ملک میں ایک نیا فتنہ سر اُٹھا رہا ہے۔ فرمایا “مومن اپنے آپ کو ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسواتا”، ہم مگر ایک ہی سوراخ سے دوبار بلکہ سہ بار نہ ڈسے جائیں تو ہمارا ایمان کامل ہوتا ہے نہ دل و دماغ مطمئن۔ بہتر سالہ تاریخ میں ناکام تجربوں کا ریکارڈ ہم نے قائم کیا اور باز اب تک نہیں آئے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں کی بحالی کا جوش ہمیں اس وقت چڑھا جب مولانا کے آزادی مارچ اور دھرنے کے بعد آرمی چیف کے تقرر کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوا، پورے ملک نے سکھ کا سانس لیا اور ہر طرف سے حکومت کو مشورہ ملا کہ وہ اب معیشت کی بحالی، سیاست میں استحکام اور بہتر کارگزاری سے خاک نشینوں کے دکھ کا درماں کرے، پاکستان میں یونینوں پر 1984ء میں پابندی لگی، وجہ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا نہ فوجی ڈکٹیٹر کا اندرونی خوف۔ 1977ء سے 1984ء تک کامل سات سال فوجی آمریت طلبہ یونینوں کو برداشت کرتی رہی، تعلیمی ادارے مختلف طلبہ تنظیموں اور منتخب یونینوں کی باہمی چپقلش، مار دھاڑ اور دادا گیری کا مرکز بنے رہے، کسی نے تعرض نہ کیا، طلبہ یونینوں سے حکومت کو خطرہ تھا نہ باہم دست و گریباں سیاسی جماعتیں اس قابل کہ وہ اپنی بغلی طلبہ یونینوں کو حکومت کے خلاف استعمال کر سکیں۔ جنرل ضیاء الحق 1983ء میں ہی 1985ء کو عام انتخابات کا سال قرار دے چکے تھے، ایم آر ڈی کی احتجاجی تحریک میں دم خم باقی نہ رہا تھا اور بلدیاتی اداروں کی شکل میں فوجی حکومت کو کسی نہ کسی حد تک سیاسی سپورٹ حاصل تھی، طلبہ یونینوں پر پابندی کا سبب تعلیمی اداروں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال تھی اور امتحانی نظام میں تعطل کی بنا پر نوجوان نسل کا مخدوش مستقبل۔

لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں پر مختلف سیاسی، لسانی اور نسلی جماعتوں کی بغل بچہ تنظیموں کا قبضہ تھا جن کے سرفروشوں کے ہاتھوں اساتذہ کی عزت محفوظ تھی نہ طلبہ کی جان اور نہ تعلیمی اداروں کے اردگرد شہری املاک۔ طلبہ کے داخلوں، اساتذہ کے تقرر و تبادلوں اور امتحانات کے انعقاد میں یونینوں اور منتخب طلبہ نمائندوں کا عمل دخل اس حد تک بڑھ گیا کہ وائس چانسلر بے بس اور دیگر عملہ یرغمال نظر آتا تھا، انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور پروفیشنل کالجوں کے امتحانات ایک ایک ڈیڑھ ڈیڑھ سال تاخیر سے منعقد ہوتے اور امتحانی مراکز کو سرکش عناصر کی دستبرد سے بچانے کے لیے پولیس ورینجرز تعینات کرنا پڑتی۔ طلبہ یونینوں کے طفیل ہزاروں نہیں تو سینکڑوں طلبہ ضرور قتل ہوئے اور درجنوں باعزت اساتذہ تذلیل کا نشانہ بنے۔ طلبہ یونینوں نے تعلیمی اداروں، تعلیمی نظام اور نوجوان نسل کو کیا فائدہ پہنچایا؟ آج تک کسی نے نفع نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا مگر یہ حقیقت ہے کہ فوجی آمر نے یونینوں پر پابندی عائد کی تو ہر ذی شعور شہری بالخصوص والدین نے سکھ کا سانس لیا، تب سے اب تک تعلیمی اداروں میں امتحانات وقت پر ہوتے ہیں، اساتذہ اپنے تقرر و تبادلے کے لیے زیر تعلیم شاگردوں کے محتاج نہیں، کلاسوں کا بائیکاٹ معمول نہیں اور تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز جرائم پیشہ افراد کے اڈے ہیں نہ کسی کالج کے دروازے پر لیڈران کرام اور ان کے گماشتہ ویگنوں، بسوں اور ٹرکوں کے ڈرائیوروں سے بھتہ وصول کرتے نظر آتے ہیں۔ مہذب معاشروں میں یونین طبقاتی مفادات کے تحفظ اور اپنے ارکان کے حقوق کی پاسداری میں سرگرداں نظر آتی ہیں، طلبہ یونینوں کے مقاصد اگر فوائد پر بھاری نہ ہوں تو بحالی میں حرج نہیں مگر ماضی کا تلخ تجربہ؟

طلبہ یونینوں کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس طرح سیاسی قیادت کو ابھرنے کا موقع ملتا ہے، نوجوان نسل کی انتخابی تربیت ہوتی اور تعلیمی اداروں میں انتظامیہ من مانی سے باز رہتی ہے۔ حقیقت حالانکہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت کی نشو و نما اور انتخابی تربیت کے ادارے طلبہ یونین نہیں، بلدیاتی ادارے ہیں۔ جنہیں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے دورمیں ہمیشہ معطل ہی رکھاگیا، یہ ادارے آزادی، اطمینان اور مکمل انتظامی و مالیاتی اختیارات کے ساتھ صرف فوجی ادوار میں پروان چڑھے اور انہی سے آغاز کر کے نئی سیاسی قیادت قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک پہنچی۔ طلبہ یونینوں سے جتنے قومی لیڈر پیدا ہوئے ان سے دوگنے بلکہ کہیں زیادہ جرائم پیشہ افراد نے جنم لیا، لاہور میں کم و بیش نصف درجن طلبہ لیڈر پولیس مقابلوں میں مارے گئے کہ یہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، منشیات فروش اور قتل و غارت گری میں ملوث گروہوں کے سرغنہ تھے اور شہر کا امن و امان درہم برہم کر دیا تھا۔ کراچی میں تیس سال تک جس خونخوار مافیا کا قبضہ رہا اس نے طلبہ سیاست سے جنم لیا اور عروس البلاد کو تباہ کر دیا، یونیورسٹیوں کے وسائل، افرادی قوت اور قانونی تحفظ سے فائدہ اٹھا کر سیاسی، نسلی اور لسانی تنظیموں نے اپنے آپ کو مضبوط کیا، معاشرے کو یرغمال بنایا اور قوم کا مستقبل تباہ کر دیا، مگر کسی کو احساس ہی نہیں۔ طلبہ یونینوں پر پابندیوں کے بعد سے سیاسی جماعتیں سٹریٹ پاور سے محروم کیوں نظر آتی ہیں؟ جماعت اسلامی سمیت کوئی سیاسی و مذہبی جماعت احتجاجی تحریک چلانے اور نظام زندگی معطل کرنے سے قاصر کیوں ہے؟ یہ طلبہ یونین اور ان کی قوت و دہشت سے خوفزدہ غریب و متوسط گھرانوں کے طلبہ ہوتے تھے جو ایجی ٹیشن کے دوران سرکاری مشینری کے مقابل بروئے کار آتے اور مختلف حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ صرف سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں کی بحالی پر اصرار کیوں؟ کیا نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کی سیاسی تربیت ضروری نہیں، قیام پاکستان سے 1984ء تک تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین موجود تھی مگر اشرافیہ کے لیے مخصوص ایچی سن کالج جیسے کسی تعلیمی ادارے میں وجود ندارد، محض اس لیے کہ بالائی طبقات غریب کے بچوں کو اپنی سیاست کا ایندھن بنانا حق سمجھتے ہیں مگر اپنے بچوں کو اس سے دور رکھنا فرض۔ طلبہ یونینوں کی بحالی کا شوشہ اس وقت چھوڑا گیا جب پی ٹی ایم، ایم کیو ایم لندن گروپ، بی ایل اے جیسی نسلی اور لسانی تنظیموں کو عوام نے مسترد کیا اور پاکستان میں مذہبی، لسانی، علاقائی، نسلی بنیادوں پر تفریق و تعصب کی کوششیں ناکامی سے دو چار ہیں، مولانا کا آزادی مارچ برگ و بار نہیں لا سکا اور پاکستان سیاسی و معاشی استحکام کی منزل کی طرف گامزن ہے، ہمارے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت تعلیمی اصلاحات کے ذریعے یکساں نصاب تعلیم اور امیر و غریب کے لیے حصول علم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی جدوجہد میں کامیاب نہ ہونے پائے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ طلبہ تنظیموں کی بحالی کا بیڑا “جب لال لال لہرائے گا” اور “ایشیا سرخ ہے” کے نعرے لگانے والے گروہ نے اٹھایا۔ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک نوجوان کو کتا بنا کر اس کی باگ تین نوجوان لڑکیوں نے تھامی اور ریاست میں مذہب اور فوج کا عمل دخل ختم کرنے کے نعرے بلند ہوئے۔ ان سرگرمیوں کا طلبہ یونینوں سے کیا تعلق؟ حیران کن طور پر عمران خان کے بعض ساتھی اس تحریک کی حمایت میں باولے ہوتے پھرتے ہیں اور سوچنے کو تیار نہیں کہ سرکاری تعلیمی ادارے اگر مسلکی، لسانی، نسلی اور علاقائی طلبہ تنظیموں کے مورچے بن گئے تو کئی الطاف حسین، بیت اللہ محسود، منظور پشتین، براہمداغ بگٹی، حربیار مری ان تنظیموں کی کوکھ سے جنم لیں گے، جن سے نمٹنا کارے دارد ہو گا۔ اگر طلبہ میں اجتماعیت پیدا کرنے، انہیں مقابلے کا عادی بنانے اور ان کی علمی، ادبی، تحریری، تقریری تنظیمی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم فراہم کرنا ضروری ہے تو ڈیپارٹمنٹ کی سطح پر سوسائیٹیوں کی تشکیل کا تجربہ کیا جائے بشرطیکہ سیاسی جماعتوں اور تنگ نظر مسلکی، نسلی، لسانی تنظیموں کو لچ تلنے کی اجازت نہ ہو، لیکن طلبہ تنظیموں کا احیا؟ الحذر الحذر۔