انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک پائلٹ کے پاکستان میں پکڑے جانے کے بعد دلی میں اپنی رہائش گاہ پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات کی۔

انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈیا کی حکومت نے انڈیا کی فضائیہ کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کی ’فوری اور بحفاظت‘ واپسی کی توقع ظاہر کی ہے۔

وزیر اعظم مودی اور انڈیا کی مسلح افواج کے سربراہان کے درمیان بدھ کو ہونے والی ملاقات چوبیس گھنٹوں کے دوران دوسری ملاقات ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کی ویب سائیٹ کے مطابق یہ ملاقات ایک گھنٹہ بیس منٹ جاری رہی۔

وزیر اعظم مودی اور مسلح افواج کے سربراہان کے درمیان پہلی ملاقات منگل کو انڈیا کے جنگی جہازوں کی طرف سے بالاکوٹ میں بمباری کے بعد ہوئی تھی جس میں انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے جیش محمد کا ایک تربیتی کیمپ تباہ کر دیا تھا۔

 

دریں اثناء انڈیا نے نئی دِلی میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر کو طلب کر کے پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پار کارروائی پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سفارتکار کو واضح طور پر بتایا گیا کہ انڈیا اپنی قومی سلامتی اور علاقائی وقار کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انڈیا
Image captionانڈین پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن

انڈیا کی اپوزیشن کا موقف

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق ملک میں حزب اختلاف کی اکیس جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں حکومت پر انڈیا کی فوج کی قربانیوں پر ’ کھلم کھلاسیاست‘ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

بدھ کو پارلیمنٹ کی لائبریری میں ایک اجلاس کے بعد حزب اختلاف نے ملک میں سلامتی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کو اُن تمام معاملات پر اعتماد میں لیں جن سے انڈیا کی سالمیت اور وقار پر اثر پڑتا ہو۔

پی ٹی آئی کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتوں نے کہا کہ قومی سلامتی سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہے۔

انہوں نے چودہ فروری کو پلوامہ میں ہونے والے حملے کو بزدلانہ حرکت قرار دیا، اس کی مذمت کی اور انڈیا کی افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق حزب اختلاف نے حکومت پر تنقید کی اس نے موجودہ حالات میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس نہیں بلایا۔

BBC URDU