لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان نے جاتی امراء ، ماڈل ٹاؤن، گورنرہاؤس، وزیراعلٰی کیمپ سے فوری رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ صاف پانی اور سیکیورٹی کے نام پر پررکاوٹوں کے کیس کی سماعت کررہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، رانا ثنااللہ، ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان، خواجہ حسان، چیف سیکریٹری پنجاب، ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت ڈی جی فوڈ اتھارٹی ببھی سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔

چیف جسٹس کا پنجاب میں پولیس مقابلوں پرازخود نوٹس
چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز پر پنجاب میں پولیس مقابلوں کا نوٹس لیتے ہوئے ایک سال میں ہونے والے پولیس مقابلوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ آئی جی صاحب ایک ہفتے میں رپورٹ دیں کہ کتنے بندے مارے۔

سپریم کورٹ میں سیکیورٹی کے نام پررکاوٹوں کے کیس کی سماعت
عدالت میں سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے بند کی گئی سڑکوں کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت سڑکیں بند کیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سڑکوں سے سیکیورٹی کے نام پررکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹے میں تمام سڑکوں سیکیورٹی بیریئرز ہٹائے جائیں۔

انہوں نے رائیونڈ، ماڈل ٹاؤن، وزیراعلٰی کیمپ، آئی جی دفاتر سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہوم سیکریٹری حلف دیں کہ رات تک تمام رکاوٹیں ہٹادی جائیں گی۔

ایڈیشنل سیکریٹری ہوم نے کہا کہ رکاوٹیں دھمکیاں ملنے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کیا مجھے دھمکیاں نہیں ملتیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو ڈرا دھمکا کر گھر میں نہ بٹھائیں اپنی فورسز کو الرٹ کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ عوامی آدمی ہیں اور انہیں کہنا چاہیے کہ شہبازشریف کسی سے نہیں ڈرتا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ان معاملات کا مقصد سیاست کرنا نہیں ہے، عدالیہ اور انتظامیہ مل کر عوامی حقوق کا تحفظ کریں۔

چیف جسٹس آف پاکستان برہم
عدالت میں سماعت کے دوران صوبائی وزیر رانا مشہود کے بغیر بلائے روسٹرم پر آنے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ آنے والے وزراء سن لیں عدالت میں پھرتیاں نہ دکھائی جائیں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں گزشتہ سماعت پر صاف پانی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ صرف لاہور میں 540 ملین گیلن آلودہ پانی روزانہ کی بنیاد پر دریائے روای میں پھینکا جاتا ہے۔

صاف پانی کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب طلب
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا تھا کہ صوبائی دارالحکومت تو پنجاب کا دل ہے تو پھر یہ دل میں کیا پھینکا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو فوری طلب کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ شہبازشریف عدالت میں پیش ہوکر وضاحت پیش کریں کہ گندے پانی کی نکاسی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔