دنیا میں چند ہی ممالک ایسے ہیں جہاں آج بھی خاندانی بادشاہت قائم ہے۔ سعودی عرب انہی ملکوں میں سے ایک ہے۔ سعودی عرب میں آل سعود کی حالیہ بادشاہت قریبا ایک صدی سے قائم ہے۔ اس سے قبل آل سعود نے دو مرتبہ پہلے بھی جزیرہ عرب میں اپنی حکومت قائم کی تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر وہ حکومتیں ختم ہوگئی۔ حالیہ سعودی حکومت کی ابتدا عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کے ہاتھوں ہوئی۔ عبدالعزیز اور اس کے بیٹوں اور رشتہ داروں نے کمال تدبر و حکمت سے امور مملکت چلائے۔ آل سعود نے سعودی عرب میں موجود قوتوں یعنی حکمراں خاندان، مذہبی مشایخ اور سرداران قبائل اور بیرونی قوتوں کے درمیان توازن قائم رکھا۔ حکمراں خاندان میں خاموش مفاہمت کی بنیاد پر ذمہ داریاں تقسیم ہوتی اور خاندان کے دیگر افراد کی جانب سے عام طور پر حاکم وقت پر اعتراض سے گریز کیا جاتا، دوسری جانب حاکم وقت بھی شاہی خاندان کو بیت المال میں تصرف کی اجازت دے کر ان کے مالی لالچ کو پورا کرتا جس سے دونوں اطراف بخوشی ایک دوسرے کو قبول کر لیتے۔ سرداران قبائل کو بھی بھاری مالی فوائد دے کر خوش کیا جاتا جبکہ مذہبی مشایخ کو ابتدا میں فریب کاری اور بعد ازاں دھمکی و لالچ کے ذریعے “قابو” میں رکھا۔ ان معاملات میں بعض اوقات کچھ خلل بھی پیدا ہوجاتا، جیسا کہ دوسرے سعودی بادشاہ شاہ سعود اور شاہ فیصل کے درمیان اختلاف کے دوران ہوا، جس میں شاہ فیصل کامیاب ہوا اور شاہ سعود کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔

سعودی حکومت اور مذہبی مشایخ کے درمیان مفاہمت پر پہلی اعلانیہ بغاوت جہیمان العتیبی کی جانب سے ہوئی جس نے مسجد الحرام مکہ مکرمہ پر قبضہ کیا اور اپنے ایک ساتھی محمد بن عبداللہ القحطانی کی مہدیت کا اعلان کیا، یہ تحریک ناکام بنا دی گئی۔ جہیمان نے حکومت مخالفت میں پر تشدد راستہ اختیار کیا، اس کے برعکس شاہ فہد کے دور میں جب مختلف علما اور مذہبی قائدین کو ادراک ہوا کہ حکومت بعض امور میں اسلام مخالف طرز عمل اختیار کرتی ہے اور رسمی مذہبی مشایخ (جن کی اس وقت تک ایک باقاعدہ مجلس تشکیل دی جاچکی تھی ) حکومت کو ٹوکتے ہیں نہ کوئی اقدام اٹھاتے ہیں تو مشایخ اور حکومت کے اس اتحاد کے خلاف مذہبی پس منظر رکھنے والے دانشوروں نے حکومت کے خلاف پر امن مگر سخت لہجہ اختیار کیا۔ حکومت نے اول ناقدین کو سمجھانے کی کوشش کی اور بعد ازاں ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ رہائی کے بعد ناقدین نے اپنا طرز تبدیل کرلیا یا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

شاہ عبداللہ کے دور حکومت میں انہونی ہوئی کہ دو ولی عہد یعنی امیر سلطان اور امیر نایف بادشاہ بننے سے قبل ہی انتقال کر گئے، اس لیے حالیہ بادشاہ شاہ سلمان ولی عہد اور ان کے بھائی امیر مقرن نائب ولی عہد مقرر ہوئے۔ شاہ سلمان بادشاہ بننے سے قبل نصف صدی ریاض ریجن کے گورنر اور شاہی خاندان کے اندرونی معاملات کے نگراں رہے، لہذا ان کو حکومت کا وسیع تجربہ تھا، تاہم بادشاہت کے منصب پر فائز ہونے کی قلیل مدت کے بعد ہی ان کی صحت خراب ہونا شروع ہوگئی، شاہ سلمان کے ولی عہد امیر مقرن بھی بڑی عمر کے تھے، اس حقیقت کے پیش نظر شاہ سلمان نے امیر مقرن کو باور کرایا کہ اقتدار اب نئی نسل کو دینا ضروری ہے، اور امیر مقرن کو عہدہ سے ہٹا کر امیر نایف کے بیٹے محمد بن نایف کو ولی عہد اور اپنے بیٹے محمد کو نائب ولی عہد مقرر کردیا، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاہ سلمان کی خواہش تھی کہ بادشاہت ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں کو منتقل ہو، اور محمد بن نایف کی تقرری محض وقتی تھی۔ بہرحال محمد بن نایف پینٹاگون سے اپنے قریبی تعلقات کے زعم میں بادشاہ بننے کی خواب دیکھ رہے تھے، جبکہ دوسری طرف محمد بن سلمان ابوظبی کے ولی عہد اور امارات کے حقیقی حاکم محمد بن زاید کے ساتھ مل کر الگ ہی منصوبہ پر عمل پیرا تھے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق محمد بن زاید اور محمد بن سلمان نے ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں اس کی مالی امداد کی، جس کی وجہ تینوں شخصیات کی ہم آہنگی اور مشترکہ سیاسی سوچ تھی۔

تینوں شخصیات میں مشترکہ عوامل کیا تھے؟ محمد بن زاید کے بظاہر تین بڑے سیاسی مقاصد نظر آتے ہیں، خطہ اور عرب دنیا میں اماراتی اجارہ داری، مشرق وسطی میں اسرائیل سے منافرت کی ہوا کو ختم کرنا اور اسلامی سیاست کا خاتمہ۔ اماراتی اجارہ داری کے ثبوت سعودی عرب کے داخلی معاملات میں مداخلت، لیبیا میں خلیفہ خفتر کی بے جا حمایت اور یمن میں بندرگاہوں پر قبضہ کی شکل میں دیکھے جا سکتے ہیں، اسرائیل سے اماراتی تعلقات اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اسرائیلی وزیر کا حالیہ دورہ امارات اس کا ایک مظہر ہے اوراسلامی سیاست سے دشمنی مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت ختم کرنے میں عبدالفتاح السیسی کی مالی و سیاسی امداد کی صورت میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

محمد بن سلمان کا محمد بن زاید سے گہرا ذاتی تعلق ہے، محمد بن سلمان اسرائیل اور اسلامی سیاست سے متعلق محمد بن زاید کے نظریات سے متفق ہے، لیکن سعودی شہزادہ اپنے اماراتی دوست کے برعکس خارجی نفوذ کے بجائے داخلی طور پر طاقت و مال کا واحد مرکز بننا پسند کرتا ہے۔ امریکی صدر کو دونوں عرب شہزادوں کی صورت میں بہترین حلیف مل گئے جو امریکا کی خارجی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں مدد اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کھلے دل سے پیسہ خرچ کرنے کے لیے تیار تھے لہذا امریکی صدر نے اپنے تجارتی ذہن کے مطابق دونوں شہزادوں سے دو طرفہ مفادات کی بنیاد پر گہرا تعلق قائم کر لیا (یعنی ٹرمپ اپنے مفادات کے عوض امریکا کا بھاری وزن ان دونوں کے پلے میں ڈالنے پر راضی ہو گیا)۔

 

 

 

SOURCE