پاکستان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو قید میں بھی عزت کے ساتھ رکھا لیکن اس کے اپنوں نے عزت نہ دی اور اسے شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

ابھی نندن کو جب بھارت کے حوالے کیا گیا اس وقت بھارتی اہلکاروں نے ہاتھوں میں بندوقیں تھام رکھی تھیں جیسے فضائیہ کے ونگ کمانڈر کی بجائے کسی مجرم کولے جایا جارہا ہو جب کہ پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو آزادی سے پریڈ کے دوران سے بارڈر تک جانے دیا تھا۔

بھارت پہنچنے پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کا فل باڈی چیک اپ، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین کیا گیا اور اہلخانہ سے صرف 9 منٹ کی ملاقات کرائی گئی جب کہ بھارتی وزیر دفاع سے ملاقات میں بھی فاصلے پر رکھا گیا۔

دوسری طرف بھارتی میڈیا کا پائلٹ حوالگی کے وقت پر جھوٹا پراپیگنڈا بھی بے نقاب ہوگیا، بھارتی میڈیا نے ایک اور جھوٹ کا واویلا کرتے ہوئے پاکستان پر پائلٹ کی تاخیر سے حوالگی کا الزام لگایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو قیدی ونگ کمانڈر کی حوالگی کے لئے رات 8 سے 9 بجے کا وقت دیا گیا تھا اور اس کی درخواست بھی بھارت نے کر رکھی تھی۔

واضح رہے کہ 27 فروری کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیارے مار گرائے تھے جس میں ایک طیارے کا ملبہ آزاد کشمیر اوردوسرا مقبوضہ کشمیر میں گرا تھا۔ پاکستان کی حدود میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ کو پاک فوج نے مشتعل ہجوم سے بچاتے ہوئے حراست میں لے لیا تھا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو امن کے فروغ کیلیے بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔