بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وبائی امراض سے بچنے کے لئے دس نصیحتیں
تحرير: شيخ عبدالرزاق بن عبدالمحسن البدر حفظه الله

آج کل کرونا نام کی وبا پھیلنے کی وجہ سے لوگوں میں جو خوف ودہشت کا ماحول ہے اس کے پس منظر میں یہ چند مفید باتیں بطور نصیحت پیش کر رہا ہوں۔

1- مصیبت آنے سے پہلے یہ دعا کریں: « بِسْمِ اللَّهِ الذى لا يَـضُرُّ مع اسْمِهِ شَىْءٌ فى الأرضِ ولا فى السَّماءِ وهُوَ السَّميعُ العَليمُ»
فائدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص شام کو تین بار یہ دعا پڑھے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔ (سنن ابو داود حدیث نمبر 5088)

2- کثرت سے یہ دعا پڑھیں: «لاإله إلا أنت
سُبحانكَ إنِّي كُنتُ من الظالمين».
قال تعالى:{ وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (87) فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ} [الأنبياء:88]
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت { وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ} کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اہل ایمان کو بھی اللہ تعالی مشکل اور پریشانی سے نجات دلاتا ہے جب وہ اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں بالخصوص جب وہ پریشانی میں اس دعا کے ذریعے اللہ کو پکارتے ہیں۔
اس کے بعد حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہ حدیث نقل کی ہے: پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مچھلی والے یونس علیہ السلام کی اس دعا «لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين» کے ذریعے جس نے بھی کسی چیز کے لیے دعا کی ہے تو اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول فرمائی ہے۔ [أخرجه الإمام أحمد والترمذي].

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دنیاوی مشکلات اور پریشانیاں توحید باری تعالی کے ذریعے ہی دور کی جاتی ہیں۔ اسی لیے پریشانی کے وقت توحید کے ذریعے ہی دعا کی جاتی ہے۔ مچھلی والے یونس علیہ السلام کی دعا توحید ہی پر مشتمل ہے اس کے ذریعے کوئی بھی پریشان حال اللہ سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی کو دور کر دیتا ہے۔
واضح رہے انسان کو شرک ہی بڑی بڑی مشکلات میں ڈالتا ہے اور توحید ہی انسان کو ان مشکلات سے نجات دلاتا ہے۔ چنانچہ توحید دنیا کے تمام لوگوں کے لئے لیے پناہ گاہ اہ مضبوط قلعہ اور مدد کا ذریعہ ہے۔

3- مصیبت کی سختی سے پناہ مانگیں:
عن أبِي هُرَيرَةَ رضي الله عنه: «كان رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَـتَـعَـوَّذُ مِنْ جَهْدِ البلاءِ، ودَرَكِ الشَّقاءِ، وَسُوءِ القضاءِ، وشَماتَةِ الأَعدَاءِ».
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مصیبت کی سختی، تباہی تک پہنچ جانے، قضاء و قدر کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے سے پناہ مانگتے تھے۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر6347)

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مصیبت کی سختی، تباہی تک پہنچ جانے، قضاء و قدر کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 6616)

4- گھر سے نکلنے کی دعا پابندی سے پڑھیں : «بِسْمِ اللَّهِ، تَـوكَّلْتُ على اللَّهِ، لا حوْلَ ولا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ»
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر سے نکلے پھر کہے «بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» اللہ کے نام سے نکل رہا ہوں، میرا پورا پورا توکل اللہ ہی پر ہے، تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو آپ نے فرمایا: اس وقت کہا جاتا ہے ( یعنی فرشتے کہتے ہیں ) : اب تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی، اور تو بچا لیا گیا، ( یہ سن کر ) شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے، تو اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے: تیرے ہاتھ سے آدمی کیسے نکل گیا کہ اسے ہدایت دے دی گئی، اس کی جانب سے کفایت کر دی گئی اور وہ ( تیری گرفت اور تیرے چنگل سے ) بچا لیا گیا۔ (سنن أبي داود 5095)

5- صبح و شام اللہ سے عافیت کی دعا مانگیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ صبح و شام یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ العافِيَـةَ فـي الدُّنيا والآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ العَفْوَ والعافِيَـةَ فـي دِيني ودُنْـيايَ وأَهْلِي ومالِي، اللَّهُمَّ اسْتُـرْ عَوْراتِي، وآمِنْ رَوْعاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِـي مِنْ بَـيْنِ يَدَيَّ، ومِنْ خَلْفِي، وعَنْ يَمِيـنِـي، وعَنْ شِمالِي، ومِنْ فَوْقِي، وأَعُوذُ بِعَظَمَـتِكَ أَنْ أُغْتالَ مِنْ تَحْتِـي». [رواه أحمد وغيره].

6- کثرت سے دعائیں کریں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس کسی کے لیے دعا کا دروازہ کھولا گیا تو اس کے لیے ( گویا ) رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے، اور اللہ سے مانگی جانے والی چیزوں میں سے اللہ کو جو چیز سب سے زیادہ پسند ہے وہ یہ ہے کہ اس سے عافیت کی دعا مانگی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مزید فرماتے ہیں: بیشک دعا آئی ہوئی اور آنے والی ہر مصیبت میں فائدہ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ کے بندو دعا کو لازم پکڑو۔ (سنن ترمذی 3548)

7- جہاں وبا پھیلی ہوئی ہو ان جگہوں سے دور رہیں:
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لے جا رہے تھے۔ جب آپ مقام سرغ پر پہنچے تو آپ کو بتایا گیا کہ طاعون کی وبا شام میں پھوٹ پڑی ہے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپ کو یہ حدیث سنائی کہ جب تم کسی سر زمین میں ( وبا کے متعلق ) سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا آ جائے جہاں تم خود موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 5729)

ایک دوسری حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم فرماتے ہیں: مریض اونٹوں والا اپنے اونٹ تندرست اونٹوں والے کے اونٹ میں نہ چھوڑے۔ (بخاری حدیث نمبر 5774)

8- لوگوں کے ساتھ بھلائی اور احسان کریں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لوگوں کے ساتھ احسان اور بھلائی کرنے سے انسان بری موت اور آفات و مصائب سے محفوظ رہتا ہے۔ اور دنیا میں احسان کرنے والے لوگ ہی آخرت میں احسان کرنے والے لوگ شمار کئے جائیں گے۔[رواه الحاكم]

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بیماری کے لئے بہترین علاج یہ چیزیں بھی ہیں: بھلائی اور احسان کرنا، ذکر و اذکار اور دعا کرنا، اللہ کے حضور توبہ کرنا، رونا اور گریہ و زاری کرنا۔ بیماریوں کو دور کرنے اور شفایابی کے حصول میں ان چیزوں کی تاثیر عام دواؤں کی تاثیر سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ مگر یہ تاثیر انسانی نفس کے استعداد، اسے قبول کرنے اور اس کے ایمان و یقین کے بقدر ہی حاصل ہوتی ہے۔

9- قیام اللیل کا اہتمام کریں: بلال رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( تم رات کا قیام ضرور کیا کرو ، اس لیے کہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی یہی عادت تھی ، نیز یہ قیام اللہ سے قربت کا ذریعہ، معاصی سے روکنے والا، گناہوں کے لیے کفارہ اور جسم سے بیماریوں کو دور کرنے کا سبب ہے۔) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 3549 )

10- کھانے پینے کے برتن کو ڈھک کر رکھیں: جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ برتن ڈھک کر اور مشکیزہ بند کر کے رکھو کیونکہ سال میں ایک ایسی رات ہوتی ہے جس میں میں وبا نازل ہوتی ہے اور وہ جس بھی کھلے برتن یا مشکیزے سے گزرتی ہے اس میں میں نازل ہو جاتی ہے۔ (صحیح مسلم 2021)
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حقیقت کا ادراک ڈاکٹر وں کے علوم و معارف نہیں کرسکتے۔

لہذا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام امور و معاملات کو اللہ کے سپرد کرے۔ اسی سے فضل و کرم کی امید رکھے اور اسی پر بھروسہ کرے کیونکہ سارے امور و معاملات اللہ کے ہاتھ میں اور اسی کے تابع ہیں۔ اور پیش آنے والے تمام مصائب و مشکلات میں صبر و احتساب سے کام لے کیونکہ صبرو احتساب سے کام لینے والوں کے لئے اللہ تعالی نے بڑے اجروثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ} [الزمر:10]. صبر کرنے والوں کو اللہ تعالی بے حساب اجر و ثواب سے نوازتا ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے بھیجتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا ہے۔ اگر کسی شخص کی بستی میں طاعون پھیل جائے اور وہ صبر کے ساتھ اللہ کی رحمت سے امید لگائے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے کہ ہو گا وہی جو اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھا ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔ [أخرجه البخاري 3474].

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی اللہ ہم سب کو اپنی محبت و خوشنودی کے نیک کام اور اچھی بات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بےشک اللہ تعالی سچی بات کہنے والا اور سیدھا راستہ دکھانے والا ہے۔

والحمد لله وَحْدَه، وصلَّى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم .