وفاقی وزیر زرتاج گل پہلی نشست پر جگہ نہ ملنے پر ایوان صدر میں منعقدہ تقریب چھوڑ کر چلی گئیں،انہوں نے ایوان صدر کے پروٹوکول عملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں وفاقی وزیر ہوں میرے لیے اگلی نشست میں جگہ کیوں نہیں رکھی؟نجی ٹی وی کے مطابق ایوان صدر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تقریب کے دوران وفاقی وزیر زرتاج گل پہلی قطار میں نشست نہ ملنے پر ناراض ہو گئیں اور تقریب چھوڑ کر چلی گئیں۔انہوں نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں وفاقی وزیر ہوں

میرے لیے اگلی نشست پر جگہ کیوں نہیں رکھی۔ایوان صدر کے پروٹوکول عملے نے زرتاج گل کو وضاحت پیش کی کہ آپ تاخیر سے آئی ہیں،کسی اور کو اٹھا کر آپ کے لیے نشست کا اہتمام نہیں کیا جا سکتا۔جس پر زرتاج گل برہم ہو گئیں اور تقریب کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان صدر سے رخصت ہو گئیں۔اس حوالے سے معروف صحافی وسیم عباس نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی تقریب میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی تقریب میں صدر مملکت کی آمد کے بھی بعد 36 منٹ لیٹ پہنچی جب پہلی صف پر جگہ نہ پائی تو غصے سے پاوں پٹخ کر تقریب چھوڑ دی۔انہوں نے مزید کہا کہ پروٹوکول آفسیر روکتے رہ گئے۔ وسیم عباسی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ زرتاج گل کی تقریب میں شرکت کے بغیر واپسی کے بعد پروٹوکول کے ایک افسر نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ رکیں۔ واپسی پر اسکے سینئر نے اسے ڈانٹ دیا۔۔’کیا ضرورت تھی روکنے کی؟‘