اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پلوامہ واقعے سے متعلق بھارت کے بھیجے گئے ڈوزئیر پر تحقیقات کی جس کی روشنی میں کسی پاکستانی کا اس واقعے سے تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پلوامہ حملے کی تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی تھی، تحقیقات کے مطابق پاکستان کا پلوامہ حملے میں کوئی ہاتھ نہیں جب کہ بھارت سے مزید شواہد اور معلومات مانگی ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ بھارتی معلومات میں 90 سے زیادہ لوگوں کے نام تھے، بھارتی ڈوزئیر میں مسعود اظہر کا پلوامہ واقعے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے کے نتیجے میں 40 سے زائد اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

گھوٹکی کی دو بہنوں کا قبول اسلام اور اس پر بھارتی ردعمل پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ گھوٹکی کی دو بہنوں سے متعلق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا بیان الیکشن میں ووٹ لینے کے لیے ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث ملزمان کی بریت انصاف کا کھلواڑ ہے، حملے میں ملوث تمام ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ کرتار پور راہداری سے متعلق خوشگوار ماحول میں مذاکرات ہوئے ہیں۔

ترجمان دفتر خاجرہ نے کہا کہ پاکستان نے شامی علاقے پر اسرائیلی قبضہ تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کی ہے، امریکی فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔