وطنِ عزیز میں سیاسی مخالفین کو کرپشن کے الزام میں جیل بھیج کر سبق سکھانے کی روایت وڈے خان صاحب نے ڈالی تھی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ وڈے خان صاحب کون تھے؟ اگر آپ وڈے خان صاحب کو نہیں جانتے تو پھر آپ کچھ بھی نہیں جانتے۔ یہ وہی وڈے خان صاحب ہیں جن کے صدارتی دستور کو حبیب جالب نے صبح بے نور قرار دے کر اعلان کردیا تھا’’ میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘‘۔

جالب کی اس نظم نے پورے ملک میں وڈے خان صاحب کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا۔ حبیب جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کے کئی جلسوں میں یہ نظم پڑھی اور قائد اعظمؒ کی بہن سمیت عوام سے بھرپور داد سمیٹی۔ وڈے خان صاحب نے اس زمانے میں مغربی پاکستان کے گورنر نواب کالاباغ کو حکم دیا کہ حبیب جالب کو سبق سکھانے کے لیے جیل بھیجا جائے۔ جیل بھیجنے کے لئے جالب پر کوئی نہ کوئی مقدمہ بنانا ضروری تھا۔ جالب کا تعلق ایک پڑھے لکھے لیکن محنت کش خاندان سے تھا۔ ان کے والد صوفی عنایت اللہ بھی شاعر اور ادیب تھے لیکن محنت کش تھے۔ بڑے بھائی مشتاق مبارک سرکاری ملازم تھے لیکن شاعری بھی کرتے تھے۔ ایک اور بھائی سعید پرویز بھی شاعر تھے۔ شاعروں کے اس خاندان کی کوئی بڑی جائیداد تھی نہ کاروبار۔ کرپشن کا مقدمہ بنانا بہت مشکل ہو گیا تو نواب کالاباغ نے حکم دیا حبیب جالب کو شراب نوشی کے الزام میں گرفتار کر لو۔ شراب نوشی کے مقدمے سے وہ چند دنوں میں نکل آئے اور پھر سے وڈے خان صاحب کے خلاف جلسوں میں نظمیں سنانے لگے۔ اب و ڈے خان صاحب نے اپنے محب وطن ساتھیوں کو حکم دیا کہ جن مخالفین پر کرپشن کا مقدمہ نہیں بن سکتا انہیں ایسے مقدمات میں ملوث کرو جن کی جلدی ضمانت نہ ہو سکے۔ چنانچہ محترمہ فاطمہ جناح کو بھارتی ایجنٹ قرار دے کر غداری کے مقدمے میں ملوث کرنے کی تیاری شروع ہوگئی کیونکہ خان عبدالغفار خان اور شیخ مجیب الرحمٰن جیسے کئی ’’غدار‘‘ قائداعظمؒ کی بہن کے ساتھ کھڑے تھے۔

انہی دنوں لاہور میں حمید نظامی کی برسی کی تقریب تھی۔ وڈے خان صاحب کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب کے میزبان شورش کاشمیری نے حبیب جالب کو نظم سنانے کے لیے بلایا تو جالب نے نظم سنانے سے پہلے بھٹو کو یہ مشورہ دے ڈالا کہ آپ وزارتِ خارجہ سے استعفیٰ دے کر بحالی ٔ جمہوریت کی تحریک کا حصہ بن جائیں۔ ظاہر ہے اس مشورے کے بعد جالب کو ہرصورت جیل میں جانا تھا۔ اب کی بار شراب نوشی کے بجائے اقدامِ قتل کا مقدمہ بنایا گیا۔ اس مقدمے کے لیے لاہور کے ایک نامی گرامی بدمعاش وارث کی خدمات حاصل کی گئیں۔ وارث نے الزام لگایا کہ حبیب جالب نے ہیرا منڈی میں گانے سننے کے لئے اس سے ایک ہزار روپے ادھار لئے۔ کچھ دنوں کے بعد اس نے اپنا ادھار واپس مانگا تو جالب نے چاقو مار کر اسے قتل کرنے کی کوشش کی لیکن عین موقع پر پولیس آگئی اور قاتلانہ حملے کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے جالب سے چاقو کے علاوہ ایک تھیلا بھی برآمد کیا جس میں شراب کی دو بوتلیں تھیں۔ جالب پر کئی جرائم کی دفعات لگا کر جیل بھیج دیا گیا۔ میاں محمود علی قصوری نے لوئر کورٹ سے جالب کی ضمانت کرانے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگئے۔ جالب صاحب کو پیغام بھجوایا گیا کہ وہ وڈے خان صاحب کی مخالفت چھوڑ کر محبِ وطن بن جائیں تو مقدمہ ختم ہوسکتا ہے لیکن جالب صاحب نے یہ مشورہ نہیں مانا۔ جیل میں عبدالصمد خان اچکزئی قاتلانہ حملے کے ملزم حبیب جالب کے کھانے پینے کا بندوبست کرتے رہے کیونکہ وہ بھی اسی جیل میں تھے۔ اس دوران محمود علی قصوری نے ہائیکورٹ میں جالب کے لیے درخواست ضمانت دائر کی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران انہوں نے جسٹس عبدالعزیز خان کو کہا کہ میں جالب کو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں یہ تو کسی کو آنکھ نہیں مار سکتا چاقو کیسے مارے گا۔ آخرکار جالب صاحب کی ضمانت پر رہائی ہو گئی۔ رہائی کے بعد وہ گھر جانے کے بجائے سیدھے باغ جناح پہنچے جہاں محترمہ فاطمہ جناح کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تھا۔ یہاں جالب نے وہ نظم پڑھی جس کا عنوان ’’بیسگھرانے‘‘ تھا اور اس نظم کا یہ شعر بہت مشہور ہوا

بیس روپیہ من آٹا

اس پر بھی ہے سناٹا

وڈے خان صاحب نے جالب کو قابو کرنے کے لئے ان کا ایک دوست سرکاری افسران کے پاس بھیجا۔ اس دوست نے جالب کو سمجھایا کہ تم بیماری کا بہانہ بناکر اسپتال میں داخل ہو جاؤ تمہیں جتنا پیسہ چاہئے مل جائے گا بس تم محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ چھوڑ دو۔ جالب نے انکار کردیا۔ جالب صاحب ہمیں بتایا کرتے تھے کہ ایوب خان نے اپوزیشن کے ایک اہم رہنما مولانا عبدالحمید بھاشانی کو خرید لیا تھا جس سے اپوزیشن کو بہت نقصان ہوا لیکن آخرکار وڈے خان صاحب کے خلاف ایک عوامی تحریک شروع ہوئی اور وڈے خان صاحب کو اقتدار ایک چھوٹے خان صاحب کے حوالے کر کے گھر جانا پڑا۔ یہ چھوٹے خان صاحب زیادہ عرصہ اقتدار میں نہ رہے لیکن ان کے دورِ حکومت میں پاکستان ٹوٹ گیا۔ پھر ذوالفقارعلی بھٹو وزیراعظم بنے اور ستم ظریفی دیکھئے کہ جالب اس جمہوری دور میں بھی جیل کے مکین رہے۔ جمہوری دور میں غیر جمہوری رویوں کا نتیجہ ظلمت کا ایک اور دور تھا جسے جالب نے ضیاء کہنے سے انکار کیا اور پھر جیل پہنچ گئے۔ شاید اسی لئے قتیل شفائی نے جالب کے لئے کہا

اپنے سارے درد بھلا کر اوروں کے دکھ سہتا تھا

جب ہم غزلیں کہتے تھے وہ اکثر جیل میں رہتا تھا

عرض یہ کرنا ہے کہ جالب صاحب اکثر جیل میں رہتے تھے۔ این آراو یا ڈیل کے ذریعہ رہائی سے بہت ڈرتے تھے۔ دوستوں کو مشورہ دیتے تھے کہ

دوستو جگ ہنسائی نہ مانگو

موت مانگو، رہائی نہ مانگو

ضیاء دور میں جالب صاحب کو جوا کھیلنے کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا۔ ایک دفعہ جیل میں انہیں وہ وارث مل گیا جس نے ان پر قاتلانہ حملے کا جھوٹا الزام لگایا تھا۔ وارث نے ان سے معافی مانگی اور کہا کہ وڈے خان صاحب کے پریشر میں آکر جھوٹ بول دیا تھا۔ جالب نے اسے معاف کر دیا۔ ہر دور میں کوئی وڈا خان صاحب یا چھوٹا خان صاحب اپنے مخالفین کو جیلوں سے ڈراتا رہتا ہے۔ کوئی بھاشانی کی طرح ڈر جاتا ہے اور کوئی جالب کی طرح نہیں ڈرتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وڈے خان صاحب یابھاشانی کو آج کوئی یاد نہیں کرتا لیکن حبیب جالب کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ جس باغ جناح میں جالب صاحب وڈے خان صاحب کے خلاف نظمیں سناکر محترمہ فاطمہ جناح سے داد وصول کیا کرتے تھے اس باغ جناح کے اوپن ایئر تھیٹر میں اتوار کے دن جالب عوامی میلہ منعقد ہوا۔ اس میلے میں جالب کی نظمیں اور گیت گائے گئے۔ یہ گیت پیغام دے رہے تھے کہ جمہوریت کے پروانو!جھوٹے مقدمات اور جعلی شہادتوں سے مت گھبرا ئو اور جالب کے راستے پر چلتے رہو۔ آخری فتح جالب کے راستے پر چلنے والوں کی ہوگی، رہائی کے عوض محض جنگ ہنسائی ملے گی تاریخ نہ کسی بھاشانی کو یاد رکھتی ہے نہ وڈےاور چھوٹے خان صاحب کو، تاریخ صرف جالب کو یاد رکھتی ہے۔