پاکستان میں تین طرح کے لبرلز پائے جاتے ہیں :
ایک وہ ہیں جو نماز بھی پڑھتے ہیں اور مذہبی پابندیوں سے نسبتا آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں – یہ مولوی کو ہمہ وقت برا کہتے ہیں لیکن اسلام کا احترام کرتے ہیں پاکستان سے محبت کرتے ہیں – آپ ان کو نسبتا شریف لیکن محض جدت پسند اور ماڈرن کہہ سکتے ہیں –
دوسرا طبقہ وہ ہے کہ جو واقعتا مذھب بیزار ہے ، نظریاتی طور پر دیں مخالف ہے – ان میں سے بعض کھل کے اور بعض ڈھکے چھپے لفظوں میں اسلام کا انکار کرتے ہیں – ان کا واقعی طور پر اسلام سے کوئی تعلق نہیں-
تیسرا طبقہ وہ ہے جو مفادات کے لیے مذہب دشمن بنا ہوا ہے – یہ وہ لوگ ہیں جن پر منافقت ختم ہے – ان کو پیسے دیں اور فرمائش کریں کہ دین کو برا کہیں ، مذھب کا انکار کریں ، بیچ بازار میں ننگے ہو جائیں … آپ یقین کیجئے محض چند ڈالرز کیلئے یہ ایسا کر گزریں گے – یہی وہ طبقہ ہے جو ہمارے ہاں دانش ور بھی کہلاتا ہے انہی کو مغربی طاقتیں پیسے دے کے پالتی ہیں – یہ مولوی کے بہانے اسلام کو برا کہتا ہے ، جب بھی موقع ملے پاکستان کو برا کہتا ہے –