ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک اعلیٰ سیاسی افسر نے اپنی بحری افواج کو انوکھا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کی عاید کردہ پابندیوں سے نمٹنے کے لیے امریکی شہریوں کو اغوا کر لیا جائے کیونکہ ان کی رہائی کے بدلے میں ’’پُرکشش ‘‘ تاوان وصول ہوسکتا ہے۔

پاسداران انقلاب کے افسر حسن عباسی کی ایک ویڈیو بدھ کو آن لائن پوسٹ کی گئی ہے۔ اس میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے:’’کیا آپ پابندیوں کے مسئلے سے نمٹنا چاہتے ہیں؟ہماری بحری افواج کو ہر ماہ دس یا بیس امریکیوں کو اغوا کر لینا چاہیے۔ان میں سے ہر ایک کے بدلے میں ہمیں ایک ارب ڈالر تاوان کے طور پر لینا چاہیے۔اگر ہم ایک ارب ڈالر فی ہفتہ حاصل کریں اور ایک سال میں 50 ہفتے بنتے ہیں تو اس طرح ہم ایک سال میں 50 ارب ڈالر حاصل کرسکیں گے۔‘‘

حسن عباسی سپاہِ پاسداران انقلاب ایران سے وابستہ تھنک ٹینک اندیش کدہ یقین کے سربراہ ہیں۔انھوں نے یہ باتیں ایران کے شہر نوشہر میں 17جنوری کو ایک مسجد میں تقریر کرتے ہوئے کی تھیں۔

اس ویڈیو میں پاسداران کے سیاسی امور کے ماہر نے ایرانی نژاد امریکی صحافی جیسن رضیان کی مثال دی ہے۔وہ تہران میں واشنگٹن پوسٹ کے بیورو چیف کے طور پر کام کررہے تھے۔ایرانی حکام نے انھیں گرفتار کر لیا تھا اور وہ ڈیڑھ سال تک تہران کی ایوین جیل میں قید رہے تھے اور انھیں 2016ء میں رہا کیا گیا تھا۔

امریکا کی سابق اوباما انتظامیہ نے ان کی رہائی کے بدلے میں کوئی رقم دینے کے الزام کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی رہائی قیدیوں کے تبادلے کے لیے ڈیل کے حصے کے طور پر عمل میں آئی تھی۔

حسن عباسی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ قطر نے ایرانی حکومت کو القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا 30 لاکھ ڈالر خون بہا ادا کیا ہے۔قطر نے ممکنہ طور پر یہ رقم اس لیے ادا کی ہے کہ قاسم سلیمانی کی گاڑی کو میزائل سے نشانہ بنانے والے ڈرونز دوحہ کے نواح میں موجود امریکی فوجی اڈے سے اڑ کر آئے تھے۔

قطر کے وزیرخارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایران سے اظہار افسوس کے لیے تہران کا دورہ بھی کیا تھا۔

العربیہ