نوشہرہ ریپ

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں آٹھ سالہ بچی کے قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزمان میں سے ایک نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے جبکہ عدالت نے ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

زیارت کاکا صاحب نامی گاؤں میں عوض نور نامی بچی کے قتل کا واقعہ سنیچر کو پیش آیا تھا اور سنیچر کی رات ہی پولیس کو بچی کی لاش ملی تھی جس کے بعد پولیس ملزمان کی تلاش میں تھی تاہم بچی کے لواحقین نے ہی ان ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔

ان ملزمان کو منگل کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انھوں نے اپنے بیان ریکارڈ کروائے جن میں ابدار نامی ایک ملزم نے قتل کا اعتراف کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی کو گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے اور اس کے جسم پر معمولی تشدد کے نشانات بھی ہیں تاہم ریپ کیے جانے کی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کی بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔

مقتولہ کے چچا ریاض علی شاہ کاکا خیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بچی روزانہ سہ پہر تین بجے سپارہ پڑھنے اپنی بہن کے ساتھ جاتی تھی۔ اس روز بھی پڑھ کر واپس آئی تو یہ ابدار نامی لڑکا راستے میں کھڑا تھا۔ اس نے اسے چیزیں دلانے کا لالچ دیا۔ چھوٹی بہن گھر چلی گئی اور وہ اسے بہلا پھسلا کر ساتھ لے گیا ۔ اس کے بعد یہ لاپتہ ہو گئی۔‘

نوشہرہ ریپ
Image captionپانی کی وہ ٹینکی جہاں سے بچی کی لاش ملی

انھوں نے بتایا کہ شام ہونے پر گھر والے دادا کے گھر تلاش کرنے آئے کہ شاید وہ وہاں آئی ہو لیکن نہ وہ یہاں تھی اور نہ نانا کے گھر تھی۔

’اس کے بعد ہم نے مسجد میں اعلان بھی کروایا۔ پھر ہم سب نے تلاش شروع کر دی۔ یہ واردات کرنے والا لڑکا بھی ہمارے ساتھ مل کر تلاش کرتا رہا۔‘

بچی کے چچا نے بتایا کہ یہ لڑکا انہیں گمراہ کرتا رہا ان کے بقول ’یہ ہم سے کہتا میں نے اسے وہاں دیکھا تھا کبھی کہتا وہاں دیکھا تھا۔ پھر نور کے ساتھ جانے والی اس کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ یہی لڑکا اسے اپنے ساتھ لے کر گیا تھا۔ پھر ہم نے اسے پکڑ لیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ملزم ابدار بچی کے بارے میں پھر بھی نہیں بتانا چاہتا تھا۔ ’پھر بھی یہ یہاں وہاں کرتا رہا لیکن تلاش کرنے پر بچی کا دوپٹہ مل گیا اور وہاں سے سراغ ملا کہ بچی پانی کی ٹینکی میں تھی۔ ہم نے اسے نکالا۔‘

اس نے پکڑنے کے بعد تفتیش پر بتایا کہ ایک رفیق نامی ٹیکسی والا بھی اس کے ساتھ ہے۔

نوشہرہ ریپ

چچا نے بتایا کہ ’ہمارے بڑوں نے فیصلہ کیا کے قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے اور دونوں کو پولیس کے حوالے کیا۔ ‘

انھوں نے بتایا کہ جس جگہ سے بچی کی لاش ملی وہ ان کے گھر سے محض دس منٹ کے فاصلے پر تھی لیکن یہ جگہ نسبتاً خالی اور ویران تھی جہاں درخت تھے۔

ریاض علی شاہ نے بتایا کہ یہ لڑکا ان سمیت مقامی افراد کے گھروں میں کام کرتا تھا اور اس کی عمر 18 سال کے لگ بھگ ہے جبکہ شریک جرم رفیق نامی شخص قریباً 35 برس کا ہے۔

کیا پتا تھا ساری باتیں ختم ہو جائیں گی!

بچی کے والد اسجد جہاں سات سال سے سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں۔ وہ مسلسل اشک بار تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا جب وہ مجھے گڈ مارننگ اور سلام کا پیغام نہ بھیجتی ہو۔‘

انھوں نے بتایا ’میں نے اس ماہ کی 25 تاریخ کو واپس آنا تھا۔ جس پر وہ بہت خوش تھی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ میرے لیے چاکلیٹ اور جوتے لانا۔‘

نوشہرہ ریپ

واقعے سے کچھ دیر پہلے نور سے ہونے والے اپنی آخری ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ اسجد جہاں کا کہنا تھا ’وہ جلدی میں تھی کہنے لگی کھانا کھا کر مدرسے جا رہی ہوں واپس آ کر بات کروں گی۔ مجھے کیا پتا تھا کہ اس کے بعد ساری باتیں ہی ختم ہو جائیں گی۔‘

قانون سازی کا وعدہ

صوبے کے وزیر اعلی محمود خان بھی منگل کو بچی کے لواحقین سے ملنے گئے ۔ اس موقعے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ انھوں نے وزیرِ اعلی سے شکایت کی کہ اس سے پہلے بھی نوشہرہ کلاں میں مناہل نامی بچی کا بھی ریپ اور قتل ہوا تھا لیکن حکومت نے کوئی سخت اقدامات نہیں کیے۔

اس موقعے پر وزیر اعلی نے اس حوالے سے سخت قانون سازی کا وعدہ کیا۔

علاقے کے لوگوں نے کہا کہ آپ تو ریاست مدینہ کے قیام کے وعدے کر رہے ہیں لیکن یہاں ایسا ہو رہا ہے تو اس پر وزیر اعلی نے کہا ’ریاست مدینہ بھی کوئی دو دن میں بھی نہیں بنی تھی۔ صحافیوں، سول سوسائٹی اور سب کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔‘

بی بی سی اردو