پورنو گرافی سے متعلق ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات: ’اب معافی کا وقت نکل گیا‘

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے زینب قتل از خود نوٹس کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے ملزم عمران کے بین الاقوامی گروہ سے رابطے سے متعلق دعوؤں پر ان کی معافی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب انصاف ہوگا جو سب کو نظر آئے گا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے از خود نوٹس کیس میں زینب قتل کے حوالے سے ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات سے متعلق سماعت کی۔

سماعت کے دوران اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود اور ان کے وکیل شاہ خاور سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ آچکی ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ جو الزامات اینکر پرسن کی جانب سے لگائے گئے تھے وہ درست ثابت نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے کہا تھا کہ اگر میر بات غلط ثابت ہوجائے تو مجھے پھانسی دے دی جائے‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم ابھی آپ کے پروگرام کے اس حصے کو پھر سے چلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا لاہور میں مقدمے کی سماعت کے دوران خیال تھا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو معافی مانگ لینی چاہیے، تاہم اب عدالت دیکھے گی کے الزامات کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اور اس ضمن میں کیا کرنا ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے وکیل نے عدالتِ عظمیٰ میں اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جے آئی ٹی رپورٹ کی نقول نہیں ملی، تاہم عدالت جو چاہے ہم وہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ مقدمے کے جو قانونی نتائج نکلیں گے عدالت انہیں قانون کے مطابق دیکھے گی۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں ڈارک ویب کا وزٹ کیا اور ان ویب سائٹز پر موجود 12 سے 14 سال کی لڑکیوں کی نازیباں ویڈیوز موجود تھیں جنہیں حذف کروایا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ڈارک ویب سے ویڈیوز ڈیلیٹ کروانے کا تعلق اس واقعے سے کیسے ہے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت میں کہا کہ وہ اپنے الزامات پر معافی مانگنا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ اب معافی کا وقت نکل گیا ہے اور اب معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں، اگر آپ مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا اور اب جو انصاف ہوگا وہ سب کو نظر آئے گا۔

سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی چینل نیوز ون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر وضاحت طلب کرلی جبکہ کیس کی سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی گئی

یاد رہے کہ قصور میں 6 سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس واقعے میں پکڑا گیا ملزم عمران کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ اس کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں اور وہ ایک بین الاقوامی گروہ کا کارندہ ہے اور اس گروہ میں مبینہ طور پر پنجاب کے ایک وزیر بھی شامل ہیں۔

اس دعوے کے بعد چیف جسٹس نے نوٹس لیا تھا اور انہیں سپریم کورٹ میں طلب کیا تھا، جہاں ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کو ملزم کے 37 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کراتے ہوئے ایک پرچی پر ان شخصیات کا نام لکھ کر دیئے تھے۔

بعدازاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے اس کیس کی تحیقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کو رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اینکر پرسن کے دعوے کے بعد تحقیقات کی گئی لیکن مرکزی ملزم کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ملا۔

جس کے بعد ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ڈاکٹرشاہد مسعود کی رپورٹ بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور ہم اس رپورٹ کے پیچھے چھپے محرکات سمجھنے سے قاصر ہیں جو انہوں نے نتائج کو دیکھے بغیر چلائی تھی۔

زینب قتل کیس سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) بشیر احمد میمن کی سربراہی میں نئی جے آئی ٹی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

عدالتِ عظمیٰ نے حکم جاری کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر ملزم عمران کے 37 بینک اکاؤنٹس سے متعلق ثبوت فراہم کریں۔

یکم مارچ کو ڈاکٹر شاہد مسعود کے ٹی وی پروگرام میں کیے گئے دعوؤں اور انکشافات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی تھی جس میں اینکر پرسن کے دعوؤں کو جھوٹ قرار دے دیا گیا تھا۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کے اہم مندرجات کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود کے تمام انکشافات کی تصدیق نہیں ہوئی۔

Source