پریس کلب باہر دھرنا دینے والوں نے جمعرات کو وفد کی صورت میں منصور پشتون کی قیادت میں ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات کی۔ملاقات کے بعد وفد نے بتایا کہ نقیب اللہ محسود سمیت چار افراد کی ماروائے عدالت ہلاکت کے ذمہ دار سابق ایس ایس پی رائو انوار

سمیت دیگر افراد کی گرفتاری کیلئے فوج کی طرف سےضمانت دینے کی درخواست کی ۔ملاقات کر کے آنے والے وفد نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون شکنوں کے خلاف بھر پور کارروائی میں معاونت کریں گے ۔ وفد نے بتایا کہ منصور پشتو ن کی قیادت میں 11رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مشاورت کے بعدمطالبات کے حصول کیلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریگی ۔ واضح رہے کہ مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نقیب محسود کے قتل کیس کو ہائی پروفائل مقدمے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود قتل کیس زیرسماعت ہے جب کہ آئی جی سندھ کو ملزم راؤ انوار کی گرفتاری کے لئے دس روز بھی مہلت دی گئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے کے 2 گواہوں کو ‘وٹنس پروٹیکشن ایکٹ’ کے تحت سیکورٹی فراہم کی گئی ہے اور دونوں عینی شاہدین کی حفاظت کے لئے 5 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گواہوں کی محفوظ اور خفیہ رہائش کا انتظام اور شناخت کی تبدیلی کے مراحل ابھی باقی ہیں جب کہ وٹنس پروٹیکشن ایکٹ کے تحت گواہوں کے لیے دیگر سیکورٹی اقدامات نہیں کیے گئے۔ذرائع کے مطابق وٹنس پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عینی شاہدین کو عدالت تک فول پروف سیکیورٹی میں لانا ہوتا ہے تاہم اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے باوجود وٹنس پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ کے لئے فنڈز موجود نہیں ہیں۔