پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما حامد خان کی پارٹی رکنیت معطل، شوکاز نوٹس جاری

حامد خان

حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل حامد خان کی اتوار کے روز پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔

پارٹی کے جنرل سیکریٹری عامر محمود کیانی کی جانب سے حامد خان کو ایک شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں انھیں کہا گیا ہے کہ انھوں نے متعدد بار بلاجواز پارٹی کے خلاف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بات کی ہے۔

نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ رویہ دستخط کنندہ اور پارٹی چیئرمین عمران خان نے نوٹ کیا ہے۔

بی بی سی کو دستیاب نوٹیفیکیشن کی کاپی میں حامد خان سے کہا گیا ہے کہ وہ سات روز کے اندر تحریری طور پر جواب داخل کروائیں کہ پارٹی آئین کے تحت ان کی رکنیت کیوں ختم نہیں کی جانی چاہیے، جبکہ اس دوران ان کی بنیادی رکنیت معطل رہے گی۔

نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بار بار اپنے پوشیدہ مقاصد کی خاطر پارٹی کے معاملات کو میڈیا میں لے کر آئے جو کہ پارٹی مفاد کے خلاف ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مندرجہ بالا کام پارٹی ڈسپلن اور پارٹی آئین کی خلاف ورزی ہیں اور ان کے اس رویے سے پارٹی کے ارکان اور کارکنان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ پیر 18 نومبر کو حامد خان نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سما ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والی کئی سیاسی شخصیات اور اس میں پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ کردار کے حوالے سے سخت مؤقف اپنایا تھا۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے اس بیان کی تائید کی تھی کہ انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے کئی رہنماؤں کو پی ٹی آئی میں شامل کروایا۔

ہی ٹی آئی

اس بیان پر پروگرام کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے حامد خان کا کہنا تھا کہ ’چوہدری پرویز الٰہی وہ حقیقت منظرِ عام پر لائے ہیں جس کا لوگوں کو پہلے ہی کافی حد تک ادراک تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن میں پی ٹی آئی کا بانی رکن ہوتے ہوئے یہ کہوں گا کہ اس وجہ سے پارٹی کو بہت نقصان پہنچا، جس قسم کے لوگ وہاں سے لے کر ہماری پارٹی میں بھیجے گئے، ان لوگوں نے اس پارٹی کی بنیادی روح کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔‘

حامد خان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج جس شکل میں پارٹی (پی ٹی آئی) ہے وہ اس شکل میں نہیں ہے جس کا ہم نے تصور دیکھا تھا، جس میں ہمارے بہت اچھے مقاصد تھے، جس میں انتخابی اصلاحات، زرعی اصلاحات شامل ہیں۔‘

حامد خان

انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر چند سیاسی شخصیات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان لوگوں نے جو ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے لوگ تھے، ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری میں جاتے رہتے تھے، پی ٹی آئی میں اس قسم کے موقع پرست لوگ شامل کر کے اس کا چہرہ مسخ کیا۔‘

انھوں نے کہا مزید کہا تھا کہ ’یہ فوجی اسٹیبلشمنٹ یا آئی ایس آئی کے کسی اہلکار کا یہ کام نہیں کہ وہ پارٹیوں کے معاملات میں مداخلت کریں، کسی پارٹی سے نکال کر دوسری پارٹی میں شامل کریں، یا پارٹیوں میں لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کریں۔‘

حامد خان کون ہیں؟

صحافی عباد الحق کے مطابق حامد خان ہمیشہ سے ہی جمہوریت پسند خیالات کے مالک تھے اور زمانہ طالب علمی سے ہی صدر ایوب خان کے خلاف احتجاج میں بھی شامل رہے۔حامد خان نے وکالت میں آنے کے بعد وکلا کی سیاست میں بھی قدم رکھا اور 1978 میں ضیا الحق دور میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔بعد میں وہ پنجاب بار کونسل کے رکن اور پھر اسی تنظیم کے وائس چیئرمین بھی بنے۔

حامد خان

سنہ 1992 میں حامد خان لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے اور 2001 میں مشرف کے دور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر چنے گئے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے حامد خان ایل ایف او کے خلاف تحریک میں پیش پیش رہے اور اسی پاداش میں ان سے سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ کا عہدہ واپس لیا گیا۔ حامد خان پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔2007 کی وکلا تحریک میں بھی حامد خان کا اہم کردار رہا اور وکلا سیاست کے بعد حامد خان ملکی سیاست میں بھی سرگرم ہوئے۔ وہ تحریک انصاف کے ابتدائی دنوں میں ہی جماعت میں شامل ہوگئے تھے اور انھوں نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کے طور پر فائض بھی سر انجام دیے۔2013 میں حامد خان نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے سے انتخاب لڑا لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ حامد خان کے انتخابی حلقہ ان چار حلقوں میں شامل تھا جن کے نتائج کو ’ری اوپن‘ کرنے کا مطالبہ عمران خان کی جانب سے سامنے آیا تھا۔

BBC URDU