پاکستانی سکھوں کی شادیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق بل پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کے بعد پاکستان دنیا میں سکھوں کی شادیاں رجسٹرڈ کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔

میڈ یا رپورٹس کے مطابق پنجاب اسمبلی نے حکمران جماعت کے اقلیتی رکن رمیش سنگھ اروڑا کی جانب سے سکھ برادی کی شادیوں کی رجسٹریشن کے آنند کراج بل کی متفقہ طور پرمنظوری دیدی۔
موجودہ حکومت کے پانچ پارلیمانی سالوں میں منظور ہونے والا پہلا پرائیویٹ ممبر بل ہے. بل کے متن کے مطابق 18 سال سے کم عمر سکھ لڑکے یا لڑکی کی شادی رجسٹرڈ نہیں ہوگی۔باپ کی نسل میں سکھوں کی شادی نہیں ہو سکے گی،شادی کے لیے چار پھیرے ضروری ہو ں گے،شادی کی رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ جاری ہو گا،شادی کیلئے گورو گرنت (مذہبی )کتاب ضروری ہوگی۔حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے ڈیسک بجا کر سکھ کمیونٹی کو بل کی منظوری پر مبارکبادی دی گئی۔واضح رہے کہ بھارت میں بھی سکھوں کے لیے علیحدہ سے کوئی میرج ایکٹ نہیں اورپنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد پاکستان دنیا میں سکھوں کی شادیاں رجسٹرڈ کرنیوالا پہلا ملک بن گیا ہے۔بھارت میں سکھوں کی شادیاں ہندو میرج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈکی جاتی ہیں۔

ویڈیو دیکھئے