پلوامہ حملے میں پاکستان پر الزامات عائد کرنے والی بھارتی حکومت کو اب اپنے ہی ملک میں الزامات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور بھارتی سیاستدان نہ صرف پلوامہ حملے پر سوالات اٹھارہے ہیں بلکہ مودی سرکار کو اس کا قصور وار بھی ٹھہرا رہے ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق ہندو انتہا پسند تنظیم مہاراشٹر نَوونِرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی پلوامہ حملے پر سوال اٹھادیے ہیں اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو تفتیش کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق راج ٹھاکرے نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول سے تحقیقات کی جائیں تو پلوامہ حملے کی حقیقت سامنے آجائے گی۔

ہندو انتہا پسند تنظیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے میں مارے گئے فوجی سیاسی متاثرین ہیں، حکومتیں سیاسی مقاصد کیلئے ایسے کام کرتی ہیں لیکن مودی حکومت میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا۔

راج ٹھاکرے نے اپنے ہی وزیراعظم مودی پر الزام لگایا کہ جب پلوامہ حملے کی خبر آئی تو مودی ایک فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے اور خبر ملنے کے باوجود بھی شوٹنگ میں ہی مصروف رہے۔

بھارت کے سماجی رہنما بھی مودی کیخلاف پھٹ پڑے

دوسری جانب بھارت کے سماجی رہنما ومن میشرام نے بھی پلوامہ حملے پر مودی کے خلاف شارج شیٹ جاری کردی۔

ومن میشرام نے کہا کہ پلوامہ حملہ مودی سرکار نے خود کرایا اور سوالوں کا جواب نہیں تو معاملہ پاکستان کی طرف ڈال دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت 8 دن پہلےجانتی تھی ان لوگوں کو مارا جائے گا، حکومت کے پاس انٹیلی جنس کی رپورٹ تھی، کابینہ کمیٹی کے سیکیورٹی اجلاس میں سب کو پتا تھا، اب بچانے کے بجائے مروایا اور نام پاکستان کا لے رہے ہو۔