نیب قانون میں اس لیے ترمیم کی کیونکہ بیوروکریٹس پر تلوار لٹک رہی تھی، عمران خان فوٹو:اسکرین گریب

نیب قانون میں اس لیے ترمیم کی کیونکہ بیوروکریٹس پر تلوار لٹک رہی تھی، عمران خان فوٹو:اسکرین گریب

فیصل آباد: وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب پولیس کو حکم دیا ہے کہ صوبے کے کسی ضلع میں کوئی ڈاکو اور مافیا نظر نہ آئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے فیصل آباد میں 2 منصوبوں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور پناہ گاہ کا افتتاح کیا۔ پناہ گاہ میں 400 کے قریب افراد کے رہنے کی گنجائش ہے اور وزیر اعظم نے وہاں مقیم افراد کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔

نیب قانون

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نیب قانون میں اس لیے ترمیم کی کیونکہ بیوروکریٹس پر تلوار لٹک رہی تھی، نیب قانون کی وجہ سے سرکاری دفاتر میں فائلیں آگے نہیں چل رہی تھیں اور حکام دستخط کرتے ہوئے ڈرتے تھے، نیب آرڈیننس لانےکامقصدبیوروکریٹس کوکھل کر کام کرنےکاموقع دیناہے۔

عمران خان نے تقریب میں سامنے بیٹھے چیف سیکریٹری پنجاب  میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیف سیکریٹری صاحب اب تو آپ کےافسران کے پاس کام نہ کرنےکا کوئی بہانہ نہیں ہوگا، امید ہے بیوروکریسی اب اچھا کام کرےگی۔

پنجاب میں کوئی ڈاکو، مافیا اور قاتل نظر نہ آئے

وزیراعظم نے تقریب میں موجود آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی جی پنجاب کی ایک ماہ میں زبردست کارکردگی رہی، پرانے خوفناک جرائم پیشہ افراد اور قاتلوں کو جیلوں میں ڈالنے پر آپ کو مبارک باد دیتا ہوں، پنجاب کے ہر شہر میں مافیا بیٹھا ہوتا ہے، پچھلے 30 سال میں رسہ گیروں، ڈاکوؤں اور خوفناک غنڈوں سے سیاست دان دوستیاں کرلیتے تھے اور ان کےذریعے ووٹ حاصل کرتے تھے، آئی جی صاحب مجھے آپ سے توقع ہے کہ دو تین ماہ میں پنجاب کے کسی ضلع میں کوئی ڈاکو، مافیا اور قاتل نظر نہ آئے۔

تیل کی نہریں بہیں گی

عمران خان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور ملک کی ترقی کیلئے پاکستان میں انڈسٹریلائزیشن (صنعت کاری) ضروری ہے، ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو روز گار نہیں ہوگا اور ملک کیسے ترقی کریگا، ہمیں صنعتوں اور برآمدات کو فروغ دینا ہے، ہم سیاحت کو فروغ دے کر بہت پیسا کما سکتے ہیں، زرعی شعبے میں بھی پیدا وار بڑھانے کی ضرورت ہے، وہ وقت بھی آئے گا جب پاکستان میں تیل کی نہریں بہیں گی۔

غلامانہ ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم سارے فنکشنز پاکستان میں کرتے ہیں اور تقریر انگریزی میں کرتے ہیں، ہمیں سوچ کو تبدیل کرنا ہے اور طبقاتی تفریق کو ختم کرنا ہے، اسمبلی میں انگریزی میں تقریر کرنا غلامانہ ذہنیت ہے، مجھے پتہ ہے قومی اسمبلی میں کس کو کتنی انگلش آتی ہے، جنہیں سمجھ نہیں آتی وہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ سمجھ آرہی ہے۔

ایکسپریس نیوز