لاہور (نیو زڈیسک) اپنی گاڑی کا حصول ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے پاس اپنی گاڑی ہو، جس میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ سفر کر سکے۔ تاہم پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی ان کو خریدنے کے صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔لیکن یہاں ہم آپ کو ایسی گاڑیوں کے بارے میں بتائیں گے

جن کی قیمتیں صرف 7 لاکھ یا اس سے بھی کم ہیں۔ ان گاڑیوں کو خرید کر اب آپ اپنی دیرینہ خواہش کو پورا کر سکتے ہیں۔

سوزوکی مہران/ سوزوکی آلٹو

سوزوکی مہران کا شمار پاکستان کی سب سے مقبول گاڑیوں میں ہوتا ہے۔ اس گاڑی کے پارٹس باآسانی دستیاب ہیں جس کی وجہ سے ان کی خرید وفروخت میں بھی صارفین کو زیادہ مشکلات پیش نہیں آتیں۔ سوزوکی کے نئے ماڈل کی قیمت تو 7 لاکھ سے زیادہ ہے لیکن 2010ء ماڈل کی سوزوکی مہران کی قمیت اس سے کہیں کم ہے۔

سوزوکی کلٹس

سوزوکی نے اپنی مشہور گاڑی کلٹس کے پرانے ماڈلز کو ختم کرکے رواں سال ہی نیا ماڈل متعارف کروایا ہے جسے صارفین بہت پسند کر رہے ہیں۔ اس ماڈل کو مینول اور آٹومیٹک دونوں میں متعارف کروایا گیا ہے۔ لیکن کلٹس کا پرانا ماڈل ابھی بھی پاکستانی سڑکوں پر رواں دواں ہے اور اسے پسند کرنے والے افراد کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ اس پرانے ماڈل کے دلداہ افراد اپنے پسند کی سوزوکی کلٹس 7 لاکھ یا اس سے کم دام میں خرید سکتے ہیں۔

ہنڈا سوک

جب بھی کم قیمت کی فیملی کار ذہن میں آئے تو ایک ہی نام سب سے پہلے ذہن میں دوڑتا ہے وہ ہنڈا سوک سکس جنریشن ہے جسے بہترین ماڈل قرار دیا جاتا ہے۔ اس گاڑی کو خرید کر آپ اپنی پسند سے موڈیفائڈ کروا سکتے ہیں۔

نسان کلپر

نسان کلپر ایک منی ایم پی وی گاڑی ہے جسے جاپان سے امپورٹ کیا گیا ہے۔ یہ گاڑی دیکھنے میں جتنی شاندار نظر آتی ہے، اتنی ہی چلانے میں بھی ہے۔ پٹرول کی کم کھپت کی وجہ سے صارفین اس گاڑی کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اس گاڑی کو فیملی کار بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس گاڑی میں مسافروں کی حفاظت کیلئے ایئر بیگز بھی رکھے گئے ہیں کیونکہ نئے جاپانی قوانین کے مطابق ایئر بیگز کی موجودگی بہت ضروری ہے۔ ان تمام خصوصیات کے باوجود یہ گاڑی صرف ساڑھے 6 سے 7 لاکھ کی قیمت میں مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

ہنڈا سٹی

ہنڈا سٹی فورتھ جنریشن کا شمار کامیاب ماڈلز میں ہوتا ہے۔ اس ماڈل کو پاکستان، انڈیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے شہری بہت پسند کرتے ہیں۔ اس گاڑی کی پسندیدگی کی وجہ اس کا پاورفل انجن اور آرام دہ سیٹیں ہیں جو اسے ایک مکمل فیملی کار بناتی ہے۔

ہنڈائی سینٹرو

اگرچہ ہنڈائی سینٹرو کا شمار بھی پاکستانی صارفین میں مشہور گاڑیوں میں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود 2009ء سے اس کا کوئی نیا ماڈل مارکیٹ میں نہیں آیا۔ لیکن اس کے باوجود اس گاڑی کے چاہنے والے پاکستان میں کم نہیں ہوئے۔ اس گاڑی کی خرید وفروخت بہت آسانی سے ہوتی ہے کیونکہ اس کا انجن ناصرف طاقتور ہے بلکہ اس میں سفر کرنے والوں کو بھی آرام دہ احساس ہوتا ہے۔ ہنڈائی سینٹرو کو عام صرف 7 لاکھ سے کم قیمت پر خرید سکتے ہیں۔

ڈیٹشو میرا

ڈیٹشو میرا ایک جاپانی گاڑی ہے جو نا صرف آرام دہ ہے بلکہ اس میں پٹرول کی کھپت بھی انتہائی کم ہے۔ یہ گاڑی مارکیٹ میں آتے ہی صارفین کی اولین پسند بن چکی ہے۔ لوگ ہاتھوں ہاتھ اس گاڑی کو خرید کر اپنے گیراج کی زینت بنا رہے ہیں۔ جاپان سے درآمد کی گئی اس گاڑی کا 2007ء ماڈل عام صارف کی پہنچ میں ہے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) محبت عمر نہیں دیکھتی، یہ مثال اس وقت سچ ہوتی دیکھی گئی جب انڈونیشیا کے ایک گائوں میں 16سالہ لڑکے نے 73سالہ محبوبہ سے شادی کر لی۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں نے شادی میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور رضامند نہ ہونے پر خودکشی کی دھمکی دیدی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں کیسے گرفتا ر ہوئے یہ بھی ایک نہایت دلچسپ داستان ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ 16سالہ سلامت ملیریا میں مبتلا ہو کر بیمار ہو گیا۔73سالہ روہایہ اس کی پڑوسی تھی جو اس کی عیادت اور بیمار پرسی کیلئے اس کے گھر آتی رہی اور جلد ہی اس کی دیکھ بھال سے سلامت کے مرض میں بہتری پیدا ہوئی اور وہ تندرست ہو گیا۔ اسی دوران دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتا رہو گئے اور شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا مگر دونوں کے گھر والے اور گائوں کے لوگوں نے اس پر اعتراض کیا جس پر سلامت اور روہایہ نے خودکشی کرنے کی دھمکی دیدی۔ گائوں کے مکھیا کے مطابق سلامت روہایہ سے عمر میں بہت چھوٹا ہے مگر ہم نے ان دونوں کی شادی کروا دی کیونکہ سامت نے شادی نہ ہونے کی صورت میں خودکشی کی دھمکی دی تھی مکھیا کے مطابق سلامت کی شادی کے وقت عمر 15سال تھی جبکہ روہایہ 73سال کی۔ روہایہ سلامت سے شادی سے قبل دو مرتبہ دلہن بن چکی ہے اس کی دونوں مرتبہ شادی شدہ زندگی کا انجام طلاق کی صورت میں نکلا ہے۔مکھیا کا کہنا ہے کہ کیونکہ ملک کا قانون لڑکوں کو 19سال جبکہ لڑکیوں کو 16برس کی عمر میں شادی کی اجازت دیتا ہے لہٰذا ہمیں ایک خفیہ تقریب میں دونوں کی شادی کروانا پڑی کیونکہ سلامت کی عمر اس وقت 15سال تھی۔روہایہ کا کہنا ہے کہ وہ اس شادی سے خوش ہے سلامت نے اظہار محبت کرتے ہوئے اسے کہا تھا کہ وہ اس سے بے حد محبت کرتا ہے۔

40روز تک صبح نہار منہ دودھ میں ایک چمچ شہد کا ملا کرنوش فرمالیں۔ آکچھ ہی دنوں میں اس کا واضح فرق محسوس کرنا شروع کر دیں گے ۔ اس نسخے سے نہ صرف آپ کی جسمانی کمزوری دور ہو گی بلکہ ہڈیوں میں کیلشیم کی کمی بھی دور ہو گی ۔ رزلٹ شرط ہے ۔ آپ کچھ ہی دنوں میں خود کو پھر سے جوان محسوس کریں گے ۔

پیاز ناصرف صحت کے فوائد سے ہمیں مالا مال کرتے ہیں بلکہ ان کے کئی دیگر شاندار استعمال بھی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ مچھروں سے بچنے کا آسان ترین نسخہ چاہتے ہیں تو پیاز کو کاٹ کر اپنے جسم پر مل لیجئے۔ اگرجسم پر کوئی کیڑامکوڑا کاٹ لے تو اس پر پیاز رگڑنے سے درد سے نجات مل جاتی ہے۔

گلے کی خرابی سے نجات کے لئے پیاز کو پانی میں ابال لیجئے اور اس پانی کو چائے کی طرح پیجئے۔ اگر جلد جھلس جائے تو اس پر بھی پیاز لگانے سے راحت محسوس ہوتی ہے۔ اگر جلد میں کوئی کانٹا وغیرہ چبھ جائے جو کہ جلد کے اندر پیوست ہو تو اسے نکالنے کے لئے اس کے اوپر تقریباً ایک گھنٹے کے لئے پیاز باندھ کر رکھیں۔

دھاتی اشیاءکو چمکانے کے لئے پیاز کو باریک پیس کر پانی میں ملا کر سطح پر رگڑیں، دھاتی اشیاءچمک اٹھیں گی۔اگر کسی چیز پر کئے گئے پینٹ کی بو ختم نہ ہورہی ہو تو اس پر بھی یہی آمیزہ رگڑیں تو بو ختم ہوجائے گی۔

اگر کسی کھانے میں سے جلنے کا ذائقہ آرہا ہے تو اس میں پیاز کو دو حصوں میں کاٹ کر رکھ کر تھوڑی دیر پکائیں، یہ جلے ہوئے ذائقے کو جذب کرلے گا۔

خلاف مقدمہ در ج کروا دیا .پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے .یاد رہے کہ اسلام میں خالہ اور بھانجے کے نکاح کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور دونوں رشتے ایک دوسرے کے لیے محرم مانے جاتے ہیں

، زرین خان شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں گزشتہ دنوں ٹی 10 لیگ ٹورنامنٹ میں بالی ووڈ اداکاروں کے ساتھ موجود تھیں، انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مجھے کرکٹ کا اتنا زیادہ نہیں پتہ مگر مجھے شاہد خان آفریدی بہت پسند ہیں. اس موقع پر اداکارہ زرین خان نے کہا کہ مجھے پختون ہونے پر فخر ہے.

انٹرنیٹ پر فحش فلموں کی بھرمار نے دیگر خباثتوں کے ساتھ ساتھ جنسی عمل کے کچھ ایسے شرمناک غیرفطری طریقوں کو بھی رواج دے دیا ہے کہ جانور بھی ایسی خباثتوں کے مرتکب نہیں ہوتے۔ انہی میں ایک جنسی عمل کے لیے منہ کا استعمال بھی ہے۔ اب جنسی عمل کے اس طریقے کے متعلق سائنسدانوں نے ایسا خطرناک انکشاف کر دیا ہے کہ شاید جان کر بے راہرو لوگ اس سے تائب ہو جائیں۔ امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”جو مرد جنسی عمل میں منہ کا استعمال کرتے ہیں انہیں دماغ اور گردن کا کینسر لاحق ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جنسی طور پر متحرک خواتین میں اس کے منفی اثرات قدرے کم پائے جاتے ہیں۔“

سائنسدانوں نے تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ ”جو مرد سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ جنسی عمل کا یہ شرمناک طریقہ بھی اپناتے ہیں ان میں ایچ پی وی نامی کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور ایسے مردوں کو ایچ پی وی سے بچاﺅ کی ویکسین دینا لازمی ہو جاتا ہے۔“ رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں سائنسدانوں نے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے سے 20سے 69سال عمر کے 13ہزار 89افراد کا طبی ڈیٹا کا حاصل کیا اور ان کو لاحق امراض اور ان کی جنسی عادات سے اس کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے، جن کے مطابق ان مردوں میں ایچ پی وی کینسر کا خطرہ سب سے کم تھا جو نہ سگریٹ نوشی کرتے تھے اور نہ جنسی عمل میں منہ کا استعمال، جبکہ ان مردوں میں سب سے زیادہ تھا جو یہ دونوں کام کرتے تھے

رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست جارجیا کے دارالحکومت اٹلانٹا کے رہائشی جیمز نے جو جنسی گڑیا خریدی ہے اس کا نام اپریل ہے۔ جیمز کی اہلیہ کی والدہ بیمار ہے اور وہ کافی عرصے سے اس کی تیمارداری میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے وہ اسے وقت نہیں دے پاتی۔ جیمز کا کہنا ہے کہ اب میں 8ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 11لاکھ 40ہزار روپے) والی جنسی گڑیا خریدنے کے لیے رقم جمع کر رہا ہوں کیونکہ اس میں مزید کئی فیچرز ہوتے ہیں جو اس میں نہیں ہیں۔ ڈاکومنٹری میں جیمز کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ”مجھے خوشی ہے کہ جیمز نے کسی اور خاتون کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی بجائے جنسی روبوٹ خریدا ہے۔ مجھے اس کے روبوٹ کے سات