نعیم الحق نے این آراو مانگنے کا دعویٰ کردیا
پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ارکان کیسزمیں نرمی کے پیغامات بھیجتے ہیں، سمجھوتے کے پیغام بھیجنا ہی این آر او مانگنا ہوتا ہے، پیغامات بھیجنے والوں کے نام نہیں بتا سکتا۔پی ٹی آئی رہنماء نعیم الحق کی گفتگو

تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء نعیم الحق نے این آراو مانگنے کی تصدیق کردی۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ارکان کیسزمیں نرمی کیلئے پیغامات بھیجتے رہتے ہیں، اسی کو این آر او مانگنا کہتے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماء نعیم الحق نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ارکان کیسزمیں نرمی کیلئے پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔
نعیم الحق نے کہا کہ حکومت کو سمجھوتے کے پیغام بھیجنا ہی این آر او مانگنا ہوتا ہے۔ کیسز میں نرمی برتنے کیلئے سمجھوتے کے پیغامات بھیجنے والوں کے نام نہیں بتا سکتا۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں واضح کیا ہے کہ این آراوصرف ایک آمر دے سکتا ہے، این آراووہ کرتے ہیں جن کوآئین کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔

آمر این آراوکے ذریعے سزائیں معاف کرسکتا ہے۔ موجودہ وزیراعظم کے پاس این آراودینے کے کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ نوازشریف عدالتوں 180سے زائد پیشیاں بھگتیں۔عدالتوں کا سامنا کرنے والا این آراو نہیں مانگتا۔این آراوکی بحث ختم کریں ۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں تبدیلی سینیٹ کے اندر سے ہی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کویومیہ کم ازکم ایک ارب کا نقصان ہورہا ہے، چھ ماہ میں ایک ہزار ارب کا خسارہ ہوچکا، اسٹیٹ بینک سے 14سوارب قرض لیا،حکومت نوٹ چھاپنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس صرف ای سی ایل پرہونا حکومتی اہلیت کا معیار ہے۔ ہم ای سی ایل معاملے پر صرف پانچ منٹ لگاتے تھے۔