پاکستان کے ذخائر کمبوڈیا سے بھی کم ہوسکتے ہیں جس کی معیشت پاکستانی معیشت سے 10 گنا چھوٹی ہے، عالمی اقتصادی جریدہ، فوٹو: فائل

نیویارک: پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم کرنے والا ایشیا کا سرفہرست ملک بن گیا، بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کے ذخائر پسماندہ ملک کمبوڈیا سے بھی کم ہوجائیں گے جس کی معیشت پاکستانی معیشت سے 10 گنا چھوٹی ہے۔

عالمی اقتصادی جریدے بلوم برگ نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ فروری میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 13.5 ارب ڈالر تھے جو کہ گزشتہ 5 برس کی کم ترین سطح تھی دوسری جانب کمبوڈیا کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے جنوری میں اس کے ذخائر کا حجم 11.2 ارب ڈالر تھا۔

نجی ادارے انسائیڈ سیکیورٹیز کے مطابق پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور آئندہ بھی کمی کا امکان ہے، جون تک اس کے زر مبادلہ کے ذخائر میں مزید 2.2 ارب ڈالر تک کمی ہوسکتی ہے۔

پاکستان کو مسلسل ادائیگیوں کے بحران کا سامنا ہے، گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران اس کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 50 فیصد یعنی 10.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کو سخت دباؤ کا سامنا ہے کیوں کہ حکومت گزشتہ چار ماہ کے دوران کرنسی کی قدر میں دو بار کمی کرچکی ہے۔

بلوم برگ کی جانب سے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسی طرح نیوزی لینڈ اور قازقستان وہ ممالک ہیں جن کی معیشت پاکستانی معیشت کے مقابلے میں چھوٹی ہے لیکن ان کے زرمبادلہ کے ذخائر پاکستانی ریزرو سے کہیں زیادہ ہیں۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس کے شعبہ معاشیات کے سربراہ ڈاکٹر تراب حسین نے کہا ہے کہ اصل صورتحال یہ ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہورہا، بنگلہ دیش ان ممالک میں سے ہے جو کہ آپ سے زیادہ مضبوط معیشت کے حامل ہیں، 1971ء کے بعد سے اب تک بنگلہ دیش کے موجودہ مالی ذخائر پاکستان سے دگنا ہوچکے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی برآمدت میں بہت اضافہ ہوچکا ہے بنگلہ دیش اور کمبوڈیا ٹیکسٹائل کی مارکیٹ میں حریف بن چکے ہیں

Source link