ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں20 ارب کے معاہدے متوقع ہیں

پاکستان اور سعوی عرب کے درمیان طویل عرصے سے برادرانہ مراسم قائم ہیں ، ملت اسلامیہ کے رشتے میں جڑے  پاکستان اور سعودی عرب میں دوستی کا پہلا معاہدہ شاہ ابن سعود کے زمانے میں 1951ء میں ہوا تھا۔

سعودی عرب کا شماران چند ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی ہے بلکہ پاک بھارت جنگوں میں پاکستان کی باقاعدہ مدد بھی کی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب ابتدا سے برادرانہ تعلقات کے رشتے میں بندھے ہیں

سعودی عرب کے مقبول ترین بادشاہ ، شاہ فیصل کے دور میں  پاک سعودی تعلقات کو بہت فروغ ملا۔  ستمبر1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔

اپریل 1966ء میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک بہت بڑی آبادی شاہ فیصل کالونی کہلاتی ہے اور اسی کی نسبت سے کراچی کے ایک ٹاؤن کا نام شاہ فیصل ٹاؤن ہے۔

سنہ 1967ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان میں فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا، جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ اپریل 1968ء میں سعودی عرب سے تمام برطانوی ہوا بازوں اور فنی ماہرین کو رخصت کر دیا گیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔

شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب میں  پاکستان کی مالی امداد فراہم کی اور دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا، جبکہ 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب میں بھی سعودی  عرب کی جانب سے خطیر امداد بھجوائی گئی۔1971 ء میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔

سعودی عرب کی بھرپور حمایت اور کوشش سے پاکستان نے سنہ 1974 میں او آئی سی کے دوسرے اجلاس کی لاہور میں میزبانی کی۔

سویت یونین  نے جب افغانستان میں جنگ چھیڑی تو پناہ گزینوں کا سیلاب پاکستان میں امڈ آیا۔ سعودی عرب نے ان پناہ گزینوں کی معاونت کے لیے بھرپور مالی امداد فراہم کی۔

جب پاکستان نے نوے کی دہائی کے آخری سالوں میں ایٹمی دھماکے کیے تو اس وقت ساری مغربی دنیا پاکستان کی مخالف ہوگئی تھی لیکن  سعودی عرب سفارتی میدان میں پاکستان کے

ساتھ کھڑا رہا، اور ساتھ ہی ساتھ مالی امداد بھی جاری رکھی۔ ایک سال تک 50 ہزار بیرل یومیہ تیل موخر ادائیگی کی بنیاد پر دیا گیا۔

پاکستان کے لیے ترسیلات کے اعتبار سے سعودی عرب سب سے بڑا ملک ہے۔ سال 2017-18 میں پاکستانیوں نے 4.8 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجی تھیں ، جو کہ کل ترسیلاتِ زرکا 29 فیصد حصہ ہے۔

اس وقت پاکستان میں سعودی عرب کی 25 کمپنیاں پاکستان میں کام کررہی ہیں۔ دوسری جانب 350 پاکستانی سرمایہ کار سعودی جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد پر پاکستان کے ساتھ 20 ارب کے معاہدے متوقع ہیں

اس وقت 1680 پاکستانی فوجی سعودی عرب میں شاہی افواج کو تربیت فراہم کررہے ہیں جبکہ 1460 فوجی سعودی عرب کی جانب سےاجازت کےمنتطر ہیں۔ دریں اثناء سعودی عرب کے 77 ملٹری کیڈٹ ، پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں ٹریننگ لے رہے ہیں۔

سعودی حکومت کے پاکستان کی موجودہ سیاسی حکومت سے بے مثال تعلقات ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب گئے تو وہا ں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پرسعودی حکومت نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو تین ارب ڈالر ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے دیے۔ دوسری جانب تین  سال تک ہر سال تین ارب ڈالر مالیت کا تیل موخرادائیگی پر فراہم کرنےکا وعدہ بھی کیا ہے۔

سعودی ولی عہد اس ہفتے پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور ولی عہد کا منصف سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد کے اس دورے پر سعودی اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف بھی اسلا م آباد موجود ہیں۔

سعودی عرب نے پاکستان کو دیامر بھاشا، مہمند ڈیم منصوبوں کے لئے فنڈز دینے کا فیصلہ کیا ہے، دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 37 کروڑ 50 لاکھ سعودی ریال فراہم کئے جائیں گے جبکہ مہمند ڈیم کیلئے 30 کروڑ ریال ملیں گے، سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان میں ایم او یو پر دستخط ہوں گے۔

سعودی ولی عہد کے دورے میں بجلی کے 5 منصوبوں کیلئے ایک ارب 20کروڑ 75 لاکھ ریال کے ایم او یو پر دستخط ہوں گے، سعودی عرب کی جانب سے جامشورو پاور پراجیکٹ کیلئے 15 کروڑ 37 لاکھ ریال، جاگران ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 13 کروڑ 12 لاکھ ریال اور شونتر منصوبے کیلئے 24 کروڑ 75 لاکھ ریال فراہم کئے جائیں گے۔

محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان  کے شہر گوادر میں آئل ریفائنری سمیت مجموعی طور پر  بیس ارب کے معاہدے متوقع ہیں۔