مجھے اس وقت 1965 کی جنگ والا ماحول نظر آرہا ہے، پوری قوم تیار رہے ، بھارت دوبارہ حملہ کرسکتا ہے
خدا کرے کے بھارت ہوش کے ناخن لے اورحد میں رہے، جوملک خطے میں امن چاہتے ہیں، وہ کردار ادا کریں: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

مجھے اس وقت 1965 کی جنگ والا ماحول نظر آرہا ہے، پوری قوم تیار رہے ، بھارت دوبارہ حملہ کرسکتا ہے، خدا کرے کے بھارت ہوش کے ناخن لے اورحد میں رہے، جوملک خطے میں امن چاہتے ہیں، وہ کردار ادا کریں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے تشویش ناک بیان دیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اس وقت 1965 کی جنگ والا ماحول نظر آرہا ہے تاہم پوری قوم تیار رہے۔
بھارت دوبارہ حملہ کرسکتا ہے لیکن خدا کرے کے بھارت ہوش کے ناخن لے اورحد میں رہے۔ وزیر خارجہ نے اس تمام صورتحال میں عالمی برادری سے اپیل کی ہے جوملک خطے میں امن چاہتے ہیں، وہ کردار ادا کریں۔

دوسری جانب بھارت کی مودی سرکار جنگی جنون میں مبتلا ہے اور پاکستان کے جوابی حملے کے بعد مکمل طور پر پاگل ہوگئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پاک فضائیہ کے منہ توڑ جوابی وار کے بعد مودی کی زیر صدارت بھارت کی سیکورٹی کونسل کا کئی گھنٹے طویل اجلاس ہوا۔

اس دوران مودی نے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے اپنی الیکشن کی فتح کے حصول کی خاطر ایک ارب سے زائد آبادی کو جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا۔پاک فضائیہ کی جانب سے بھارتی طیارے مار گرائے جانے کے بعد مودی نے بھارتی فوج، فضائیہ اور نیوی کو پاکستان پر حملے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ اس سے قبل بھارت نے پاکستان میں در اندازی کی کوشش کی تو پاکستان نے آج صبح ہی بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ بھارتی سرکار کی عقل ٹھکانے آ گئی۔
پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیکس ، دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور 300 سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرنے والا بھارت پاک فضائیہ کے طیاروں کے فضا میں بلند ہوتے ہی دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔ بھارت کی دراندازی کی کوشش کے نتیجے میں 300 تو کیا 3 افراد کے مارے جانے کی اطلاع بھی موصول نہیں ہوئی۔ بلکہ حقیقت تو یہ کہ بھارتی فضائیہ کے طیارے جنگل میں درختوں پر بم پھینک کر فرار ہو گئے جس پر پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی۔
پاکستان اور بھارت کے مابین گذشتہ رات سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ آج صبح پاک فوج نے اپنی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے دو لڑاکا طیارے تباہ کر دیے جبکہ بھارتی پائلٹس کو بھی حراست میں لے لیا۔ بھارتی فضائیہ کے دو طیارے تباہ ہونے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جنہوں نے مودی سرکار کو اپوزیشن اور عوام کے سامنے ذلیل کر کے رکھ دیا۔
بھارت جو پاکستان میں رات کے اندھیرے میں فضائی کارروائی کرنے کا دعویدار تھا ، اپنی سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کے حق میں ایک تصویر تک بطور ثبوت پیش نہ کر سکا جبکہ پاکستان نے دن دیہاڑے بھارتی لڑاکا طیارے گرا کر بھارت کو بلا شُبہ دن میں تارے دکھا دئے۔ پاکستان کی جانب سے اس قسم کا شاندار سراپرائز ملنے کے بعد مودی سرکاری کو اپوزیشن اور عوام کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے پر چیخ چیخ کر اپنی حکومت کا ساتھ دینے والا بھارتی میڈیا بھی پاک فوج کی اس کارروائی کے بعد چُپ سادھ کر بیٹھ گیا ہے گویا انہیں بھی کوئی سانپ سونگھ گیا ہو۔
اپوزیشن نے بھارتی حکومت سے پاکستان میں کی گئی کارروائی کے ثبوت طلب کیے لیکن بھارتی حکومت اس حوالے سے کوئی بھی ثبوت دینے میں ناکام ہو گئی جس سے مودی سرکار کا سیاسی فوائد حاصل کرنے لیے رچایا گیا یہ ڈرامہ بے نقاب ہو گیا۔ اپوزیشن نے مودی سرکاری کو خوب آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان میں جن درختوں کو تباہ کیا اُن کی قیمت ہمیں دو طیاروں کی تباہی ، پائلٹس کی ہلاکت اور ہمارے پائلٹس کی پاک فوج کے زیر حراست ہونے کی صورت میں چکانا پڑ رہی ہے۔
بھارت کی ”So Called” سرجیکل اسٹرائیکس میں جو تین چار درخت تباہ ہوئے ان کی قیمت بھارت نے دو لڑاکا طیارے اور پائلٹس کی ہلاکت کی صورت میں چُکا کر اپنی جان خلاصی کروائی۔ اپوزیشن اور عوام کے سامنے اپنی حکومت کے بھونڈے دعووں کی قلعی کھُل گئی ہے اور اب مودی سرکار سے اپیل کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مزید چھیڑ خانی نہ کی جائے کیونکہ اگر مودی سرکار نے مزید ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو عین ممکن ہے کہ اس مرتبہ پاک فوج بھارت کو وہ مزہ چکھائے کہ بھارت رہتی دنیا تک یاد رکھے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے کہ انہیں پاکستانی کارروائی کی خبر ایک چٹ پر لکھ کر افسر نے بتائی جس پر بھارتی وزیر اعظم حواس باختہ ہو گئے اور تقریب ادھوری چھوڑ کر ہی چلتے بنے۔ یاد رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے بھی پریس کانفرنس کے دوران واضح کہا کہ ہم صرف بھارت کو دکھانا چاہتے تھے کہ پاکستان میں بھرپور صلاحیت ہے لیکن ہم جنگ نہیں چاہتے کیونکہ ہم نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے اور ہماری اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔