ڈیرہ غازی خان کے کھوسہ خاندان میں 21 دسمبر 1954 کو پیدا ہونے والے آصف سعید خان 18 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا منصب سنبھال رہے ہیں۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کرنے والے کے دوران ہی ان کی ذہانت اور قابلیت سامنے آئی تاہم یہ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ طالب علم پاکستان کا چیف جسٹس بنے گا اور عدالتی تاریخ کا وہ جج کہلائے گا جس نے 55 ہزار مقدمات کے فیصلے کیے ہوں گے۔

ملتان بورڈ کے 1969 کے میٹرک کے نتائج میں آصف سعید خان کھوسہ پانچویں پوزیشن پر تھے۔ اس کارکردگی پر نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ کے حق دار ٹھہرنے والے آصف سعید کھوسہ نے پھر پیچھے مڑکر نہیں دیکھا ۔

لاہور ایجوکیشن بورڈ کے 1971 کے ایف اے نتائج میں پہلی پوزیشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے 1973 میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرتے ہوئے بھی ان کی پہلی پوزیشن تھی۔ آصف سعید خان کھوسہ میٹرک، ایف اے اور گریجویشن میں مسلسل نیشنل ٹیلنٹ اسکالر شپس حاصل کرنے والے طالب علم رہے۔ 1975 میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ آج ان کے لکھے گئے فیصلوں میں انگریزی ادب کی جھلک اسی وجہ سے نظر آتی ہے۔

قانون کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے برطانیہ گئے اور1977-78 کوئنز کالج، کیمبرج یونیورسٹی میں گزارے اور ایل ایل ایم کیا ۔ ان کے بھائی طارق کھوسہ اور ناصر کھوسہ اس عرصے میں سول سروس جوائن کر رہے تھے ۔ آصف سعید کھوسہ نے پاکستان واپس آ کر وکالت کا آغاز کیا اور 13 نومبر 1979 کو لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس کرنے کا لائسنس ملا۔ ملک کی اہم عدالت لاہور ہائیکورٹ میں تقریبا چھ برس وکالت میں نام کمانے کے بعد 12 ستمبر 1985 کو جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کو سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کا لائسنس دیا گیا ۔ اس دوران آئینی، فوجداری، دیوانی، ریونیو اور الیکشن قوانین کے ہزارورں مقدمات لڑے ۔ آصف سعید خان کھوسہ کے نام کے ساتھ بطور سپریم کورٹ وکیل 600 مقدمات عدالتی فیصلوں کی مختلف کتابوں میں درج ہوئے۔

معروف قانون دان اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل بابر اعوان نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کو مشہور زمانہ انگلش جج سے تشبیہ دی اور انہیں پاکستان کا لارڈ ڈیننگ قرار دیا۔ بابر اعوان کا کہنا تھا ‘میں ان کے سامنے اس وقت سے پیش ہوتا رہا ہوں جب وہ لاہور ہائیکورٹ کے جج ہیں، میری نظر میں وہ پاکستان کے لارڈ ڈیننگ ہیں، مجھے امید ہے کہ ان کے دور میں فوجداری قوانین میں اصلاحات ہوں گی’ ۔ بابر اعوان نے کہا کہ جسٹس کھوسہ نے نیب اپیل سنتے ہوئے اس کا اشارہ بھی دیا ہے کہ نیب کے قانون میں ضمانت کی شق موجود ہونی چاہیے۔

بابر اعوان نے کہا ‘میں جسٹس آصف کھوسہ کو گریٹ اسلامک جیورسٹ بھی سمجھتا ہوں کیونکہ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی ایک بے گناہ کو بھی سزا نہ ہو اور کوئی ایک گنہگار بھی شک کے فائدے سے محروم نہ رہے’ ۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کو شعر و ادب سے شغف ہے اور ان کے فیصلوں میں اس کے حوالے بھی بڑی خوبصورتی سے سجائے ملتے ہیں مگر ان کی کتابیں مکمل طور پر آئین و قانون کی ہی باتیں کرتی ہیں ۔ پہلی کتاب1995 میں ’ہیڈنگ دی کانسٹی ٹیوشن‘ شائع ہوئی جس کے دو سال بعد ’کانسٹی ٹیوشنل اپلوگز‘ کے نام سے ان کی دوسری کتاب پڑھنے والوں کو دستیاب ہوئی ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی تیسری کتاب جو سب سے زیادہ مشہور ہوئی وہ ’ججنگ ود پیشن‘ ہے جو 2008 میں قانون کے طلبہ اور وکالت کا شعبہ اختیار کرنے والوں نے ہاتھوں ہاتھ لی۔ نئے چیف جسٹس کی چوتھی کتاب ’بریکنگ نیو گراؤنڈ‘ اس وقت زیر طبع ہے ۔ اس دوران ملک کے معتبر قانونی جرائد اور اخبارات میں جسٹس آصف کھوسہ نے مختلف آئینی و قانونی امور پر سینکڑوں مضامین اور ریسرچ پیپرز لکھے ۔

سپریم کورٹ کے وکیل راجا عامر عباس نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بارے میں کہا کہ ان کی کتاب ‘ججنگ ود پیشن’ کئی بار پڑھی اور بہت کچھ سیکھا ۔ عامر عباس کا کہنا تھا ‘جسٹس آصف کھوسہ نے اپنے فیصلوں میں تسلسل رکھا ہوا ہے، انہوں نے اگر ایک فیصلہ میں قانون کی ایک تشریح کی ہے اور عرصہ بعد بھی دیگر فیصلوں میں اسی تشریح کو مزید تفصیل سے بیان کیا’ ۔ وکیل عامر عباس نے کہا کہ جسٹس آصف کھوسہ کے مقابلے کا کوئی دوسرا جج نہیں جو حقائق/شواہد کو اتنے زبردست طریقے سے جانچنے کی اہلیت رکھتا ہو۔

ان کا کہنا تھا ‘جسٹس کھوسہ اس مقولے پر عمل کرتے ہیں اور ملزم کو قانون کا لاڈلا بچہ سمجھتے ہیں۔ صحیح معنوں میں ملزم کو شفاف ٹرائل کا حق دیتے ہیں، وہ اس تھیوری پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ ایک بھی بے گناہ کو سزا دینے سے بہتر ہے کہ سو گناہ گار بچ جائیں’ ۔

عامر عباس نے امید ظاہر کی کہ جسٹس آصف کھوسہ بطور چیف جسٹس فوجداری نظام انصاف میں نمایاں تبدیلی لے کر آئیں گے ۔

وکالت کے دوران آصف سعید خان کھوسہ نے ملتان کی بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے یونیورسٹی لاء کالج کے علاوہ پنجاب لاء کالج لاہور کے طلبہ کو بھی کانسٹی ٹیوشنل لا پڑھایا۔ آصف سعید خان کھوسہ کا عدالتی کیریئر 21 مئی 1998 کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بن کر ہوا ۔ 2007 کی ایمرجنسی کے دوران انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا ساتھ دیا ۔ تقریبا بارہ سال تک لاہور ہائیکورٹ میں خدمات انجام دینے کے بعد فروری 2010 میں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں جج کے عہدے پر لائے گئے ۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ سپریم کورٹ کے اس سات رکنی بنچ کا حصہ تھے جس نے ملکی تاریخ میں پہلی بار منتخب وزیراعظم کو عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں توہین عدالت کا مجرم قرار دیا تھا ۔ اس فیصلےمیں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کا وہ نوٹ بہت مشہور ہوا تھا جس میں انہوں نے مفکر و ادیب خلیل جبران کی مشہور ’افسوس اس قوم پر‘نظم کو اپنے الفاظ اور انداز میں لکھا تھا ۔ اس نوٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ افسوس اس قوم پر جو مجرموں کا استقبال ہیرو کی طرح کرتی ہے۔

اس طویل نظم پر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی مختلف حلقوں نے تحسین کی مگر کچھ قانونی دماغوں نے تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ سپریم کورٹ کے وکیل اور پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فیصل فرید چوہدری نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بارے میں کہا کہ وہ اسکالر جج ہیں، پاکستان کے واحد جج ہیں جن کا فیصلہ ہاورڈ کی کیس لسٹ میں درج ہے ۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا ‘لاہور ہائیکورٹ کے جج کے طور پر جسٹس آصف کھوسہ نے وارث علی کیس کے فیصلے میں دہشت گردی کی تعریف طے کی جس کی عالمی پذیرائی ہوئی اور اس کو ہاورڈ کی کیس لسٹ میں شامل کیا گیا’۔

فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ جسٹس کھوسہ نے سپریم کورٹ میں بھی کئی لینڈ مارک فیصلے صادر کیے، ان کا پانامہ کیس میں فیصلہ بھی بہت اہم ہے جس میں کئی قوانین کی تشریح کی گئی ہے ۔

فیصل چوہدری کے الفاظ میں ‘جسٹس کھوسہ کھل کر لکھتے ہیں اور وہ بہت کلیئر ہیں، بڑے آدمی اور بڑے جج ہیں، تحمل سے وکیلوں کو سنتے ہیں اور کبھی کسی وکیل سے ان کی عدالت میں سختی دیکھنے سننے میں نہیں آئی’ ۔ فیصل فرید چوہدری کے مطابق جسٹس کھوسہ خود کو صرف قانونی نکات تک محدود رکھتے ہیں ۔

ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے جسٹس کھوسہ کے حالیہ دورہ امریکا کے بارے میں ایک واقعہ بھی سنایا ۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں جسٹس آصف کھوسہ نجی دورے پر امریکا گئے تو وہاں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ان کو سفارت خانے کی گاڑی استعمال کرنے کی پیشکش کی جس پر انہوں نے انکار کر دیا ۔

فیصل چوہدری کہتے ہیں کہ وہ ریفارمر ہیں، ان کو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ریفارمر چیف جسٹس کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔

گزشتہ 19 سال اور 6 ماہ کے عدالتی کیریئر میں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے 55 ہزار مقدمات کے فیصلے کر کے ایک منفرد ریکارڈ اپنے نام کیا ہے ۔ ان کے نام یوں تو کئی بڑے اور اہم مقدمات کے فیصلے ہیں مگر ممتاز قادری کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ لکھنا اور آسیہ بی بی کی اپیل سننے والا بنچ کا حصہ ہونا اہم ترین ہے ۔

انتہائی سنجیدہ نظر آنے والے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی عدالت میں اکثر اوقات ان کے برجستہ جملوں کی وجہ سے وکیل مشکل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انتہائی متانت سے عدالت کی کارروائی چلانے والے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ انتہا کے بذلہ سنج بھی ہیں ۔ تیزی سے دلائل میں آئین و قانون کے حوالے دے کر آگے بڑھتے ہوئے وکیل کے سامنے وہ مقدمے کی فائل سے فیکٹس/حقائق پڑھ کر ایسا چھبتا ہوا سوال اچھال دیتے ہیں کہ بہت سی گھتیاں سلجھ جاتی ہیں ۔

ذہانت سے چمکتی آنکھوں والے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی عدالت میں بہت سے وکیل صرف فوجداری مقدمے کے داو پیچ سیکھنے کے لیے آتے ہیں ۔ وہ وکیلوں کی گھنٹوں پر محیط بحث کو اپنے قانونی سوالات سے چند منٹ میں سمیٹ دیتے ہیں ۔ فیصلے لکھواتے ہوئے وہ حد درجہ صاف، واضح اور بہاؤ میں ہوتے ہیں۔

اگر کسی ان کی عدالت میں کسی سے سماعت رہ جائے تو ان کو فیصلہ لکھواتے ہوئے سننا خاصے کی چیز ہوتی ہے، عدالتی حکم نامے میں وہ دریا کو کوزے میں بند کر دیتے ہیں۔ ہر مقدمے کی پوری فائل پڑھ کر مکمل تیاری کے ساتھ کمرہ عدالت میں آنے والے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے سامنے کمزور کیس والے وکیل زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اکثر اوقات درخواست گزار/ شکایت کنندہ کے وکیل سے کہتے ہیں کہ ابھی آپ ٹھہریں پہلے ہمیں دفاع/صفائی کے وکیل سے کچھ بنیادی نوعیت کے سوال کرنے دیں، ہو سکتا ہے کہ آپ کو دلائل دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ اور پھر ایسا ہی ہوتا ہے کہ عدالت چند سوالات کرنے سے نتیجے پر پہنچ جاتی ہے۔

پاکستان میں فوجداری قانون کا اعلی ترین دماغ سجھے جانے والے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کو اس قانون کی ایک ایک شق بلکہ کوما اور فل اسٹاپ بھی ازبر ہے۔ پاناما کیس کے پہلے فیصلے میں ان کے اختلافی نوٹ کے ’گاڈ فادر‘ نے ملکی و غیرملکی میڈیا میں دھوم مچا دی تھی مگر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ عام طور پر میڈیا سے کنارہ کش رہنا پسند کرتے ہیں۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ ان قانونی دماغوں میں سے ہیں جو کہتے ہیں کہ جج کو اپنے فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہیے۔