جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) ایک کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے، جو پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر بنایا ہے۔

جہاز کی پہلی تجرباتی پرواز 2003ء میں چین میں کی گئی جبکہ اس میں مزید بہتریاں لا کر 2006ء میں ایک مرتبہ پھر اسے آسمانوں کی وسعتوں میں چھوڑا گیا۔ 12 مارچ 2007ء کو دو جہاز پاک فضائیہ کے حوالے کیے گئے تاکہ ان کی پرواز کے مزید تجربات کیے جا سکیں۔ ان جہازوں نے 11 روز بعد اسلام آباد میں پہلا فضائی مظاہرہ بھی کیا۔

پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں پیداوار کے آغاز کے بعد پہلی بار 23 نومبر 2009ء کو یہ طیارے پاک فضائیہ کے حوالے کیے گئے۔ پاک فضائیہ 2010ء کے اوائل سے جے ایف-17 جہازوں کے مکمل اسکواڈرن کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

بناوٹ
ابتدائی بناوٹ کے لحاظ سے یہ طیاره امریکی ساختہ ایف-16کی نقل تھا۔ جس پر امریکا نے شور برپا کر دیا کہ میرے طیارے کی نقل نہیں اتاری جاسکتی۔[حوالہ درکار]
اس وجہ سے طیارے کی دوسری شکل ایف-16 اور میراج لڑاکا طیروں سے قدرِ مشترک ہے۔
اس پورے منصوبے کی قیمت 500 ملین ڈالر کے قریب ہے جبکہ ایک جہاز کی قیمت 15 سے 20 ملین ڈالر ہے۔ اسے پاکستان نے اس وقت بنانا شروع کیا جب امریکا نے 1990ء میں پاکستان سے تیس ایف-16 طیاروں کے پیسے ہڑپ کر لئے اور بعد میں پاکستان کے اوپر اسلحہ کی خریدو فروخت پر پابندیاں عائد کر دیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ 150 جہاز خریدے گا لیکن یہ شاید بڑھ کر 300 جہاز بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور چین کے علاوہ دوسرے ممالک نے بھی اسے خریدنے کی خواہش ظاہر کی ہے ان میں الجزائر، مصر، بنگلہ دیش، مراکش، نائجیریا، میانمار اور زمبابوے شامل ہیں۔

جنگی آلات
اس طیارے میں دو عدد کمپیوٹر نصب ہیں جو اس کے ریڈار یا زمین سے موصول ہونے والی معلومات کو ہواباز تک پہنچاتے ہیں۔ پاک فضائیہ اطالوی ریڈار استعمال کرنا چاہتی تھی لیکن چین نے چند اہم وجوہات کی بنا پر اس کی جگہ چینی ساختہ ریڈار نصب کیا ہے کیونکہ یہ ریڈار چینی اسلحے کے ساتھ موزوں ہے۔ اس میں دو عدد میزائل سے خبردار کرنے والے یونٹ آگے کی طرف لگے ہیں اور ایک پیچھے کی طرف۔ یہ 60 کلومیٹر دور تک کسی بھی آنے والے میزائل کا پتہ لگا سکتے ہیں۔

اسلحہ

اس میں ایک 23 ملی میٹر کی مشین گن بھی نسب ہوتی ہے۔ یہ ہوائی جہازوں کے خلاف ایس ڈی-10 اور پی ایل-9 میزائل لے کر جا سکتا ہے۔ جے ایف-17 سمندری جہازوں کے خلاف ایکسوکٹ، سی-801 یا ہارپون میزائل بھی استعمال کر سکتا ہے۔ یہ جی پی ایس کی رہنمائی استعمال کرنے والے بم مثلا ایف ٹی، ایل ٹی اور ایل ایس بم بھی لے جاسکتا ہے۔

اگر اسے لیزر کی رہنمائی والے بم لے کر جانے ہوں تو اسے چین کا بنایا گیا ٹارگٹنگ پاڈ بھی لے جانا ہو گا۔

کارکردگی
رفتار : ماک 1.8
حد : 3000 کلومیٹر
اونچائی کی حد : 50000 فٹ
پیمائش
عملہ : 1
طیارے کا ہجم

لمبائی : 14.97 میٹر
پر کی لمبائی : 9.46 میٹر
اونچائی : 4.77 میٹر
وزن : 6411 کلوگرام