کاٹھمنڈو: نیپال کے چیف جسٹس گوپال پاراجولی کو عہدے پر زیادہ عرصے تک رہنے کے لیے غلط تاریخ پیدائش بتانے پر برطرف کردیا گیا۔

خیال رہے کہ گوپال پاراجولی کی غلط تاریخ پیدائش کا تنازع کئی مہینوں سے چل رہا تھا جس کے بعد انہوں نے سرگرم رضاکار اور نیپال کے سب سے بڑے اخبار کو ان پر سوالات اٹھانے پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جوڈیشل کونسل کا کہنا تھا کہ سرکاری عہدوں سے 65 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے قانون کے مطابق پاراجولی کو 7 ماہ قبل ریٹائر ہوجانا تھا۔

کونسل کے سیکریٹری نریپدھوج نیرولا کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد ان کی عمر سامنے آنے پر انہیں عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ نیپال کے دوسری بار منتخب ہونے والے صدر بدیا بھنڈاری کا گوپال پاراجولی کے ہاتھوں حلف اٹھانے کے فوری بعد سامنے آیا۔

یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ نیپال کے صدر کو دوبارہ حلف اٹھانا پڑے گا یا نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں گوپال پاراجولی نے نیپال کے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اخبار کانتی پور ڈیلی کو مختلف سرکاری دستاویزات میں ان کی 5 مختلف تاریخ پیدائش پر رپورٹ کرنے پر انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

ان چارجز کے بعد نیپال میں صحافت کی آزادی پر حملے پر وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی تھی۔

بعد ازاں گوپال پاراجولی کی جانب سے کیس کی خود نگرانی کرنے کے فیصلے پر احتجاج میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

یاد رہے کہ جنوری کے مہینے میں پاراجولی نے اینٹی کرپشن کے سرگرم رکن ڈاکٹر گووندا کے سی کے گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے۔

آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر گووندا کو ان کے فلسفاتی کام کی وجہ سے نیپال میں جانا جاتا ہے۔

انہون نے بھی سابق چیف جسٹس کی تاریخ پیدائش پر سوالات اٹھائے تھے۔

گوپال پاراجولی نے گزشتہ سال جون کے مہینے میں نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس سوشیلا کارکی کی ریٹائرمنٹ کے بعد عہدہ سنبھالا تھا۔