مانسہرہ: مسلم لیگ ن کی رہنما اور سابق نااہل وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سیاسی پارٹی بن کر یا عمران خان کے جیسی زبان استعمال کریں گے تو انہیں جواب بھی ملے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مانسہرہ میں منعقدہ مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کنونشن میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ضمنی انتخابات میں اپنے سب سے مضبوط امیدوار جہانگیر ترین کے بیٹے کو میدان میں اترا جبکہ دوسری طرف نوازشریف کا گمنام کارکن تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے گمنام کارکن نے تحریک انصاف کے مضبوط امیدوار کو چاروں خانے چت کیا، پی ٹی آئی کو شکست کے بعد چھپنے کی جگہ نہیں ملی تو انہوں نے اپنے ہی امیدوار کو غلط کہنا شروع کردیا، عمران خان کی ناقص اور سازشی پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف سے لوگوں نے منہ موڑ لیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کو عدلیہ سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ صرف نوازشریف کی مخالف پر ملا، نااہلی کا فیصلہ سنانے والے سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے نوازشریف کو کیوں نکالا، جب  سازشوں سے دل نہیں بھرا تو بات خاندان تک پہنچ گئی اور اب ٹرائل کیا جارہا ہے۔

نااہل سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے خلاف انتقام کی آگ بھری ہوئی ہے جو ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، پہلے وزراتِ عظمیٰ، پھر خاندان اور اب مسلم لیگ ن کی صدارت کے پیچھے ہی پڑ گئے، مگر یہ احمق لوگ نہیں جانتے کہ جتنی سازشیں کریں گے نوازشریف اتنا ہی مضبوط ہو گا۔

مسلم لیگ ن کی رہنما کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر  نااہل کر کے عوام کے ووٹ کی توہین کی گئی اور اُسے کوڑے میں ڈال دیا، کبھی کہتے ہی نام ای سی ایل میں ڈالو، جب کبھی عوامی عدالت سے نوازشریف کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو عدلیہ کے ججز کی طرف سے نئی گالی سننے کو ملتی ہے، کیا ججز کی طرف سے گالی عوام کی تضحیک نہیں؟ کیا اس چیز کی آئین نے اجازت دی ہوئی ہے؟

مریم نواز کا  کہنا تھا کہ نوازشریف کے باپ دادا کی قبریں پاکستان میں ہیں ہم کہیں نہیں بھاگیں گے، عوام وعدہ کریں کہ 2018 کے انتخابات میں سازشیوں کو ناکام بنانے کے لیے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں گے۔

سابق نااہل وزیر اعظم کی صاحبزادی نے کہنا تھا کہ عدلیہ ، ججز یا سیاست دان جس طرح کی زبان استعمال کریں گے انہیں جواب بھی اُسی طرح دیا جائے گا کیونکہ یہ کسی شخص کی نہیں بلکہ عوام کی تضحیک ہے، عدالت کی نااہلی کا فیصلہ عوام مسلسل مسترد کررہے ہیں اور اب انہوں نے نوازشریف کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔