اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کرکٹ کی بہتری کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے تمام پلان مسترد کردیے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کرکٹ کی بہتری کیلئے اجلاس ہوا جس میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی اور سیکریٹری آئی پی سی اکبردرانی سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں کرکٹ کی موجودہ صورتحال اور ملک میں کرکٹ کے تنظیمی ڈھانچے پر بات چیت کی گئی جب کہ ملکی ٹیلنٹ کو اجاگر کرنےکے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیاگیا۔

اجلاس میں ہارون رشید کی جانب سے بریفنگ شروع کرنے پر وزیراعظم نے تبصرہ کیا کہ انہوں نے 40 سال کرکٹ کھیلی ہے، اس لیے کرکٹ پر بریفنگ نہ دیں، اگر کرکٹ ٹھیک کرنی ہے تو مصلحتوں سے باہر آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی سسٹم نے بھی پاکستان کرکٹ کو بہتر نہیں کیا، کھلاڑی صرف غیرمعمولی ٹیلنٹ پر آگے آتے ہیں اور سسٹم ان کی سپورٹ نہیں کرتا، یہ کونسا سسٹم ہےکہ پی ایس ایل جیتنے والی کوئٹہ کی ٹیم میں ایک بھی مقامی کھلاڑی نہیں تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے آسٹریلیا کی طرز پر فرسٹ کلاس کرکٹ کی صرف 6 ٹیمیں بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے دو ٹیمیں بنا کر باقی صوبوں سے ایک ایک ٹیم بنائی جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ جوسسٹم میں بتا رہا ہوں اس سے پاکستان کا مقابلہ دنیا کی کوئی ٹیم نہیں کرسکتی۔