وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) پاکستان کے سابق ترجمان اور کالعدم جماعت الحرار کے گرفتار کمانڈر احسان اللہ احسان کو معاف نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بتایا کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے فیصلہ ہوا ہے کہ احسان اللہ احسان کو معاف کرکے نہیں چھوڑا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف ملک کے قوانین کے مطابق کارروائی ہوگی اور اس حوالے سے متعلقہ ایجنسی فیصلہ کر چکی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ ایجنسی احسان اللہ احسان کو چھپانا نہیں چاہتی بلکہ احسان اللہ احسان کے خلاف کارروائی چاہتی ہے کیونکہ اگر اسے چھپانا ہوتا تو اس کی ویڈیو کو ہرگز پبلک نہ کی جاتی۔

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ متعلقہ ایجنسی نے احسان اللہ احسن سے متعلق ویڈیو کو پبلک کیا تاکہ لوگ اس کے اعتراف دیکھ لیں اور یہ واضح کرتا ہے متعلقہ ایجنسی احسان اللہ احسان کے خلاف کارروائی چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان نے ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس جا کر خود ہتھیار ڈالے تھے جبکہ وہ ہی اس حوالے سے زیادہ تفصیلات بتا سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ ایوان کہے تو وہ ان سے تفصیلات مانگ سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے ایوان میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ احسان اللہ احسان کا کیس متعلقہ کمیٹی کی منظوری کے بعد فوجی عدالتوں کو بھیجا جائیگا۔

تحریری جواب میں بتایا گیا کہ احسان اللہ احسان کا معاملہ سویلین ایجنسیوں کے پاس نہیں ہے جبکہ متعلقہ ایجنسی بھی احسان اللہ احسان کے خلاف کارروائی چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ احسان اللہ احسان کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا اور وہ اس تنظیم کے ترجمان کی حیثیت سے کام کررہے تھے، ان پر ملک میں ہونے والے متعدد حملوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے۔

ان کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے خود سیکیورٹی اداروں کو گرفتاری دی تھی اور وہ اس وقت سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں۔

واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر تباہ کن حملے میں 144 بچے اور عملے کے ارکان جاں بحق ہوئے تھے۔