وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن نے جمعہ کو اذان سرکاری ریڈیو اورٹیلی ویژن سے براہ راست نشر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید مسلمانوں کی یاد میں جمعہ کو اذان سرکاری ریڈیو اورٹیلی ویژن سے براہ راست نشرکی جائے گی جب کہ سانحہ کرائسٹ چرچ پرجمعہ کونیوزی لینڈ میں 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔

وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ نسل پرستی سے انتہا پسندی کو بڑھاوا ملتا ہے، نیوزی لینڈ کے اسلحہ قوانین میں سقم موجود ہیں جنہیں دورکریں گے، میتوں کی جلد تدفین نہ ہونے پر ورثا کے دکھ درد کا پتہ ہے، دہشت گرد کے بجائےان لوگوں کو یاد رکھا جائے جو اس واقعہ میں بچھڑ گئے۔

اس سے قبل جیسنڈا آرڈرن نے کشمیری ہائی اسکول کا دورہ بھی کیا تھا۔ مساجد میں شہید شامی طالبعلم سمیت کئی افراد کا تعلق کشمیری ہائی اسکول سے تھا۔

گزشتہ روزبھی نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کا اجلاس کرائسٹ چرچ دہشت گردی کے تناظرمیں تلاوت کلام پاک سے ہوا جب کہ وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے اپنے خطاب کی ابتدا بھی السلام علیکم کہہ کرکی تھی۔

واضح رہے کہ 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں سفید فام عیسائی دہشت گرد نے دومساجد میں فائرنگ کرکے 50 معصوم مسلمانوں کو شہید اور کئی افراد کو زخمی کردیاتھا۔ شہدا میں 9 پاکستانی بھی شامل ہیں

نیوزی لینڈ حکومت نے سانحہ کرائسٹ چرچ کے شہدا اور متاثرہ خاندانوں کو خراج عقیدت پیش کیا، وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ جمعے کو ملک بھر میں مسلمانوں سے یوم یکجہتی منایا جائے گا اور جمعے کی اذان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر براہ راست نشر کی جائے گی۔

کوئی بچھڑ گیا تو کوئی جیتے جی مر گیا، لیکن نہیں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے شہدائے کرائسٹ چرچ کے لواحقین کو اپنے عمل سے باور کرا دیا ہے کہ وہ تنہا نہیں۔ انہوں نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ دہشت گرد کے بجائے جو لوگ بچھڑ گئے انہیں یاد رکھا جائے، نسل پرستی سے انتہا پسندی پھیلتی ہے، ہمیں سوشل میڈیا کے معاملے پر متحدہ محاذ بنانا چاہیے۔

جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ آئندہ جمعہ کو ملک بھر میں 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ جمعے کی اذان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر براہ راست نشر ہو گی۔ اسلحہ قوانین میں بے شمار خامیاں ہیں جنہیں دورکریں گے۔ نیوزی لینڈ شہدا کا گھر تھا انہیں محفوظ رہنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا میتوں کی 24 گھنٹے میں تدفین نہ ہونے پر لواحقین کے دکھ کا احساس ہے۔

وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن نے واضح کر دیا ہے کہ انہیں اپنے ملک پر توجہ دینی ہے، ٹرمپ کے جواب پر نہیں۔ اس سے قبل نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کی کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پارلیمنٹ میں السلام علیکم کے بعد تقریر کا اختتام کیا اور ہیلو برادر کے تاریخی الفاظ دہراتے ہوئے دین اسلام کو امن و آشتی اور اس کے پیرو کاروں کو امن کا علمبردار قرار دیا۔

واضح رہے کہ مسلمان نمازیوں کی شہادت کے بعد جو انسان دوست رویہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنایا اس کی دنیا بھر میں پذیرائی ہو رہی ہے۔