنسی نہیں بنی ہے۔‘‘

عالمی ادارہ صحت نے یہ احتیاط ماضی میں ایمرجنسی کی اصطلاح کے عاجلانہ یا سست روی سے استعمال پر ہونے والی تنقید کے پیش نظر اختیار کی ہے۔اس نے پہلی مرتبہ 2009ء میں مہلک وائرس ایچ1 این 1 سوائن فلو کے وبائی شکل اختیار کرنے کے وقت استعمال کی تھی۔

اس کے اعلان کے بعد اس وائرس کے علاج کے لیے دھڑا دھڑ ویکسین کی خریداری کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا لیکن بعد میں ڈبلیو ایچ او نے یہ اعلان کردیا تھا کہ یہ وائرس اتنا خطرناک نہیں ہے جتنا پہلے خیال کیا جاتا تھا۔اس پر عالمی ادارے کو کڑی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔

2014ء میں ڈبلیو ایچ او کو ایک مرتبہ پھر ای بولا کے وبائی مرض اختیار کرنے کے بارے میں بیان پر تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔تب اس نے کہا تھا کہ یہ کوئی زیادہ خطرناک نہیں ہے لیکن براعظم افریقا کے تین مغربی ممالک میں اس سے 11 ہزار 300 سے زیادہ اموات ہوگئی تھیں اور 2016ء میں اس مرض کا خاتمہ ہوا تھا۔