چوہدری شجاعت حسین نے ’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں مزید لکھا‘ میاں محمد شریف 1997ء کے الیکشن سے پہلے بھی ہمارے گھر تشریف لائے‘ میری والدہ سے ملاقات کی اور کہا ’’میرا خاندان آپ کا احسان مند ہے‘ آپ لوگوں نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا۔

ہمارے لیے جیل بھی کاٹی‘ میں نے فیصلہ کیا ہے الیکشن کے بعد جب میاں نواز شریف وزیراعظم بنیں گے تو پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب ہوں گے‘ یہ نہیں ہو سکتا ایک بھائی وزیراعظم ہو اور دوسرا بھائی وزیراعلیٰ‘ انشاء اللہ اس بار اقتدار کا ہما آپ کے بچوں کے سر پر ضرور بیٹھے گا‘‘ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا لیکن الیکشن میں اکثریت کے بعد نواز شریف وزیراعظم اور میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ بن گئے۔

ہمارے ساتھ ایک بار پھر وعدہ خلافی ہوگئی‘ چوہدری صاحب نے انکشاف کیا‘ ہماری حکومت میں چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کے فون بھی ٹیپ ہوتے تھے اور ان کی سائیڈ ٹیبل کے نیچے ریکارڈنگ ڈیوائس بھی تھی‘ چیف جسٹس نے ریکارڈنگ ڈیوائس کے ساتھ پریس کانفرنس کا فیصلہ کیا‘ نواز شریف پریشان ہو گئے‘ میں نے بڑی مشکل سے چیف جسٹس کو منایا‘ میاں نواز شریف چیف جسٹس کو پارلیمنٹ کی استحقاق کمیٹی میں بلا کر سرزنش بھی کرانا چاہتے تھے اور جیل میں بھی بند کرنا چاہتے تھے‘ گوہر ایوب نے انھیں بڑی مشکل سے روکا۔

چوہدری شجاعت نے انکشاف کیا 28 نومبر 1997ء کو سپریم کورٹ پر حملہ ہوا تو میاں شہباز شریف حملہ آوروں کو اسپیکر پر کہہ رہے تھے تمام کارکن پنجاب ہاؤس سے کھانا کھا کر جائیں‘ وہاں قیمے والے نانوں کا بندوبست کر دیا گیا ہے‘ چوہدری صاحب نے انکشاف کیا‘ 12 اکتوبر 1999ء کو غوث علی شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ اور رانا مقبول احمد (یہ مارچ 2018ء میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ووٹوں سے سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں) آئی جی تھے۔

میاں نواز شریف نے غوث علی شاہ کو حکم دیا آپ خود کراچی ائیرپورٹ جائیں اور جب جنرل پرویز مشرف کا جہاز لینڈ کرے تو آپ اسے اپنے سامنے گرفتار کروائیں‘ آئی جی رانا مقبول نے چیف منسٹر کو کہا‘ ہم ائیرپورٹ چلتے ہیں‘ہم اگر جنرل مشرف کو گرفتار کر سکے تو ٹھیک ورنہ ہم کہیں گے سر ہم آپ کے استقبال کے لیے آئے ہیں‘ یہ دونوں ائیرپورٹ پہنچے‘وہاں فور اسٹار گاڑی کھڑی تھی‘ گاڑی دیکھ کر رانا مقبول احمد غائب ہو گئے۔

میاں برادران جب دسمبر 2000ء میں سعودی عرب جا رہے تھے تو غوث علی شاہ لانڈھی جیل میں ان کے ساتھ تھے‘ غوث علی شاہ نے میاں شہباز شریف سے پوچھا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ شہباز شریف نے جواب دیا‘ میں کسی سے ملنے جا رہا ہوں‘ ایک دو گھنٹے میں واپس آ جاؤں گا لیکن غوث علی شاہ نے بعد ازاں ٹیلی ویژن پر میاں برادران کو سعودی جہاز پر سوار ہوتے دیکھا تو یہ حیران رہ گئے۔

یہ واقعہ غوث علی شاہ نے خود مشاہد حسین سید کو سنایا اور کہا ’’شاہ صاحب کیا اس جہاز میں ہمارے لیے ایک سیٹ بھی نہیں تھی‘‘ چوہدری صاحب نے انکشاف کیا‘ جنرل مشرف نے مجھے بتایا‘ 12 اکتوبر کے ٹیک اوور سے پہلے میاں محمد شریف نے مجھے رائے ونڈ بلایا تھا‘میاں صاحب نے مجھے وہاں اپنا چوتھا بیٹا بنا لیا‘ میں نے جنرل مشرف کو بتایا‘ آپ سے ملاقات کے بعد بڑے میاں صاحب نے ہمیں بلاکر کہا تھا’’میں نے نواز شریف کو کہہ دیا ہے جنرل مشرف کو فوراً فارغ کر دو‘ میں نے اس کی آنکھیں دیکھی ہیں‘ یہ بڑی خطرناک آنکھیں ہیں‘‘ ۔چوہدری صاحب نے انکشاف کیا۔

ہم نے اعجاز حسین بٹالوی کو میاں نواز شریف کا وکیل کر کے دیا تھا‘ میاں نواز شریف نے جدہ جانے سے پہلے حمزہ شہباز کے ذریعے اعجاز حسین بٹالوی کو اٹک قلعہ بلوایا اور انھیں دس سال کے معاہدے کی کاپی دکھائی‘ بٹالوی صاحب نے کاپی دیکھ کر کہا‘ میاں صاحب آپ نے اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کر دیے ہیں‘ میاں نواز شریف کے ساتھ جیل میں کسی قسم کی بدسلوکی نہیں ہوئی۔

یہ دن میں تین مرتبہ اپنی مرضی کا کھانا کھاتے تھے‘ میجر ان کے پاس باقاعدہ مینیو لے کر آتا تھا‘ ہماری حکومت کے دوران پاکستان میں رہ جانے والے شریف خاندان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی‘ حمزہ شہباز ہمیں فون کرتے تھے اور ان کا مسئلہ چند منٹوں میں حل ہوتا تھا‘ ان کے ملازمین اور گارڈز کو تنخواہیں تک ملتی تھیں‘ وزیراعلیٰ پرویز الٰہی حمزہ شہباز کی شوگر مل کے گنے تک کے ایشو حل کرتے تھے۔

نواز شریف کی والدہ ’’ای سی ایل‘‘ پر تھیں‘ یہ جدہ جانا چاہتی تھیں‘ ایف آئی اے نے انھیں روک لیا‘ انھوں نے مجھے کراچی ائیر پورٹ سے فون کیا‘ وہ جب تک جہاز میں سوار نہ ہو گئیں میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھا۔ آپ جوں جوں یہ کتاب پڑھیں گے آپ کو یہ کتاب شریف برادران پر پاناما سے بڑا تودا بن کر گرتی نظر آئے گی‘ یہ ان کے کردار کو مشکوک کرتی دکھائی دے گی‘ اس کا کس کو فائدہ ہو گا ہم اس کا فیصلہ مستقبل کے مورخ پر چھوڑتے ہیں۔

چوہدری شجاعت حسین نے کتاب میں بے شمار دلچسپ واقعات بھی تحریر کیے‘ مثلاً چوہدری صاحب نے لکھا‘ پاکستان میں لیلین (بریزے) کا کپڑا تایا چوہدری منظور الٰہی (چوہدری پرویز الٰہی کے والد) اور والد چوہدری ظہور الٰہی نے متعارف کرایا‘ چوہدری ظہور الٰہی حالات کی وجہ سے پولیس میں کانسٹیبل بھی بھرتی ہوئے‘ جنرل ضیاء الحق کی حکومت شیخ رشید کو کوڑے مارنے لگی تھی‘ چوہدری ظہور الٰہی تہجد کے وقت جنرل ضیاء الحق کے گھر پہنچے یوں شیخ رشید کوڑوں سے بچ گئے

وزیراعظم محمد خان جونیجو نے صدر ضیاء الحق کے مالی کو ایکسٹینشن دینے سے انکار کر دیا تھا‘ یہ واقعہ بھی جونیجو حکومت کے خاتمے کا باعث بنا‘ جونیجو حکومت کا فوج سے رویہ اچھا نہیں تھا‘ وزیراعظم نے سیکریٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمن کو ہٹا دیا‘ صدر ضیاء چین کے دورے پر جا رہے تھے‘ وزیراعظم نے صدر کا ایک فوٹوگرافر کم کر دیا۔

تحائف کے لیے لے جانے والے قالین بھی کم کر دیے گئے اور وزیر دفاع رانا نعیم نے ایک جنرل کو اپنے دفتر بلایا اور سامنے سے کرسی اٹھوا دی‘ جنرل دیر تک کھڑا رہا‘ یہ تمام واقعات جونیجو حکومت کی برطرفی کی وجہ بنے تاہم جونیجو حکومت کے خاتمے پر مطمئن تھے‘ صدر نے انھیں سرکاری جہاز پر کراچی جانے کی پیشکش کی لیکن جونیجو نے معذرت کر لی۔

بینظیر بھٹو نے 1990ء میں اپنی حکومت بچانے کے لیے امریکی سفیر رابرٹ اوکلے کو صدر غلام اسحاق خان کے پاس بھجوایا‘ صدر نے امریکی سفیر کوبتایا‘ میں حکومت ختم نہیں کر رہا لیکن صدر نے اسی شام حکومت برطرف کر دی‘ بینظیر نے صدر سے پوچھا‘ آپ نے صبح کہا تھا میں حکومت برطرف نہیں کر رہا‘ غلام اسحاق خان نے جواب دیا‘ میں نے یہ فیصلہ دوپہر کے بعد کیا تھا‘ مولانا فضل الرحمن 2002ء میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے۔

صدر مشرف میر ظفر اللہ جمالی کو سست سمجھتے تھے‘ ان کا کہنا تھا‘ وزیراعظم 12 بجے اٹھتے ہیں‘ فائلیں ڈیلے ہوتی ہیں اور امریکا کے دورے کے بارے میں بھی انھوں نے غلط بتایا چنانچہ میں انھیں تبدیل کرنا چاہتا ہوں‘ میں 45 دن کے لیے وزیراعظم تھا‘ حکومت نے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شوکت عزیز کو بلٹ پروف گاڑی دے رکھی تھی‘ ایوان صدر نے یہ گاڑی واپس مانگ لی‘ میں نے ملٹری سیکریٹری کو کہا‘ آپ ایوان صدر کو ٹال دیں۔

شوکت عزیز پر اگلے دن اٹک میں خودکش حملہ ہو گیا‘ وہ گاڑی اگر واپس چلی جاتی تو شوکت عزیز حملے میں مارے جاتے‘ میں نے اکبر بگٹی اور جنرل مشرف کی ملاقات کا بندوبست کیا لیکن یہ ملاقات عین وقت پر منسوخ ہو گئی جس کے بعد اکبر بگٹی کو قتل کر دیا گیا‘افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس میں نے بنوایا تھا‘ میں انھیں اپنے ساتھ ایوان صدر لے کر گیا تھا‘ افتخار محمد چوہدری نے جنرل مشرف اور طارق عزیز کو یقین دلایا وہ ان کے اعتماد پر پورے اتریں گے‘ یہ ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے‘ جنرل مشرف مطمئن ہو گئے اور یوں افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس بن گئے۔

میں نے چیف جسٹس کو صلح کے لیے منا لیا تھا لیکن شوکت عزیز نے عین وقت پر چیف جسٹس کے گھر سے سرکاری گاڑیاں منگوا کر معاملہ بگاڑ دیا‘ لال مسجد کے ایشو پر شوکت عزیز نے کہا تھا ’’اچھا ہے میڈیا کی توجہ عدلیہ سے ہٹ جائے گی‘‘ اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر محمد علی درانی نے بھی وزیراعظم کے خیالات سے اتفاق کیا‘ این آر او جنرل مشرف کی طرف سے بینظیر اور امریکا کو ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ تھا‘ 2008ء کے الیکشن فکسڈ تھے‘۔

مجھے الیکشن کے دن صدر مشرف نے فون کر کے کہا ’’آپ کو 45 نشستیں ملیں گی‘ آپ انھیں قبول کر لیجیے گا‘‘ تین امریکی سینیٹرز جوبائیڈن‘ جان کیری اور چک ہیگل الیکشن سے پہلے پرویز الٰہی سے ملے اور کہا ’’آپ کی پارٹی الیکشن جیت گئی تو ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے‘‘ ہم 2008ء کے الیکشن کے بعد بلوچستان میں حکومت بناسکتے تھے لیکن ہمیں جنرل پرویز مشرف نے روک دیا۔

ہم نے وجہ پوچھی تو جنرل مشرف نے کہا‘ میں آصف علی زرداری کو ’’کمفرٹ لیول‘‘ دینا چاہتا ہوں‘ الیکشن کے ایک سال بعد رچرڈ آرمٹیج لاہور میں ہم سے ملے‘ ہم نے 2008ء کے الیکشن کا ذکر کیا تو رچرڈ آرمٹیج نے بتایا ’’آپ کو الیکشن میں آپ کے دو دوستوں جنرل پرویز مشرف اور طارق عزیز نے ہروایا تھا‘‘ اور آخری بات’’الیکشن کے بعد آصف علی زرداری نے مجھے پارٹی کی قیادت سے ہٹوانے کی کوشش کی‘ حامد ناصر چٹھہ زرداری صاحب سے ملے تو زرداری صاحب نے کہا‘ میں چوہدری شجاعت کو نہیں‘ میں جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے ہٹانا چاہتا ہوں‘ یہ مستعفی نہ ہوئے تو ہم ان کے خلاف مواخذے کی تحریک لائیں گے‘ یہ بات جب جنرل مشرف کے نوٹس میں آئی تو انھوں نے زیر لب آصف علی زرداری کے خلاف ایسے کلمات کہے جو درج نہیں کیے جا سکتے‘‘۔