پاکستان وہ ملک ہے جسے ستر برس پہلے دو قومی نظریئے کی بنیاد پر بنایا گیا، وہ دو قومی نظریہ جس نے ہندوستان اور پاکستان کی بنیاد رکھی۔ ابتداء ہی سے پاکستان کے حصے میں مختلف اکائیاں آئیں۔ ہر اکائی کے پیروں میں اپنے مذہب، اپنے عقیدے، اپنے نظریئے اور اپنی روایات کی بیڑیاں تھیں جنہوں نے کبھی ان اکائیوں کو ایک قوم بننے نہیں دیا۔ فی الحال ہم قوم نہیں، غلاموں کا ایک ہجوم ہیں؛ اور اس غلامی کا فیصلہ، ہجوم کا اکثریتی فیصلہ ہے۔ قومیں طالب علم بناتے ہیں، طالب علم درسگاہوں سے نکلتے ہیں؛ اور یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ ستر برسوں میں نہ ہی طالب علموں اور نہ درسگاہوں پر کوئی محنت کی گئی۔

بالفاظ آسان، پاکستان میں عوام اور اقتدار دو متضاد سمتوں کا نام ہے۔ ایک طبقہ مذہب اور شریعت چاہتا ہے اور دوسرا طبقہ عالمی سیاسی و سماجی قوانین کی غلامی۔ دادا جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں، ان کے بیٹے فوجی حکمراں کی جانب تکتے ہیں، جبکہ نوجوان نسل تاحال یہ طے نہیں کرپائی کہ وہ اس ملک سے آخر چاہتی کیا ہے؟ ان کے دماغ ماؤف ہیں۔ جو اُن کے دل کی بات کہہ دے، یہ بس اُسی کے پیچھے جھنڈے اٹھا کر چلنے لگتے ہیں۔

اس ملک میں اور کیا کیا ہورہا ہے؟ یہ گنوانے میں صرف وقت ضائع کی کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہر کوئی ذرائع ابلاغ اور سماجی ذرائع کے توسط سے تمام مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔ ایک عجب گہما گہمی کا عالم ہے۔ ہر کسی کو یہ جاننے کی جلدی ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے، تاریخ کے اس نازک موڑ کے بعد ہم کون سی گہری کھائی کی طرف جارہے ہیں؟ جیسے کوئی ٹی وی سیریل دکھایا جارہا ہے۔ لیکن کسی کو اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ کیا کچھ گزر چکا ہے۔ مسائل پر تبصرے ہر گلی، ہر چوک، ہر دفتر اور ہر ٹی وی چینل پر مسلسل ہو رہے ہیں مگر ایسے دماغ سامنے نہیں آرہے جو ان مسائل کے حل کی بات کریں۔

دن بھر خبروں کی شہ سرخیاں جمع کرکے چند سیاستداں اور اینکرز شب و روز لوگوں کو تجزیئے سناتے ہیں اور بقیہ بیس کروڑ اسے بہت غور سے سن کر سوجاتے ہیں؛ اور اس کے بعد پھر سے ایک نیا کل آجاتا ہے۔ اور سوال وہیں کا وہیں موجود رہتا ہے۔

طلباء سیاست سے اور من چاہے قوانین سے بدظن ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ کہیں سے کوئی ایسا قانون وجود میں لایا جائے جو ان کی عزت کرے، کیونکہ آج بسوں میں لٹک کر اور دھکے کھا کرتعلیم حاصل کرنے والے یہ طالب علم اپنی ہی نظروں میں گرجاتے ہیں۔ اسی لئے یہ پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھنے کے بعداس نظام کی بھی عزت نہیں کرتے جو ریاست چلاتی ہے۔ جس طرح ایک دیوار میں ہر اینٹ کا اپنا حجم، وزن اور حیثیت ہوتی ہے، ٹھیک اسی طرح ہر لسانی اکائی کی اپنی اجتماعی انا اور مفادات ہوتے ہیں۔ لسانیت اور تعصب کی سیاست کا مسئلہ تب تک حل نہیں ہوگا جب تک تمام بڑی قوموں کا نظام ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں دیا جائے گا۔ اور ہر علاقے کے مقامی افراد کو وہاں کی سیکیورٹی فورسز میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

یہ مسئلے کاحل نہیں ہوتا کہ اگر اسکول میں دہشت گرد حملہ کردیں تو اساتذہ کو ہتھیار تھمادیئے جائیں! کیا مطلب ہے اس کا؟ کہ اپنی حفاظت اپنے ہاتھ؟ دنیامیں کونسا ایسا ملک ہے جس میں ٹریفک پولیس کلاشنکوف اور بلٹ پروف جیکٹ پہن کر ٹریفک سنبھالتی ہے؟ اس پر یہ دعویٰ کہ ہم تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ممالک کی فہرست میں شامل ہورہے ہیں! لعنت ہو ایسی ترقی پر جس میں محض پولیو کے قطرے پلانے کےلیے فوج جیسے ادارے کا سہارا لینا پڑے۔

جو کچھ ہورہا ہے، بہت مستعدی سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہورہا ہے۔ اداروں کو پہلے اپنی مرضی سے تباہ کیا جارہا ہے اور اس کے بعد اپنی من پسند لابیوں کو سستے داموں میں بیچا جارہا ہے۔ سی پیک کے بننے سے ڈالر کا مینہ برسنے والا تھا مگر ہم تو تاحال ابر سے بھی محروم ہیں، اُلٹا سڑکوں اور سیکیورٹی پر خرچ ہی بڑھ رہا ہے۔ شاید کہ اب لکھنے والے زیادہ، بولنے والے اس سے بھی زیادہ، اور سوچنے والے حد سے کم ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا، بہت برا ہوا۔ ارباب اختیار نے جو کچھ سوچا، بہت بری طرح سوچا۔ بلکہ شاید اب تک کچھ سوچا ہی نہیں گیا۔ دانشوروں نے بھنگ کے نشے میں دن گزارے، بھوکوں کو بہلاوا دیا گیا ہے، وکالت سرد ہوچکی ہے، صحافت زرد ہوچکی ہے، شجاعت ماند پڑ چکی ہے، عدالتیں گونگی بہری ہوگئی ہیں اور قانون اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ اپاہج بھی ہوچکا ہے۔ اسی لیے اگر ملک کو ترقی کرنی ہے تو ہمیں وقت کی قدر کرتے ہوئے صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنے ہوں گے۔ پھر چاہے ہم انفرادی حیثیت میں یہ انجام دیں یا کسی ادارے یا کسی سیاسی جماعت کی صورت میں، مگر کم ازکم اب فیصلہ ضرور ہونا چاہیے کیونکہ ہر نظام میں کمی ہے، اب نرمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ بس اب ہر فیصلے پر سختی سے ہی عمل ہونا باقی رہ گیا ہے۔

نوبت ایں جا رسید کہ جن ناانصافیوں کے خلاف پاکستان بنایا گیا تھا، آج انہی کو بڑے اطمینان سے سہا جارہا ہے۔ کیا اب یہ سوچنے کی فرصت باقی رہی کہ جو کچھ ہورہا ہے اس سے کس کا بھلا ہورہا ہے؟ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں، اس کی منزل کیا ہے؟ اور آج کے بعد مزید کتنا سفر باقی رہ گیا ہے؟ ہمیں اور کیا کیا سہنا پڑے گا؟

آخر میں جون ایلیا کے بدلتی دنیا کے بارے میں یہ الفاظ دل کو تسلی دینے کےلیے کافی ہیں کہ یہ ’’ایک تاریخی المیہ ہے جس سے ہمارے تاریخ ساز دانشور اور مفکر پیشرو گزرتے چلے آرہے ہیں اور ہم میں سے یقیناً کچھ لوگ ہماری، اپنی اور ہم سب کی منزلوں تک ضرور پہنچ جائیں گے اور ہم نہ پہنچنے والوں کے تخلیقی خواب ان کی نگاہوں کے رہنما ہوں گے۔‘‘

Express news