ججز کو جادو ٹونے سے بچنے کے لیے وظیفہ بتا دیا گیا، ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے ججز کو جاود سے بچاؤ کے لیے وظیفہ بتا دیا، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جادو برحق ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایاہے،اور کوئی جتنا بھی کچھ کر لے جادو کر لے اگر میرا تعلق اللہ سے ہے تو میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ دوسری بات یہ کہ حکومت ہے،

عدالتیں ہیں نظام ہے، اللہ تعالی نے جہاں جادوگروں کو جادوگری سکھائی ہے تو رب تعالیٰ نے اس نظام کی حفاظت کے لیے بھی سسٹم بنایا ہوا ہے، اگر ایسے ہی جادو چلنے لگے تو پھر بنگلہ دیش اس وقت پوری دنیا پر حکومت کر رہا ہوتا۔ مولانا اشرفی نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کا تسبیح پڑھنا اور پھونکیں مارنا حق ہے تاکہ ان کے حق میں فیصلے نرم ہوں، اب نہ جانے ان کو یہ تسبیح بنگال سے آئے ہوئے کسی جادوگر نے بتائی ہے یا پھر مولانا طارق جمیل نے تسبیح بتائی ہے، انہوں نے کہاکہ چند دن پہلے طارق جمیل گئے تھے اور انہوں نے وظائف بتائے تھے۔ مولانا اشرفی نے کہا کہ قرآن و حدیث کے مطابق وظائف کرنا درست ہے لیکن ان کے علاوہ کوئی عمل کیا جائے تو وہ شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خبر کی حد تک تو تبصرہ ہو سکتا ہے، کوئی شر اور شیطانی چیز انسان پر حاوی نہیں ہو سکتی اگر کسی انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور اس پر یقین کامل ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی جادوگر کسی عدالت یا جج پر اثر انداز ہو سکتا ہے کیونکہ عدل و انصاف کے اس نظام کی حفاظت اللہ تعالیٰ خود کرتا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور مریم نواز نے کیسز سے بچنے کے لیے بنگالی جادوگروں سے ٹوٹکے سیکھے ہیں، جب پروگرام کے میزبان نے جج اور واجد ضیاء کے بارے میں بات کی تو مولانا اشرفی نے کہا کہ وہ چاروں قل اور آیت الکرسی پڑھ لیا کریں ان پر کچھ بھی اثر انداز نہیں ہوگا۔