لندن: سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان برطانیہ کے 2 ہفتے کے دورے پر لندن پہنچے ہیں جس میں وہ اپنا طبی معائنہ بھی کروائیں گے لیکن نواز شریف اور شہباز شریف کے بھی لندن میں موجود ہونے کی وجہ سے قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ وہ پارٹی قائدین سے اہم ملاقات کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دورے سے قبل مقامی میڈیا کی رپوٹس میں کہا جارہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن شریف برادران سے اہم ملاقاتیں کریں گے جس میں سیاسی صورتحال پر گفتگو کی جائے گی بلکہ خبریں یہ بھی تھیں کہ سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے دونوں فریقین کے درمیان رابطہ کروانے میں کردار ادا کیا۔

تاہم ذرائع نے اسے انتہائی غیر ممکنہ قرار دیا کیوں کہ پارٹی کا انہیں دوبارہ شامل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، اس ضمن میں ذرائع نے کہا کہ ’یہ انتہائی مشکل کام ہے اور مستقبل قریب میں مجھے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا‘۔

حالانکہ چوہدری نثار کی اسحٰق ڈار اور شہباز شریف کے ساتھ طویل رفاقت تھی لیکن پارٹی سے نکلنے کے بعد ان کا مسلم لیگ (ن) کے کسی رکن کے ساتھ کوئی میل جول نہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری نثار کے کھلے عام شریف برادران اور مریم نواز کے خلاف دیے گئے بیانات سے جو نقصان ہوا ہے وہ ایک دورے سے دور نہیں ہوسکتا اور یہ قیاس آرائیاں غلط ہیں کہ چوہدری نثار پارٹی میں دوبارہ شمولیت کے لیے لندن آئے ہیں کیوں کہ انہوں نے ایسی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔

خیال رہے کہ چوہدری نثار نے 34 سالہ رفاقت کے بعد مسلم لیگ (ن) سے اپنی راہیں جدا کرلی تھیں، پارٹی سے رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے کھلے عام شریف برادران کے فیصلوں پر ناراضی کا اظہار کیا تھا جبکہ ان کی خاموشی کو بہت سے افراد پارٹی چھوڑنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے سے تعبیر کررہے تھے، آخری مرتبہ وہ بیگم کلثوم نواز کے جنازے میں شرکت کے وقت دیکھے گئے تھے۔

حالانکہ بہت سے افراد کو توقع تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما، نواز شریف کی عیادت کرنے جائیں گے لیکن ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی جانب سے ملاقات نہ کرنے کا اشارہ دے دیا گیا تھا جبکہ شہباز شریف اس وقت تک ان سے کوئی سیاسی گفتگو نہیں کریں گے جب تک ان کے بڑے بھائی اپنا ذہن نہ بدل لیں۔

تاہم اسحٰق ڈار، شہباز شریف اور چوہدری نثار کے درمیان ملاقات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جارہا اور سابق وزیر داخلہ کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف کریں گے۔

یاد رہے کہ چوہدری نثار اور شریف برادران کے درمیان اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے تھے جب سابق وزیر نے کہا تھا کہ وہ انتخابی ٹکٹ کے لیے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی کمیٹی سے بھیک نہیں مانگیں گے۔

اس کے علاوہ انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے ’خاندانی جماعت‘ بننے پر بھی تنقید کی تھی جس پر انہوں نے کہا تھا کہ میں کبھی پارٹی چھوڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن اب پارٹی میں رہنا مشکل ہے۔

بعدازاں چوہدری نثار نے 2018 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور پنجاب اسمبلی کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے تاہم انہوں نے اب تک رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا۔

لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچنے پر صحافیوں کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں تبدیلی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ یہ بات ’غیر متعلقہ‘ ہے کہ کون وزیراعظم بن رہا ہے اور کون وزیراعلیٰ، سب سے اہم بات ملک کا سیاسی اور معاشی اعتبار سے مستحکم ہونا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے دور دور تک کوئی حل نظر نہیں آتا، ملک کی تاریخ میں ایسی معاشی صورتحال کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔

چوہدری نثار کے دورہ لندن کی افواہوں کے درمیان سوشل میڈیا پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر جنرل آصف غفور کی لندن میں موجودگی کی ایک ویڈیو کلپ پر بھی مختلف تبصرے کیے جارہے تھے۔

تاہم پاک فوج کے ذرائع نے مذکورہ ویڈیو کلپ کو ’جعلی خبر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی رپورٹس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ چکری سے تعلق رکھنے والے 64 سالہ سیاستدان چوہدری نثار علی خان نے 1988 میں اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا تھا جس کے بعد وہ نواز شریف کے قریبی ساتھی بن گئے تھے اور 1993 کے انتخابات کے بعد رکنِ قومی اسمبلی بنے تھے اور نواز شریف کی قیادت میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھے تھے۔

1997 میں وہ وزیر پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے منصب پر فائز ہوئے اور اس وقت وہ پارٹی قیادت کے بعد سب سے طاقتور رکن سمجھے جاتے تھے۔

1999 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد انہیں گھر میں نظر بند کیا گیا تھا لیکن انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ نہیں چھوڑا اور 2002 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔

2013 میں انہوں نے رکن قومی اسمبلی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ جبکہ صوبائی نشست کے لیے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا اور دونوں پر کامیاب ہونے کے بعد نواز شریف کی حکومت میں وزیر داخلہ بن گئے تھے۔