’اطالوی دارالحکومت رومن کیتھولک فرقے کے ہزاروں پادری دعائیہ اجتماعات کے انعقاد کے بعد اپنے لبادے اتار کر ہم جنس مناظر سے محضوظ ہوتے ہیں۔‘

یہ دعویٰ فرانس کے صحافی فیڈرک مختل نے اپنی کتاب ‘ان کے کلوزٹ آف دی ویٹیکن’ میں کیا ہے جو گزشتہ جمعرات کو شائع ہوئی۔ اسی دن روم میں چرچ نے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جس میں اغلام بازی کے خلاف حکمت عملی اختیار کرنے پر غور کیا گیا۔

تحقیقات

مختل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس کتاب کے لیے تحقیق کرنے کے لیے کئی ملکوں کا سفر کیا، درجنوں پادریوں اور کلیسا کے سربراہوں اور ویٹیکن سے قربت رکھنے والے مذہبی سکولوں کے سربراہوں سے بات کی۔

پادریتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionیہ دھماکہ خیز کتاب ایک ایسے وقت شائع ہوئی ہے جب ویٹیکن میں ہم جنس پرستی کے الزامات پر بات کرنے کے لیے ایک خصوصی اجلاس ہو رہا ہے

انھوں نے بتایا کہ اس تحقیق کے دوران انھوں نے 41۔ کارڈینل،52 ۔بشپ اور دو سو کے قریب پادریوں اور سفارت کاروں سے انٹرویو کیے۔

مختل کے بقول تاریخی اور سماجی حالات کی بنا پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوانون کو جنہیں ان کے دیہات اور قصبوں میں ان کے جنسی میلان کی وجہ سے نفرت اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا ان کے لیے رہبانیت فرار کا ایک آسان راستہ ثابت ہوا۔ اس طرح مختل کے بقول چرچ ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو گیا جس میں اکثریت ہم جنس پرستوں کی ہو گئی ہے۔

مختل نے کہا کہ انھوں نے یہ دریافت کیا کہ ویٹیکن ایک ہم جنس پرست تنظیم ہے جس کے ارکان دن کی روشنی میں اپنے جنسی جذبات یا ہوس کو دبائے رکھتے ہیں لیکن سورج غروب ہونے کے بعد اکثر ٹیکسی پکڑ کر کے اپنے ہوس کی تسکین کے لیے کسی ہم جنس پرست کلب کا رخ کرتے ہیں۔

مختل کو کسی ذریعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ویٹیکن کے اسی فیصد ارکان اور پادری ہم جنس پرست ہیں لیکن فرانسیسی صحافی اور مصنف اس دعوی کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق حاصل نہیں کر سکے۔

مختلتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionمختل ایک مصنف اور ماہر عمرانیات ہیں جو فرانسیسی حکومت کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں

خفیہ زندگی

انھوں نے کہا کہ انھیں یہ بھی علم ہوا کہ بہت سے پادری ایسا طرز زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں جس کی وہ دعائیہ اجتماعات میں نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ اس سے باز رہنے کی بھی نصیحتیں کرتے ہیں۔

بی بی سی نے فرانسیسی مصنف مختل کے دعوؤں پر رد عمل معلوم کرنے کے لیے ویٹیکن سے رابطہ کیا لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

لیکن مختلف ادیان کا مطالعہ کرنے والے ایک مشہور عالم جیمز مارٹن نے فرانسیسی مصنف مختل کے اتنے زیادہ لوگوں کے انٹرویوز سے معلومات اخذ کرنے کے طریقۂ کار پر اعتراض کیا۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مختل نے اپنی کتاب کے لیے کافی متاثر کن تحقیقات کی ہیں اور اس کتاب میں چرچ کے ہم جنسیت کے بارے میں پائے جانے والے دوغلے پن پر روشنی ڈالی ہے۔

لیکن یہ دوغلہ پن گپ شپ، اندازوں اور قیاس آرائیوں پر قائم ہے جو قارئین کو حقیقت اور افسانے میں امتیاز کرنے میں ابہام کا شکار کر دیتا ہے۔

پادریتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionمختل نے اپنی کتاب کے لیے درجنوں پادریوں سے بات کی

راہبانیت اور ہم جنس پرستی

مختل جو خود بھی ہم جنس پرست ہیں ان کا کہنا ہے کہ چرچ کے اندر یہ مسئلہ پادریوں کے جنسی میلان کا نہیں ہے بلکہ جنسی رحجانات کے بارے میں چرچ کی دہری اخلاقیات کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنسی بدسلوکیاں صرف ہم جنسی پرستی کی وجہ سے نہیں ہوتیں اور دنیا میں جنسی زیادتیوں کا شکار زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں۔ لیکن اگر آپ چرچ پر نظر ڈالیں تو زیادہ تر واقعات میں ہم جنس پرست پادری ملوث ہوتے ہیں۔

سان پیدرو کا مجسمہتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionناقدین کا کہنا ہے کہ فرانسیسی مصنف اپنے دعوؤں کے حق میں ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مختل کا استدال ہے کہ رازداری کا ماحول جو چرچ میں پایا جاتا ہے اس طرح کے واقعات کو چھپائے رکھنے اور خفیہ رکھنے کی وجہ بنتا ہے۔ بہت سے پادری اور بشپ ہم جنس پرست ہیں اور وہ ذرائع ابلاغ میں سکینڈل بن جانے سے ڈرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان میں بہت سے پادری عوامی سطح پر ہم جنس پرستی کی مخالفت کرتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ فرانسیسی مصنف اپنے دعوؤں کے حق میں ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پوپ فرانسستصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionپوپ فرانسس کئی مرتبہ اس مسئلہ پر بات کر چکے ہیں

’شیطان کے ساتھی‘

ادھر پوپ فرانسس نے آج رومن کیتھولک چرچ کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ ایسا فعل کرنے والے پادرای دراصل ’شیطان کے ساتھی‘ ہیں اور اس قسم کے ہر واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا انھیں قدیم مذہب میں بچوں کی قربان کی رسومات کی یاد دلاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سے مجھے ایک زمانے میں مختلف معاشروں میں رائج ظالمانہ مذہبی روایت کی یاد آتی ہے۔‘

امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں ویٹیکن کی جانب سے بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کرنے والے پادریوں کے خلاف حکمت عملی پیش کی جائے گی۔

پوپ فرانسس نے کہا کہ اب متاثرین ترجیح ہوں گے اور بشپس کو کارروائی کے لیے نئی اور واضح ہدایات دی جائیں گی۔ اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’چھوٹے بچوں کی دبی ہوئی چیخوں کی آواز، جنھیں روحانیت کی بجائے عذاب جھیلنا پڑا، منافقت اور طاقت تلے دبے دلوں کو ہلا کر رکھ دیں گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان خاموش دبی ہوئی چیخوں کو غور سے سنیں۔‘

BBC URDU