پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات پر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے چین میں موجود پاکستانیوں کو واپس وطن نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

سنیچر کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چین میں پاکستانیوں کا بہتر خیال رکھا جارہا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے والے طلبہ کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے چین میں موجود چار پاکستانی طلبا میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بارے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘وہ چار پاکستانی طلبا جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اب ان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اس کی وجہ یہ ان کی تشخیص ابتدائی مراحل میں ہونا ہے۔’

خیال رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے حکومتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا اور حکومت سے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان میں چینی کپنی سے کچھ افراد مساک پہن کر نکل رہے ہیں

ڈاکٹر ظفرمرزا کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کی تجاویز اور چینی حکومت کی جانب سے اس وائرس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے ہم اپنے شہریوں کو ووہان نے واپس نہیں بلا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستانی طلبا کے لیے وہ سب کر رہا ہے جو کرنا چائیے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ’یہ سوال کیا جاتا ہے کہ باقی ممالک اپنے عوام کو نکال رہے ہیں تو پاکستانیوں کو کیوں نہیں نکالا جارہا ہے، جس پر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صرف سات آٹھ ممالک نے اپنے لوگوں کا انخلا کیا یا اس کی درخواست دی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ووہان کے شہر میں اس وقت 120 ممالک کے شہری موجود ہیں اور وہ بھی چینی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

’لہٰذا ہم اس بات کا یقین کرنے کے بعد کہ پاکستانیوں کی بہتر دیکھ بھال ہو رہی ہے اور وائرس سے متاثرہ طلبہ کی صحت بہتر ہورہی ہے اس لیے اب بھی پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز ان کی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات میں تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘ہمارا یہی فیصلہ ہے کہ ہم اپنے شہریوں کو نہیں نکالیں گے۔ چین کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ ہوا ہے جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ترجیح اول ہے۔’

ملک میں کورونا وائرس کی تشخیص اور ممکنہ عدم پھیلاؤ پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر نے بتایا کہ ‘آج شام تک کورونا وائرس کی تشخیصی میڈیکل کٹس پاکستان پہنچ جائیں گی جس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو ہم خود وائرس کی تشخیص کرسکیں گے۔’

انھوں نے بتایا اس ضمن میں اسلام آباد کے قومی ادراہ صحت، پنجاب کے شہر لاہور کی شوکت خانم ہسپتال اور سندھ میں کراچی کے آغا خان ہسپتال میں مراکز قائم کیے جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں کچھ افراد کو کورونا وائرس کے شبہ میں نگرانی میں رکھا گیا تھا تاہم ان میں وائرس نہیں پایا گیا۔

پشاور ایئرپورٹ

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آج سے ملک کے الیکٹرونک میڈیا پر کورونا وائرس سے بچاؤ، احتیاط اور دیگر حوالوں سے آگاہی مہم کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ظفر مرزا نے بتایا کہ چین نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی چینی باشندہ بیرون ملک سفر کرنے کا اہل نہیں ہوگا جب تک کہ وہ 14 دن تک جو اس بیماری کا انکیوبیشن پریڈ ہے کا وقت صحت مندی کے ساتھ نہیں گزارتا اور اس کے پاس اس کا سرٹیفیکٹ نہ ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘میری چین کے سفیر سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے جس میں ہم نے اس پر بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ اسی طرح جتنے پاکستانی چین میں ہیں وہ بھی 14 دن تک چین نہیں چھوڑ سکیں گے۔ اس اقدام سے ہم نے پاکستان کو محفوظ کر لیا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس دنیا کے 27 ممالک تک پھیل چکا ہے اور انسان سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔

لاہور

معاون خصوصی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وائرس کو ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے جس کے باعث پاکستان ذمہ داری کے ساتھ اپنے، اپنے عوام اور دنیا کے لوگوں کے لیے وہ اقدام کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

معاون خصوصی نے کہا چینی حکومت بھرپور طریقے سے ایسے اقدامات کررہی ہے جس سے ان کے اپنے عوام، دوسرے ممالک کے افراد اور باقی دنیا کے لوگ اس وائرس سے بچ سکیں اور ہمیں ان پر پورا اعتماد ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ابھی تک 249 اموات واقع ہو چکی ہیں۔ کورونا وائرس دنیا کے 27 ممالک میں پھیل چکا ہے۔