صاف پانی منصوبے میں کرپشن: بیوورکریٹس نے شہباز شریف کیخلاف ثبوت سپریم کورٹ کو دیدیئے

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس پاکستان نے واضح کر دیا ہےکہ احتساب سب کا ہوگا، ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا، عدالت نےصاف پانی بے ضابطگیوں کے سکینڈل میں پراسیکیوٹر جنرل نیب کو چودہ اپریل کو طلب کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اتوار کی چھٹی ہونے کے باوجود بھی صاف پانی از خود نوٹس کی سماعت کی۔ چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید، سی ای او صاف پانی کمپنی کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمان، ڈی جی انٹی کرپشن مظفر علی رانجھا ، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید احتشام قادر شاہ، سیکرٹری ہائوسنگ خرم علی آغا سمیت دیگر افسران پیش ہوئے۔

چیف ایگزیکٹیو آفیسر صاف پانی کمپنی محمد عثمان نے کارکردگی رپورٹ پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ صاف پانی کمپنی 2014ء میں قائم کی گئی، چیف جسٹس نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی پریزنٹیشن مسترد کر تے ہوئے استفسار کیا کہ کمپنی کی پروفائل بتائیں، یہ پراجیکٹ کتنی آبادی کے لئے شروع کیاگیا اور یہ بھی بتائیں کہ گزشتہ روز آپ نے کتنے پراجیکٹس کی منظوری دے کر سائن کئے ہیں، جس پر کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے بتایا کہ انہو ںنے کل کسی بھی پراجیکٹ پر سائن نہیں کئے لیکن کیس کی کافی سماعت مکمل ہونے کے بعد انہوں نے تسلیم کیا کہ گزشتہ روز دو لیٹر آف ایکسپٹنس سائن کئے ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور صاف پانی کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم اجمل کی فائل فوٹو

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں آپ کو بتاتا ہوں آپ نے صاف پانی پراجیکٹ پتوکی سے مقامی کنسلٹنٹس کی مدد سے شروع کیا تھا ،اس کے بارے میں بتائیں وہاں یہ پراجیکٹ کیوں نہیں لگایا گیا؟ چیف سیکرٹری پنجاب نے اس موقع پر وضاحت دینے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کا معاملہ ہے، آپ اپنی سیٹ پر بیٹھ جائیں، آج انہیں (صاف پانی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو محمد عثمان) تفصیلات بتانے دیں۔

چیف ایگزیکٹو صاف پانی کمپنی نے بتایا کہ پراجیکٹ سمال ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے شروع کئے تھے ۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پہلے اس صاف پانی پراجیکٹ کو پتوکی میں شروع کیا پھر اس کو ریڈ بک میں ڈال دیا اور بعد میں خسارہ پورا کرنے کے لئے دوبارہ سلور بک میں ڈال دیا۔ اربوں روپے پانی میں ضائع کر دیئے گئے، ملک کی بربادی پھیر کر رکھ دی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے پاس کیا اختیار تھا کہ پتوکی والے پراجیکٹ کو سکریپ میں ڈال دیا گیا؟

صاف پانی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے سپریم کورٹ کے روبرو اصل خرابی کی جڑ کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے اس پراجیکٹ کو بہت بے دلی سے منظور کیا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ٹیکس ادا کرنے والی غریب عوام کا پیسہ لگا دیا گیا اور اس کے باوجود پتوکی میں ایک دھیلے کا کام نہیں ہوا۔ غیر ملکی کنسلٹنٹس کو اتنی رقم بغیر کام کئے ادا کر دی گئی، کیا متعلقہ سیکرٹری کو اختیار نہیں تھا کہ وہ پتوکی صاف پانی پراجیکٹ کو شروع کروا سکتے؟

چیف ایگزیکٹو آفیسر صاف پانی کمپنی نے ناکامی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جی سر! صاف پانی کمپنی کی سٹوری اتنی اچھی نہیں ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تو پھر کس کو دکھانے کے لئے یہ پریزنٹیشن بنا کر لاتے ہو؟ وزیر اعلیٰ پنجاب کو دکھانے کے لئے پریزنٹیشنز بناتے ہو؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ غیر ملکی کنسلٹنٹ کمپنیاں بھی بھاگ رہی ہیں ، جاپان ٹیکنو ، فشنرز اور دیگر کمپنیاں جا چکی ہیں، کیا پنجاب صاف پانی کمپنی کی اتنی استعداد کار نہیں تھی کہ 14 ٹھیکوں کو سنبھال سکتی؟ بتائیں غیرملکی کمپنیوں کو کیسے ادائیگیاں کی جا رہی ہیں؟ فشنرز کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ ابھی تک 6 لاکھ ڈالرز اور 80 ملین روپے کی ادائیگی ہو چکی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں تو سمجھ نہیں آ رہی کہ پراجیکٹ لگایا کوئی نہیں گیا اور غیر ملکی کنسلٹنٹس کو بلا کر کچھ رقوم دیدی گئی ہیں اور کچھ رقوم کی ادائیگی روک لی گئی ہے، بتائیں صاف پانی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے بعد کونسا افسر ہے اور اسکی تنخواہ کتنی ہے؟ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے بتایا کہ چیف ٹیکنیکل آفیسر طاہر مجید ہیں اور ان کو 8 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انکشاف ہوا ہے کہ آپ کے چیف ٹیکنیکل آفیسر نے آپ کی کمپنی کے مقابلے میں ’’واٹر 2000‘‘ کے نام سے کمپنی بھی بنا رکھی ہے، چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عثمان نے کہا کہ میرے علم میں نہیں ہے تا ہم میں اس معاملے کی طے تک جائوں گا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیف ٹیکنیکل آفیسر کہاں سے آیا ہے؟ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے کہا کہ میرے خیال سے باہر سے آیا ہے ، وہ پی ایچ ڈی تعلیمی قابلیت کا حامل ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہاں عدالت میں کسی کو جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت کو سچ بتایا جائے۔

چیف جسٹس کی طلبی پر صاف پانی کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم اجمل نے پیش ہو کر بتایا کہ پتوکی صاف پانی پراجیکٹ مقامی کنسلٹنس سے شروع کروایا گیا تھا لیکن وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس پر غصہ کا اظہار کیا تھا اور بضد تھے کہ غیر ملکی کنسلٹنٹس کو بلایا جائے، انہو ںنے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق وزیر اعلیٰ کو اس کمپنی میں مداخلت کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا اور اس کے باوجود شہباز شریف نے پتوکی میں صاف پانی کی فراہم کیا پراجیکٹ روک دیا تھا اور منٹس آف میٹنگ میں کہا تھا کہ ’’میری منظوری کے بغیر اس پراجیکٹ کو شروع نہ کیا جائے‘‘۔

چیف جسٹس کے استفسار پر وسیم اجمل نے بتایا کہ وزیر اعلی کو صاف پانی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تعینات کرنے کے علاوہ مداخلت کا کوئی اختیار نہیں تھا ، پتوکی کے لوگوں نے صاف پانی پراجیکٹ کے لئے اپنی زمینیں عطیہ کر دی تھیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایک وزیر کے بھائی عاصم قادری بھی اس کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں اور غالب امکان ہے کہ اسی ن لیگی وزیر کے کہنے پر صاف پانی کمپنی میں غیر ملکی کنسلٹنٹس رکھے گئے جبکہ ان کی اہلیہ عظمی قادری کو بھی اس کمپنی کا ڈائریکٹر بنایا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس وزیر کا نام لیں ، چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود افراد سے استفسار کیا کہ کیا نام ہے اس قادری کا جو پنجاب حکومت کی طرف سے پریس کانفرنسز کرتا ہے، کمرہ عدالت میں موجود وکلاء نے بتایا کہ زعیم قادری نام ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زعیم قادری کے بھائی کی تعلیمی قابلیت کیا ہے؟ اسے کیوں کمپنی کا ڈائریکٹر لگایا گیا ہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے لئے ایک ٹیوب ویل لگا کر وہاں پلانٹ لگنا تھا اور اس کے لئے اتنی تاخیر کی گئی اور چار سو کروڑ روپے خرچ کر دیئے گئے۔

سابق چیف ایگزیکٹو صاف پانی کمپنی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس پراجیکٹ کے متعلق کوئی عقل و شعور ہی نہیں تھا ،وہ صرف غیر ملکی کنسٹلنٹس کو لانے پر بضد تھے جبکہ مقامی واٹر ریسورس کے ماہرین انتہائی قابل تھے اور جرمنی کی کمپنی فشنرز نے بھی مقامی کنسلٹنس کی کارکردگی کو سراہا تھا۔انہوںنے عدالت کو آگاہ کیا کہ فشنرز کمپنی ورلڈ بنک سے بلیک لسٹ بھی ہو چکی ہے اس کے باوجود وزیر اعلیٰ نے انہیں صاف پانی کمپنی کے لئے فلٹریشن پلانٹ لگانے کا ٹھیکہ دیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ باہر سے کنسلٹنٹس لائے گئے ، کس کو اس کا فائدہ تھا ؟ توپھر وہ کیا ہے جو ٹی وی پر اشتہار چلاتے ہیں صاف پانی کمپنی کا؟ ایک قطرے کا بھی کام نہیں ہوا۔

وسیم اجمل نے بتایا کہ نیب صاف پانی کمپنی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کے منٹس آف میٹنگ کے حوالے سے تحقیقات بھی کر رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ نیب کا بنتا ہے ،ہم اس مقدمہ کے تفتیشی افسر کوبلا لیتے ہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ غیر ملکی کنسلٹنٹس بھی تو یہاں آ کر مقامی افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

چیف جسٹس کے استفسار پر چیف ایگزیکٹو آفیسر صاف پانی کمپنی نے بتایا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سیکرٹری پی اینڈ ڈی، سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر،انجینئر اکبر شیخ ، نیسلے میں فرائض انجام دینے والے وقار شیخ اور عاصم قادری سمیت دیگر شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت کے اپنے محکمے موجود ہونے کے باوجود ایسی کمپنی کیوں بنائی گئی؟ چیف جسٹس نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان سے سرکاری نوکری کا ریکارڈ طلب کیا، جس پر انہوںنے بتایا کہ وہ 2000ء سے سروس میں ہیںاور سندھ میں اسسٹنٹ کمشنر ، ڈی ڈی او، سیکرٹری داخلہ گلگت بلتستان، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ کے عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں، ، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سابق تجربے کی روشنی میں آپ کا صاف پانی سے کیا تعلق ہے؟ آپ نے ابھی اس میں کیا کیا ہے ؟

چیف جسٹس نے چیف ایگزیکٹو آفیسر صاف پانی کمپنی محمد عثمان سے استفسار کیا کہ آپ میں کیا خوبیاں ہیں جو پنجاب حکومت نے آپ کو اس کمپنی میں لگا دیا ہے اور 14 لاکھ روپے تنخواہ دی جارہی ہے؟ بلٹ پروف گاڑیاں دی جا رہی ہیں، اس وقت آپ کونسی گاڑی استعمال کر رہے ہیں ؟ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے بتایا کہ 2 فارچونر گاڑیاں بلٹ پروف کروانی تھیں تا ہم سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بلٹ پروف نہیں بنوائی گئیں ، ایک فارچونر گاڑی میرے زیر استعمال ہے۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اچھے‘‘ڈی سی او لاہور کے طور پر کام کرتے رہے ہو اور لوگوں کو نوازتے رہے ہو، چیف سیکرٹری کو کیوں نہیں کہیں لگایا گیا؟ وہ ابھی تک ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب سے بھی استفسار کیا کہ آپ نے کیوں نہیں ایسا عہدہ لیا؟ آپ بھی کسی ایسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسرلگ جاتے

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ زعیم قادری کے بھائی عاصم قادری کو ڈائریکٹر بنا کر نوازا گیا۔ زعیم قادری کی بیوی کیسے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ممبر بن گئی؟ چیف سیکرٹری پنجاب نے وضاحت دینے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں ، کیپٹن عثمان کی بجائے یہ بہتر تھا کہ آپ اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لگ جاتے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب آڈٹ کروایا جائے گا تو پتہ چل جائے گا کہ محمد عثمان کے گھر پر پنیریاں کہاں سے آئیں، آپ پاکستان کے ٹیکس ادا کرنے والوں کو کتنے میں پڑے ہیں، آپ عوام کے نوکر ہیں، میری قوم کے بچوں کے پیسے کسی کو کھانے نہیں دوں گا۔

صاف پانی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں اور حقائق بتا رہا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے یہاں پر میں کسی کو جھوٹ بولنے بھی نہیں دوں گا، ساری تنخواہ واپس کریں جو بطور چیف ایگزیکٹو وصول کر چکے ہیں، جو تنخواہ گریڈ 20 کے افسر کی بنتی ہے وہی آپ کو ملے گی ۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ یہ کوئی بندر بانٹ نہیں ہے، سیکرٹری صحت نجم شاہ نے بھی اپنی مدد کے 10لاکھ روپے پر کنسلٹنٹ رکھا ہوا ہے، آپ لوگ یہ کوئی کارپوریٹ بزنس نہیں کر رہے ، یہ سرکاری کام ہے، چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یقین مانیے! آپ لوگ اگر بالکل صحیح لوگوں کو سلیکٹ کریں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس عدلیہ کے ہوتے ہوئے سفارشوں پر کام نہیں ہونے دیا جائے گا۔صاف پانی کمپنی نے 4 بلین روپے خرچ کر دیئے اور ایک قطرے کا کام نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صاف پانی سمیت دیگر تمام کمپنیوں میں بھاری تنخواہوں پر تعینات افسران سے سرکاری سکولوں کے مطابق اضافی وصول کی گئی تنخواہیں واپس لیں گے اور اگر وہ ادا نہیں کریں گے تو جنہوں نے کمپنیوں میں تقرریاں کی ان سے رقم وصول کی جائے گی۔ لاکھوں روپے اشتہاری مہم پر خرچ کر دئیے گئے لیکن منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا۔یہ قوم کا پیسہ ہے واپس قومی خزانے میں جائے گا اور سب کا احتساب ہو گا۔

عدالت نے اس ازخودنوٹس کیس کی سماعت 14اپریل تک ملتوی کی ہے۔