پاکستان امریکہ تازہ منظر نامہ

کل تک
“پاکستان نے کچھ نہیں کیا” اور آج سب کچھ کیا ہے 😉
کل تک
” پاکستان سے افغانستان دہشت گرد جاتے ہیں” اور آج افغانستان سے پاکستان دہشت گرد جاتے ہیں 😉

امریکی بیانیے میں یہ اچانک انقلاب کیوں؟؟

“مبینہ “طور پر 😉

جب انڈین طیاروں نے بھاگتے بھاگتے پے لوڈ گرایا تو وہ درحقیقت اسرئیلی ساختہ بم تھے جو تین چار کلومیٹر کا علاقہ تباہ کر لیتے ہیں۔
ان کی پاکستان کو ضرورت بھی تھی۔ سالم ہی مل گئے الحمداللہ۔
اب ان شاءاللہ ان کو کاپی کر لیا جائیگا۔ 🙂

شائد ایک اسرائیلی پائیلٹ بھی ہاتھ لگا ہے
جس کے بعد پاکستان نے اس کو انڈیا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ قرار دیا۔

چنانچہ جب انڈین میزائل حملہ ہونے والا تھا تو امریکہ نے کچھ ایسی تصاویر یا ثبوت بھی حاصل کیے جس سے پتہ چلا کہ جواباً پاکستان انڈیا کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی نشانے پر لے چکا تھا۔

ایک بار پھر “چنانچہ” 😆

امریکہ نے اپنا جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم ” تھاگ” اسرائیل میں نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ پاکستان کے ممکنہ حملے سے اسرائیل کو بچایا جا سکے۔
نیتھن یاہو نے فوری طور پر انڈین صحافی کو بیان دیا کہ ہماری انڈیا سے دوستی کی بنیاد قطعاً پاکستان دشمنی نہیں ہے 🤪

پاکستان پر میزائل حملے کے لیے انڈیا اور اسرائیل کو امریکہ کی آشیر باد حاصل تھی اور جنگ کی صورت میں افغان نیشنل آرمی کا فاٹا اور بلوچستان کی سرحدوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ تھا۔

“چنانچہ” 🙂

افغانستان میں امریکہ اور افغان نیشنل آرمی کے مشترکہ بیس پر مجاہدین کا زوردار حملہ ہوا اور انکی تباہی کر کے رکھ دی۔

ٹی ٹی پی کے ملا تور نے ایک خفیہ میٹنگ کی جس میں انڈین جہاز گرانے پر پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے پاکستان کے اندر بہت بڑی دہشت گردی کا فیصلہ کیا گیا۔

جہاں وہ میٹنگ ہوئی تھی اس مرکز کو کچھ ” را ” اہلکاروں سمیت شائد کل مجاہدین نے اڑا کر رکھ دیا ہے۔

لے دے کر اب ٹی ٹی پی کے مفتی نور ولی المعروف ابو عاصم منصور کا بیان سوشل میڈیا پر آگیا ہے جس میں وہ پشتونوں سے پاک فوج کے خلاف پی ٹی ایم کا ساتھ دینے کی اپیل کر رہا ہے 😅

انڈیا کی کوشش تھی کہ پاکستان کا ” بلف ” ٹسٹ کرے کہ وہ حملے کا جواب دیتا ہے یا نہیں۔ الحمد اللہ اس کی تو کیا پوری دنیا کی تسلی کرا دی گئی۔

امریکہ نے پاکستان کے لیے ویزے مزید سخت کر دیے لیکن زبان میں شہد بھر لیا۔ 😀

کئی سال کی اعصابی جنگ اور کشمکش میں پاکستان اور پاک فوج غالب رہی۔
الحمداللہ

یہ تو ہوگیا ایک پہلو اس منظر نامے کا۔

ایک اور پہلو بھی ہے۔
ان چند دنوں میں یا تو پاکستان بہت زیادہ خوش قسمت رہا یا واقعی کوئی غیبی مدد تھی۔

انڈین جہازوں کی عجیب و غریب انداز میں مسلسل تباہی،
ان کے پے لوڈ کا نہ پھٹنا،
خاص قسم کا پائلٹ ہاتھ لگنا،
ان کا آبدوز ٹریس ہونا،
انڈین عوام واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہونا اور اپنی ہی افواج اور حکومت کو حملہ آور اور غاصب قراردینا۔
سکھ سوال اٹھا رہے ہیں کہ انڈین فوج میں سب سے زیادہ سکھ ہی کیوں مرتے ہیں؟
او آئی سی کا انڈیا مخالف اعلامیہ
اور تو اور کرکٹ میں عجیب قسم کی سبکی
وغیرہ وغیرہ

لو ۔۔۔۔ اب اچھے بھلے سنجیدہ مضمون کے آخر میں نعمت اللہ شاہ ولی کا ایک شعر یاد ارہا ہے بلکہ اس کا مفہوم کہ ۔۔۔۔
عین پاکستان اور انڈیا جنگ کے دوران انڈیا کے اندر بغاوت ہوجائیگی اور ان کا ایک بہت بڑا لیڈر مسلمان ہوجائیگا جس کے نام میں چھ حروف ہونگے اور نام کا پہلا حرف ” گ” ہوگا۔

سنا ہے راہول گاندھی بہت بول رہا ہے آجکل؟؟😁

چلیں چھوڑیں شعروشاعری کو 🙂
باقی مضمون پر بات کریں 🙃

تحریر شاہدخان